نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی عمارت جب ہر سال یکم دسمبر کو سرخ ربن کی روشنی سے جگمگاتی ہے تو دنیا کے ہر ملک کو ایک خاموش مگر گہرا پیغام دیتی ہے کہ ایڈز کی جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق ایڈز سے متاثرہ افراد کی تعداد تقریباً چار کروڑ تک پہنچ چکی ہے جبکہ صرف گزشتہ سال چھ لاکھ 50 ہزار افراد جان کی بازی ہار گئے۔ عالمی برادری نے 2030ء تک ایڈز کے خاتمے کا عہد تو کر رکھا ہے مگر موجودہ رفتار دیکھ کر یہ ہدف ایک خواب سا معلوم ہوتا ہے۔پاکستان کے نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام کے مطابق صرف 2025ء تک کے ڈیٹا میں 53 ہزار سے زائد کیس رجسٹر ہوئے لیکن علاج لینے والوں کی تعداد 33 ہزار سے بھی کم ہے۔ یعنی ہزاروں ایسے لوگ موجود ہیں جو بیماری کے ساتھ جیتے بھی ہیں اور جانے انجانے میں اسے دوسروں تک منتقل بھی کر رہے ہیں۔ یہ وہی خطرہ ہے جس نے عالمی اداروں کو تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے۔پنجاب کے 45 مراکز میں مفت ادویات، مفت PCR اور CD4 ٹیسٹ اور ماہرانہ مشاورت فراہم کی جا رہی ہے۔ لیکن سب سے اہم قدم پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام کا وہ جامع نظام ہے جس نے پنجاب کو دوسرے صوبوں سے ممتاز کیا ہے۔اس پروگرام کا مقصد صرف علاج فراہم کرنا نہیں بلکہ نئے انفیکشنز کو روکنا، خطرے کے علاقوں اور طبقات کی نشاندہی کرنا اور معاشرے میں ایسا ماحول بنانا ہے جہاں ایڈز کے مریض خوف کے بغیر علاج کرا سکیں۔ پروگرام خاص طور پر Injecting Drug Users، Female Sex Workers، Transgender کمیونٹی اور دیگر ہائی رسک گروپس پر توجہ دیتا ہے۔ پنجاب میں جیلوں میں اسکریننگ، ٹرک ڈرائیورز کی ٹیسٹنگ، مفت ویکسینیشن اور ہیپاٹائٹس کے علاج جیسے اقدامات پہلے کبھی اس سطح پر نہیں ہوئے تھے۔
پنجاب کا سب سے بڑا سنگِ میل پاکستان کی پہلی BSL-3 لیبارٹری ہے جو نہ صرف HIV کی تشخیص،بلکہ جدید ترین جین ریزسٹنس ٹیسٹنگ تک کی سہولت فراہم کرتی ہے۔ یہ وہ سائنسی صلاحیت ہے جس کی بنیاد پر صوبہ عالمی معیار کے مطابق HIV کنٹرول کر سکتا ہے۔ فاؤنٹین ہاؤس میں ملک کا پہلا ٹرانس جینڈر کلینک قائم کرنا بھی ایک تاریخی پیش رفت ہے جس نے ایک انتہائی نظر انداز طبقے کو باعزت اور بامقصد صحت تک رسائی دی۔پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام کے تحت جعلی ڈاکٹروں کے خلاف بھرپور کارروائیاں کی گئیں، سرنجوں کے دوبارہ استعمال کو روکنے کے لئے بڑے آپریشن کیے گئے اور ہسپتال ویسٹ مینجمنٹ کے جدید پروٹوکول نافذ کیے گئے یہی وہ اقدامات ہیں، جنہوں نے پنجاب کو اس خطرناک وائرس کے مقابلے میں نسبتاً مضبوط رکھا۔
ایڈز کے بارے میں سب سے بڑی خوشخبری یہ ہے کہ جدید میڈیکل ریسرچ نے ثابت کر دیا ہے کہ اگر کسی مریض کا علاج 72 گھنٹوں کے اندر شروع کر دیا جائے تو وائرس کے جسم میں پھیلنے کا عمل تقریباً رک جاتا ہے۔ باقاعدگی سے دوائیاں لینے والا مریض عام زندگی گزار سکتا ہے اور اس سے وائرس کسی دوسرے شخص کو منتقل ہونے کا خطرہ بھی نہ ہونے کے برابر رہ جاتا ہے۔ یہی وہ اُمید کی کرن ہے جو مریضوں کو زندگی کی طرف واپس لا سکتی ہے۔پنجاب حکومت کے اقدامات نے ایڈز کے خلاف جدوجہد میں ایک واضح سمت اور عملی مثال فراہم کی ہے۔ مفت ادویات، جدید لیبارٹریز، ٹرانس جینڈر کلینک، جیلوں اور ہائی رسک گروپس میں اسکریننگ اور سرنجوں کے دوبارہ استعمال کے خلاف اقدامات نے نہ صرف وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں مدد دی بلکہ معاشرے میں مریضوں کے لئے ایک محفوظ اور باعزت ماحول بھی پیدا کیا۔ ایسے تمام افراد جو ایچ آئی وی/ایڈز کے شکار ہیں یا جنہیں اپنے مرض کا شبہ ہے، فوراً کسی مستند مرکز پر رجوع کریں اور باقاعدگی سے علاج کروائیں۔ یاد رکھیں وقت پر علاج نہ صرف آپ کی زندگی بچاسکتا ہے بلکہ آپ دوسروں کو وائرس منتقل ہونے سے بھی محفوظ رکھ سکتے ہیں۔
٭٭٭٭٭
(0)Comments