Download the Applications
Get it on Google PlayDownload on the App Store
لاگ آؤٹ
Privacy Policy Terms and Condition
NewsHunt
نسیم شاہد
language
عوام کے لئے صرف طفل تسلیاں

 مسندِ اقتدار پر جوبھی بیٹھ جائے، اس کے تو کملے بھی سیانے ہو جاتے ہیں، ویسے محاورہ غریبوں کے لئے بنایا گیا تھا کہ جس کے گھر دانے اس کے کملے بھی سیانے۔ کل میں نے وزیرخزانہ محمد اورنگزیب کی پریس کانفرنس سنی۔وہ اپنی پہلی پریس کانفرنس جو بجٹ کے بعد کی تھی کے مقابلے میں خاصے پُراعتماد اور ہر سوال کے لئے تیار نظر آئے، ہمارے صحافی بھائی بھی ہر نئے بندے پر ہاتھ ڈالتے ہیں پرانے لوگوں کو اس لئے نہیں چھیڑتے کہ انہیں جواب دینے کا تجربہ ہو چکا ہوتا ہے۔ وزیرخزانہ نے اس بار کڑوی گولی کو زبردستی کھلانے کی کوشش نہیں بلکہ اس ڈاکٹر کی طرح کام کیا جو بچے کو اِدھر اُدھر کی باتوں میں لگا کر کڑوی دوائی پلا دیتا ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ تنخواہ دار طبقے پر بوجھ بڑھا ہے تاہم ساتھ ہی یہ دلاسہ بھی دیا جونہی گنجائش پیدا ہوئی انہیں ریلیف دیں گے۔ ایسی باتوں پر ہمارا ایک دوست پنجابی کا یہ محاورہ استعمال کرتا ہے، او دن ڈوبا جدوں گھوڑی چڑھیا کُبا۔ یعنی وہ دن کبھی نہیں آئے گا جب کبڑا گھوڑی چڑھے گا۔ پاکستان میں ایک بار قیمتیں بڑھ جائیں تو واپس نہیں آتیں، اسی طرح ٹیکس لگ جائے تو ختم نہیں ہوتا، البتہ اس میں اضافہ ضرور ہو جاتا ہے جتنی اقسام کے ٹیکس پاکستان میں ہیں دنیا میں کہیں نظر نہیں آتے۔ ٹیکس لگانے والوں کی ذہانت کو بھی داد دینی چاہیے ٹیکسوں کے اتنے نام کیسے ڈھونڈ لیتے ہیں۔ ابھی چند روز پہلے تک تو وزیراعظم اور وزیرخزانہ قوم کو یہ نوید سنا رہے تھے آئی ایم ایف کے ساتھ آخری پروگرام میں جانا چاہتے ہیں مگر اب وزیرخزانہ نے یہ نیا موقف اختیار کیا ہے ملک کے معاشی استحکام کے لئے طویل مدتی پروگرام میں جانا چاہتے ہیں یعنی اب کام اور شکنجہ طویل ہے جس سے بچنے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ اِدھر عوام کی بجلی کے بلوں سے جان نکلی جا رہی ہے، احتجاج ہو رہے ہیں، دل کے دورے پڑ رہے ہیں۔ دوسری طرف آئی ایم ایف کی ابھی بھی فرمائشیں جاری ہیں بجلی کے نرخ مزید بڑھائے جائیں، افواہیں گرم ہیں، بجلی کا یونٹ سو روپے کا ہو جائے گا۔ کوئی بعید بھی نہیں کیونکہ حکومت قیمتیں بڑھانے کی جو شرط منظور کر چکی ہے، اس کی وجہ سے یونٹ سو روپے سے بھی آگے جا سکتا ہے۔ گیس کی قیمت بڑھانے کے لئے بھی دباؤ موجود ہے، اب کہا جا رہا ہے گھریلو صارفین کے لئے نرخ نہیں بڑھائے جائیں گے جو پہلے ہی بڑھائے جا چکے ہیں ان کی وجہ سے عوام اب چولہا جلاتے ہوئے بھی ڈرتے ہیں۔

حیرت انگیز بات ہے ایک ایسے ملک میں جہاں خواندگی کا تناسب خطے میں سب سے کم ہے، زیادہ تر لوگ اَن پڑھ اور مزدوری پیشہ ہیں، روز کی کماتے اور اپنا گزارا کرتے ہیں، اس ملک میں جب وزیرخزانہ یہ کہتے ہیں تنخواہ دار طبقے پر بوجھ کا احساس ہے تو یوں لگتا ہے اس ملک میں صرف تنخواہ دار ملازم ہی بستے ہیں باقی ہر طبقہ خوشحالی کے مزے لوٹ رہا ہے۔ تنخواہ دار سرکاری ملازمین کی تعداد 25کروڑ کے ملک میں چند لاکھ ہے،ان کی خوشحالی سے کوئی فرق پڑتا ہے اور نہ بدحالی سے،پاکستان کے کروڑوں عوام جن میں ہاری، مزدور، کسان، موچی، پلمبر، الیکٹریشن، خوانچے والے، چھوٹے دکاندار، نجی اداروں کے ملازمت پیشہ، اعلیٰ تعلیم کے باوجود بے روزگاری سے بچنے کے لئے معمولی ملازمتیں کرنے والے، اس وقت مہنگائی کے ہاتھوں بالکل نڈھال ہو چکے ہیں۔ حکومت نے کم سے کم اجرت 36ہزار روپے مقرر کی ہے، میں ایک بینک میں ملازم گارڈ کو جانتا ہوں، جو ہمیشہ یہی کہتا  ہے کسی سے کہہ کر بنک میں نائب قاصد لگوا دیں۔ میری تنخواہ 25000 ہزار روپے ہے، بارہ گھنٹے کی نوکری ہے، نائب قاصد کی سیلری 40 ہزار وپے ہے اور کام بھی بنک کے اندر ٹھنڈے ماحول میں ہے۔ کل میں نے اسے نوید سنائی کہ بجٹ میں کم از کم تنخواہ 36 ہزار روپے ہو گئی ہے، کہنے لگا بابو جی پہلے بھی تو کم از کم 32 ہزار روپے تھے۔ مگر 22000 ہزار روپے ملتی تھی، اب بھی یہی ملے گی، حکومت صرف اعلان کر دیتی ہے اس پر عمل نہیں کراتی یہاں سیٹھوں کی اجارہ داری ہے، جس طرح چاہیں استحصال کریں۔

ہمارے ہاں آلو ٹماٹر جیسی سبزیوں کی قیمت کم ہو جائے تو حکمران یہ دعویٰ کرنے لگتے ہیں مہنگائی میں کمی آ گئی ہے، کل بھی وزیر خزانہ نے فرمایا مہنگائی 38 فیصد سے کم ہو کر 12 فیصد پر آ گئی ہے۔ پتہ نہیں حکمرانوں کو یہ اعداد و شمار کون فراہم کرتا ہے سادہ سی بات ہے جب بجلی کے بل عوام کی پہنچ سے دور ہو گئے ہیں گیس مہنگی ہو چکی ہے۔ پٹرول مہنگا کر دیا گیا ہے، ٹیکسوں میں اتنا اضافہ کیا ہے کہ بجٹ کو ٹیکس بجٹ کہا جا رہا ہے، اتنا کچھ ہونے کے باوجود مہنگائی کم ہونے کا دعویٰ یا تجاہل عارفانہ کے زمرے میں آتا ہے یا پھر سفاکانہ بے حسی کے زمرے میں۔ چند چیزوں کی قیمتیں موسمی پھلوں یا سبزیوں کی بدولت گر جائیں تو مہنگائی کم ہونے کا نعرہ لگا دیا جاتا ہے۔ ایک چالیس ہزار ماہانہ کمانے والا شخص اپنا گھر کیسے چلا سکتا ہے اس بارے میں کمیٹی بٹھا کر حکومت ثابت کرے۔ اس وقت صورت حال یہ ہے دو پنکھے چلانے والوں کے بل بھی بارہ سے پندرہ ہزار روپے آ رہے ہیں گویا یہی عوام کی کمر توڑنے کے لئے کافی ہے۔ باقی سارا مہینہ وہ گزارا کیسے کرے، مکان کا کرایہ، گیس کا بل، بچوں کی فیسیں، دال روٹی، دوا دارو، بعض اوقات تو حیرت ہوتی ہے یہ غریب پاکستانی آخر جی کیسے رہے ہیں۔ یہی وہ طبقہ ہے جس پر آئی ایم ایف ظالم وڈیرے کی طرح اپنی نظریں گاڑے رکھتا ہے۔ اس کے حکم کی ہر تان اسی طبقے سے سبسڈی واپس لینے، مزید ٹیکس لگانے اور ظلم ڈھانے پر ٹوٹتی ہے۔ وزیر خزانہ کو تنخواہ دار طبقے کی فکر ہے، چلو اچھی بات ہے مگر وہ کروڑوں پاکستانی کس حال میں ہیں، جن کی زندگی مہنگائی نے اجیرن کر دی ہے۔ ان کے لئے ریلیف دینے کی کوئی بات نہیں کرتا۔ وزیر خزانہ نے آئی ایم ایف سے معاہدے کی بڑی افادیت اور ضرورت گنوائی ہے وہ اس منصب پر نئے ہیں تاہم عوام کا حافظہ نیا نہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ وزارت خزانہ کے منصب پر جو بھی بیٹھا اس نے آئی ایم ایف کے گن ہی گائے۔ یہ اور بات ہے سیاسی فائدے کے لئے سیاسی رہنماؤں نے آئی ایم ایف سے جان چھڑانے کے مولا جٹ جیسے بیانات دیئے۔ جب آپ اپنا گھر ہی سیدھا نہیں کریں گے، خود انحصاری کے لئے جرأت مندانہ فیصلے کرنے سے گھبرائیں گے تو آئی ایم ایف کا کمبل جان نہیں چھوڑے گا۔ آئی ایم ایف کے معاہدوں کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو یہ عقدہ بھی کھلے گا وقت کے ساتھ ساتھ آئی ایم ایف ایک جابر حکمران کی طرح ہم پر مسلط ہوتا گیا ہے۔ اس بار اس نے سارے کس بل نکال دیئے ہیں اس کی مرضی سے بننے والے بجٹ میں عوام کے لئے ایک بھی اچھی خبر نہیں حالات اتنے برے ہیں کہ حکمران اب جھوٹے منہ بھی عوام کو کوئی اچھی خبر سنانے کی پوزیشن میں نہیں، یہ بھی ایک طرح کا زوال ہے جسے اشرافیہ کبھی نہیں مانے گی۔

مزید :

رائے -کالم -

شیئر کرنا
آرکائیو
پسند

view_more_opinions_from نسیم شاہد

(0)تبصرے