Download the Applications
Get it on Google PlayDownload on the App Store
لاگ آؤٹ
Privacy Policy Terms and Condition
NewsHunt
نسیم شاہد
language
چہیتے افسر مگر گڈ گورننس کا فقدان

 حکومتیں ہمارے افسروں کو کتنا نوازتی ہیں،اس پر چنداں کسی وضاحت کی ضرورت نہیں،ایک 17گریڈ کے اے سی کو دو کروڑ روپے کی گاڑی پر پہلے دن بٹھا دیا جاتا ہے، اعلیٰ سے اعلیٰ رہائش گاہیں، ہر قسم کی سہولتیں ہی نہیں ہر چیز مفت، بے تحاشا اختیارات، یہ سپریئر سروس والے واقعی سپریئر بن جاتے ہیں، مگر حیران کن امر یہ ہے گزشتہ پون صدی میں یہ ہماری بیورو کریسی عوام کو کچھ ڈلیور نہیں کر سکی، پہلے دن سے سروس میں آنے والا سی ایس پی افسر عوام سے دور ہو جاتا ہے، بیورو کریسی کی خاندانی تاریخ نکال کر دیکھی جائے تو اکثر عام اور غریب یا متوسط گھرانوں سے تعلق رکھتے ہوں گے ایسے افراد کو تو اپنا سارا وزن عام آدمی کے پلڑے میں ڈالنا چاہئے،اُس کے لئے آسانیاں پیدا کرنا چاہئیں،رشوت اور سفارش کے کلچر کو اکھاڑ پھینکنا چاہئے کہ اُس کی وجہ سے یہ معاشرہ ایک عذاب سے گذر رہا ہے،مگر نجانے وہ کون سی ظالم جادو گرنی ہے جو ایسے گھرانوں سے آنے والے نوجوانوں کو اپنی اوقات بھلا دیتی ہے، جس طبقے کے ساتھ اُن کی زندگی گزری ہوتی ہے، اُسی سے نفرت کرنے لگتے ہیں،پروٹوکول کی چکا چوند میں ایسے غرق ہوتے ہیں کہ دنیا و مافیہا سے بے خبر ہو جاتے ہیں۔پیسہ جی ہاں، رشوت اور اوپر کی کمائی کا پیسہ بارش کی طرح برسنے لگتا ہے تو اُس سے بچنے کی کوشش نہیں کرتے،بلکہ کانِ نمک بن جاتے ہیں،اپنے زمانہئ طالب علمی میں ایمانداری اور حب الوطنی پر تقریریں کرنے والے اکثر نوجوان سرکاری نوکری ملنے پر یہ سب آدرش بھول جاتے ہیں۔ایک خاص مافیا جس نے ہمارے نظام کو جکڑ رکھا ہے اُن کے سارے کس بل نکال کے،خوابوں کو ملیا میٹ کر کے اُنہیں اپنے شیشے میں اُتار لیتا ہے۔میں نے بذاتِ خود زندگی میں کئی بار مشاہدہ کیا ہے کہ کوئی شاگرد سی ایس پی کر کے افسر بنا تو اُس کے عزائم بہت بلند تھے، وہ انسانوں کو انسان سمجھتا اور رزقِ حلال کو زندگی کا مقصد قرار دیتا تھا،مگر اُسی سے جب سال بعد کہیں ملاقات ہوئی تو وہ سب کچھ بھول چکا تھا،اُس کے نزدیک افسری افسری تھی اور اُس کا مقصد لوگوں پر حکمرانی کرنا اور اُن سے دور رہنا تھا۔ایک زمانہ تھا کچھ ایسے افسروں کی وجہ سے عوام کا کہیں نہ کہیں بھلا ہو جاتا تھا،مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ سول سروس بھی کاسہ لیسی، اچھی اور فائدہ مند پوسٹنگ کے لئے جی حضوری اور طاقت کے سامنے  سر جھکائے کمزور پر حکم چلانے کا ذریعہ بن کر رہ گئی۔

میں نے زندگی میں بڑے بڑے افسر دیکھے،اُن سے ملاقات بھی رہی،مگر کبھی ایسا نہیں دیکھا، صوبے کے اعلیٰ افسر حکمرانوں کی ڈرائیوری پر اُتر آئے ہوں،وہ اپنے منصب اور عہدے کے وقار کو ملحوظِ خاطر رکھتے تھے۔ بیورو کریسی میں اب بھی بہت دم خم ہے،لیکن صرف عوام کو دبانے اور کرپشن کا بازار گرم کرنے کے لئے ایک زمانہ تھا بیورو کریٹ کسی دباؤ کو قبول نہیں کرتے تھے، کسی ایم این اے، ایم پی اے کا ناجائز حکم نہیں مانتے تھے۔ٹرانسفر کو سزا نہیں، ایک اعزاز سمجھتے تھے اگر اصولی موقف پر ڈٹ جانے کی وجہ سے ہوتی تھی، تاہم اب یہ باتیں خواب و خیال لگتی ہیں اب ضلع کا پولیس افسر ہو یا ڈپٹی کمشنر، پہلی حاضری حکومتی جماعت کے ایم این اے یا ایم پی کے ڈیرے پر دیتا ہے،کیسے کیسے کرپٹ پولیس افسر سالہا سال سے تھانوں میں تعینات ہیں، ڈی ایس پی یا سی پی او اُن کا بال بھی بیکا نہیں کر سکتے،کیونکہ انہیں عوامی نمائندوں کی مکمل سپورٹ حاصل ہوتی ہے۔بڑے دعوے کئے جاتے ہیں، جرائم کے خلاف کوئی کسر اٹھا نہ چھوڑیں گے، حقیقت یہ ہے اِس وقت پولیس اپنے زوال کے آخری مقام پر کھڑی ہے،سرعام ڈکیتیاں، راہزنی اور قتل و غارت گری جاری ہے،آج تک یہ تو ہو نہیں سکا کہ پولیس میں آزادانہ ایف آئی آر درج کرنے کا نظام بھی رائج کر دیا جائے، کہنے کو بڑھکیں بہت ماری جاتی ہیں،مگر زمینی حالات اس سے یکسر مختلف ہیں، آپ یہ دیکھیں ہر دور میں حکومتوں نے کبھی کوئی ایپ بنا کر، کبھی لاہور کی سطح پر کوئی ہیلپ لائن کا نمبر دے کر اور کبھی کھلی کچہریوں کا ڈرامہ رچا کر عوام کو یہ جھانسہ دینے کی کوشش ہی کی ہے کہ انہیں بے رحم نظام کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا گیا، حالانکہ امر واقعہ یہ ہے عوام بے رحم نظام کی زد میں ہیں اور سرکاری دفاتر میں بیٹھے ہوئے عمال اُن کے ساتھ بھیڑ بکریوں جیسا سلوک کرتے ہیں۔ہمارے حکمران ہمیشہ یہ رونا روتے ہیں،اُن کے پاس وسائل نہیں کہ عوام کو ریلیف دے سکیں،خزانہ خالی ہے اور آئی ایم ایف کے آگے دست سوال دراز کئے ہوئے ہیں۔چلیں مان لیتے ہیں یہ بڑا مسئلہ ہے عوام روکھے سوکھے ہو کر گزارا کر رہے ہیں۔بجلی کے بل بھی دے رہے ہیں اور گھر کی روٹی ڈال بھی چلا رہے ہیں،مگر حکمرانوں کے پاس اس بات کا کیا جواب ہے کہ بری گورننس کی وجہ سے عوام اذیت ناک زندگی گزار رہے ہیں بات صرف بیورو کریسی کی نہیں ہر محکمے کے افسروں اور اہلکاروں کی ہے، ہر کوئی مال بنانے پر لگا ہوا ہے اور اُسے کسی احتساب کا خوف نہیں۔ حکومت نے اراضی ریکارڈ سنٹرز اس نیت سے بنائے تھے کہ عوام کی پٹواریوں سے جان چھوٹ جائے گی،مگر اراضی ریکارڈ سنٹروں میں جاری کرپشن کی وجہ سے عوام جھولیاں اُٹھا اُٹھا کر یہ دُعا مانگ رہے ہیں،پٹوار کا نظام واپس آ جائے۔کم از کم ایک پٹواری کو رشوت دینی پڑتی تھی اب اُس کی جگہ پٹواری سمیت پانچ بندے اور آ گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ مریم نواز کے حکم سے ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو کمشنر اور ڈپٹی کمشنر ریونیو کچہریاں لگاتے ہیں۔حیرت ہے وہ اس کرپشن اور نظام پر ہاتھ نہیں ڈالتے جو اراضی ریکارڈ سنٹروں میں جاری ہے اور جس کی وجہ سے لوگوں کو اُن کی کھلی کچہریوں میں آنا پڑتا ہے۔آپ سرکاری ہسپتالوں کی حالت دیکھیں، مریض اور لواحقین پریشان حال نظر آئیں کے، حکومت اربوں روپے کا بجٹ ادویات اور آلات کے لئے مختص کرتی ہے لیکن مریضوں کو تو صرف دھکے ہی ملتے ہیں، کسی ڈی سی یا کمشنر نے کبھی اس کا نوٹس نہیں لیا کہ اُن کے ضلع یا ڈویژن میں کتنے ہسپتالوں کی لیبارٹریاں اور ایکسرے مشینیں کام کر رہی ہیں، بس آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے ایک چکر لگا کر اُس کی تصویری رپورٹ سی ایم سیکرٹریٹ بھیج دی جاتی ہے۔میں یہاں تھانوں کا ذکر اِس لئے نہیں کر رہا کہ اُن کے بارے میں سب کو معلوم ہے وہاں کیا ہو رہا ہے۔اب عوام یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ معاشی ریلیف دینے کے لئے تو حکومت کے پاس پیسے نہیں،لیکن یہ گڈ گورننس پر تو کچھ خرچ نہیں ہوتا، کیونکہ پہلے ہی اربوں روپے کا بجٹ اس مد میں رکھ دیا جاتا ہے۔افسروں کے نخرے برداشت کرنے کی بجائے اُن کی بری کارکردگی پر احتساب کیوں نہیں کیا جاتا۔ مریم نواز چند دن پہلے ایسا کرنے کا کہا تھا،مگر لگتا ہے وہ بھی بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالنے سے گریزاں ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -

شیئر کرنا
آرکائیو
پسند

view_more_opinions_from نسیم شاہد

(0)تبصرے