ملتان میں بیس سالہ ثانی زہرہ کی پُراسرار موت معمہ بنی ہوئی ہے، وزیراعلیٰ مریم نواز نے اِس واقعہ کی خبریں سامنے آنے پر صوبائی وزیر سہیل بٹ اور چیئرپرسن ہیومن رائٹس کمیشن حنا پرویز بٹ کو صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے ملتان بھیجا،جنہوں نے ثانی زہرہ کے والد اسد عباس شاہ سے بھی ملاقات کی۔ یہ واقعہ دو محرم کو پیش آیا،جس کے بعد نہ صرف اندرون ملک،بلکہ بیرونی ممالک میں بھی اِس پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ یاد رہے کہ20سالہ ثانی زہرہ جس کے دو معصوم بچے ہیں اور جو پانچ ماہ کی حاملہ تھی،اُس کی لاش پنکھے سے ایسے لٹکی ہوئی ملی کہ اُس کی ٹانگیں بیڈ پر رکھے صوفے پر دوزانو موجود تھیں، ثانی زہرہ کے سسر نے اسے خود کشی کا واقعہ قرار دیا جبکہ اُس کے والد اسد عباس شاہ کا موقف ہے اُن کی بیٹی کو قتل کیا گیا ہے اور ایف آئی آر درج ہونے کے باوجود پولیس ملزموں کو گرفتار نہیں کر رہی۔ سید اسد عباس شاہ جو ایک امام بارگاہ کے متولی بھی ہیں،انہوں نے دھمکی دی ہے کہ اگر اُنہیں انصاف نہ ملا تو وہ دس محرم کو چوک کمہاراں والا پر دھرنا دیں گے اور ماتمی جلوس وہیں رک جائیں گے،وزیراعلیٰ مریم نواز کی ہدایت پر دو رکنی ٹیم ملتان آئی تو ثانی زہرہ کے والد کے دلائل سن کر یہ فیصلہ کیا گیا کہ مرحومہ کی قبرکشائی کر کے پوسٹ مارٹم کیا جائے جس پر پوسٹ مارٹم ہو گیا ہے اور اجزاء لیبارٹری میں بھجوا دیئے گئے ہیں۔ ثانی زہرہ کے والد کا کہنا ہے جب اُس کی لاش کو غسل دیا گیا تو اُس کے جسم پر تشدد کے نشانات تھے، تاہم گردن کی ہڈی ٹوٹی ہوئی نہیں تھی،جو پھانسی لینے کے بعد ٹوٹ جاتی ہے،جس سے موت واقع ہوتی ہے،اُن کا موقف ہے کہ بیٹی کو تشدد کر کے مارنے کے بعد خود کشی کا رنگ دینے کے لئے پنکھے سے لٹکایا گیا،جبکہ تمام کرائم سین اِس بات کی گواہی دے رہا ہے کوئی تنہا لڑکی اتنا بھاری صوفہ اُٹھا کر بیڈ پر نہیں رکھ سکتی اور نہ ہی اُس کے ہاتھ پنکھے کے راڈ تک پہنچ سکتے ہیں کہ جہاں وہ کپڑا بندھا ہوا تھا جسے گلے میں ڈال کے پھانسی لینے کا تاثر دیا گیا،پولیس عام طور پر ایسے کیسز کو پل جھپکنے میں حل کر لیتی ہے،مگر اِس کیس میں ایک واضح سست روی اور عدم دلچسپی نظر آ رہی ہے، جس کا ثانی زہرہ کے والد سید عباس شاہ نے بار بار اظہار بھی کیا ہے،انہوں نے مریم نواز کے فون کرنے پر بھی یہی شکایت کی تھی،مگر دفعہ302 کے ملزمان کو پکڑنے کے چند گھنٹوں بعد چھوڑ دینا سمجھ سے بالا تر ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز نے کچھ دن پہلے اعلان کیا تھا کہ خواتین کے خلاف گھریلو تشدد پر زیرو ٹالرینس کا مظاہرہ کیا جائے گا، یہاں ایک نوجوان لڑکی کی موت ہو گئی ہے،مگر ایک ہفتہ گزرنے کے باوجود پولیس کسی نتیجے پر نہیں پہنچی۔
اب آتے ہیں اس کیس کے پس منظر کی طرف۔ 2019ء میں جب ثانی زہرہ کی عمر ساڑھے سولہ سال تھی،اُس کی شادی جیون شاہ کے بیٹے علی رضا شاہ سے ہوئی،شادی سے پہلے بتایا گیا تھا علی رضا شاہ کنوارہ ہے، لیکن بعد میں عقدہ کھلا وہ شادی شدہ ہے،اس پر گھر میں لڑائی جھگڑے کا آغاز ہو گیا،اس دوران ایک بیٹا بھی ہوا، جب مار پیٹ معمول بن گئی تو ثانی زہرہ لڑ کر اپنے والد کے پاس آ گئی اور خلع کا دعویٰ کر دیا،خود بہاء الدین زکریا یونیورسٹی میں داخلہ لے کر پڑھنا شروع کیا، خلع میں اُس کوٹھی کی دخل یابی کا دعویٰ بھی کیا گیا تھا جو نکاح کے وقت لکھ کر دی گئی تھی،جب کیس اختتامی مرحلے پر پہنچا اور اُمید تھی ثانی زہرہ کے حق میں فیصلہ ہو جائے گا تو علی رضا شاہ یونیورسٹی پہنچا اور ثانی زہرہ سے معافی مانگی اور یہ بھی کہا پہلی بیوی کو چھوڑ چکا ہے، ثانی زہرہ اپنے ایک سالہ بچے کی خاطر اُس کی باتوں میں آ گئی اور خلع کا دعویٰ واپس لے کر دوبارہ سسرال چلی گئی،اُس کے والد اسد عباس شاہ کے بقول اُس کے شوہر اور سسرال نے اُس پر پابندیاں لگا دیں وہ ہم سے مل نہیں سکتی تھی،نہ ہی اُسے فون کرنے کی اجازت تھی،اس عرصے میں ثانی زہرہ کے ہاں دوسرا بیٹا پیدا ہوا، جو اب 9ماہ کا ہے، جبر کا یہ سلسلہ اِسی طرح چلتا رہا،اس دوران ثانی زہرہ کے اکلوتے بھائی کا انتقال ہوا، تو اُس کے جنازے پر بھی اُسے صرف آدھ گھنٹہ آنے کی اجازت دی گئی،اس سے ظاہر ہوتا ہے20سالہ ثانی زہرہ اپنے بچوں کے لئے ہر ستم برداشت کر رہی تھی،اِس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے وہ اُن کے لئے زندہ رہنا چاہتی تھی،پھر وہ پانچ ماہ کی حاملہ تھی،ایسی حالت میں تو عورت ہر تکلیف برداشت کر لیتی ہے تاکہ اُس بچے کو جنم دے سکے جو اُس کی کوکھ میں پل رہا ہے۔پولیس والے تو اُڑتی چڑیا کے پَر گن لیتے ہیں،پھر اِس واقعہ میں پولیس اُن باتوں پر توجہ کیوں نہیں دے رہی، جو خود کشی کی بجائے اُسے قتل کی طرف لے جا رہی ہیں۔مثلاً اُس کے دونوں بچے اُس وقت کہاں تھے،جب وہ پھانسی لینے کا مبینہ منصوبہ بنا رہی تھی، اسے بے شک اپنے بچوں پر ترس نہ آیا ہو (جو انہونی بات ہے) مگر بچے تو روئے ہوں گے،کوئی شور کیا ہو گا،پھر ایک ہی گھر میں سسرالی اور خود اُس کا شوہر اُس وقت کہاں تھے،خود کشی کا فیصلہ فوری تو نہیں کیا جاتا،اس کے لئے کسی ایسے واقعہ یا حالات کی وجہ ضروری ہوتی ہے جو انسان کو اس سطح تک لے جائے،کیا اُس دن کوئی جھگڑا ہوا تھا،کیا اُس دن بھی شوہر نے اس پر تشدد کیا تھا، کیا پولیس نے اُس کے شوہر سے اِس بارے میں تفتیش کی،اگر کی تو پھر اُس سے ثانی زہرہ کے والد کو کیوں آگاہ نہیں کیا۔
ثانی زہرہ کے والد نے ملتان انتظامیہ اور پولیس کے سامنے دو مطالبات رکھے ہیں،پہلا مطالبہ یہ ہے ایف آئی آر کے مطابق ملزموں کو گرفتار کیا جائے،یہ قتل کا واقعہ ہے اسے خود کشی کا رنگ نہ دیا جائے،دوسرا مطالبہ یہ ہے کہ اگر پولیس کرائم سین اور شواہد سے یہ ثابت کر دیتی ہے کہ ثانی زہرہ نے خود کشی کی ہے تو پھر وہ اسباب سامنے لائے جائیں جن کی وجہ سے وہ خود کشی کرنے پر مجبور ہوئی،دونوں صورتوں میں ایک جرم تو بنتا ہے اس لئے ملزموں کو کلین چٹ کیسے دی جا رہی ہے۔خود کشی اگر والدین کے گھر ہوئی ہوتی تو شاید یہی شوہر اُلٹے سیدھے الزام لگا کر انہیں مجرم ٹھہرانے کی کوشش کرتا، اب سسرال میں ہوئی ہے تو اصل حقائق سامنے آنے چاہئیں۔سید اسد عباس شاہ نے مریم نواز کی طرف سے بھیجی گئی دو رکنی ٹیم کو بتایا اُن کا داماد جائیداد ہتھیانا چاہتا تھا،اس طرح میری بیٹی سے دباؤ ڈال کر فون کراتا،میں جواب دیتا ابھی زندہ ہوں،مر جاؤں گا تو جائیداد اِن بیٹیوں کو ہی ملے گی۔بہرحال یہ واقعہ قتل کا ہو یا خود کشی کا، اس تلخ حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں آج بھی بیٹیوں کے والدین ہونا ایک بہت بڑا امتحان ہے،یہ کتنی بڑی زیادتی ہے کہ جس بیٹی کو آپ نازوں میں پال کر جوان کریں اُسے جب کوئی بیاہ لے کر جائے تو انہی والدین سے ملنے پر پہرے بٹھا دے،اُن کی بیٹی پر تشدد کرے،ابھی چند روز پہلے لاہور میں اینکر عائشہ جہانزیب پر تشدد کا واقعہ سامنے آیا جس میں اُس کے شوہر نے اُسے بری طرح زخمی کر دیا،نجانے کتنی بیٹیاں اپنے سسرال میں ایسے ظلم و ستم کو برداشت کرتی ہیں،مگر کسی کی سسرال میں موت واقع ہو جانا اور وہ بھی اس الزام کے ساتھ کہ اُس نے خود کشی کر لی ہے،تو اس کی ریاست کو پوری ذمہ داری سے تحقیق کرنی چاہئے اور ایسے درندہ صفت مرد جو بیوی جیسے خوبصورت رشتے کو اپنی درندگی کا نشان بناتے ہیں انہیں نشانِ عبرت بنا دینا چاہئے۔
(0)تبصرے