Download the Applications
Get it on Google PlayDownload on the App Store
لاگ آؤٹ
Privacy Policy Terms and Condition
NewsHunt
نسیم شاہد
language
منو بھائی نے درست کہا تھا

 ایک زمانہ تھا میں جب بھی لاہور جاتا، ملاقات کے لئے منو بھائی کے ریواز گارڈن میں واقع گھر ضرور حاضری ہوتی۔ منو بھائی سے یوں تو میرا ایک نوجوان قاری کی حیثیت سے تعلق قائم ہو چکا تھا، تاہم اس میں مزید قربت ایسے آئی کہ میرے بڑے بھائی رائے فاروق فلم ڈائریکٹر تھے اور انہوں نے جیسے تیسے منو بھائی کو اپنی فلم دو بھیگے بدن لکھنے پر راضی کر لیا تھا، میری لاہور موجودگی میں وہ جب بھی منو بھائی کے پاس جاتے میں ساتھ ہوتا، انہی دنوں میرا پہلا شعری مجموعہ آئینوں کے شہر میں پہلا پتھر شائع ہوا۔ نوے کی دہائی کا ابتدائی دور تھا، میں نے خواہش ظاہر کی کہ ملتان میں تقریب رونمائی کرانی ہے، منو بھائی صدارت کریں۔ وہ بلا تردد مان گئے۔ لاہور سے اصغر ندیم سید، اظہر جاوید بھی اس تقریب میں شریک ہوئے۔ زمانہ کتنا سادہ اور منو بھائی کتنے مخلص تھے، اس کا اندازہ اس امر سے لگائیں، وہ اپنے خرچے پر ڈائیو بس کے ذریعے ملتان آئے، ہم نے انہیں اڈے سے لیا اور ایک دوست کے گھر ٹھہرایا، انہوں نے بالکل نہیں کہا یار کوئی ہوٹل دا بندوبست کرو، خیر یہ تقریب ہوگئی اور اسی میں انہوں نے یہ مشہور بات کی جس کا ملتان ہو اس کا اسلام آباد مضبوط ہوتا ہے، اس کی وجہ تسمیہ یہ تھی کہ اس دور میں فخر امام وزیر بلدیات تھے وہ ضلع کونسل کے چیئرمین شپ کا الیکشن ہار گئے۔ اس شکست پر انہوں نے مناسب سمجھا وزارت سے بھی استعفا دیدیں۔ آج کی طرح نہیں کہ ہر صورت عہدے سے چپکے رہیں رات کے وقت منو بھائی اور میں طارق روڈ، ملتان پر واقع میاں اسحاق کی کوٹھی کے ایک کمرے میں بیٹھے کافی دیر تک باتیں کرتے رہے۔ میں نے اس رات منو بھائی سے بہت کچھ سیکھا۔ تحمل، بردباری، بے ریائی  کا احساس ان کی قربت میں بیٹھ کر دو چند ہو گیا۔ اسی ملاقات میں میرے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے منو بھائی نے ایک ایسی بات کی جو مجھے آج بہت یاد آتی ہے اور اسی بات نے آج کا کالم لکھنے پر اکسایا ہے۔ ان دنوں مارشل لاء کا دور تھا۔ ضیاء الحق کی عملداری تھی۔ صرف منو بھائی ایک ایسے کالم نگار تھے جو پھر بھی بچ بچا کے سچ لکھے جاتے تھے۔ میں نے سوال کیا تھا جس قسم کی پابندیوں اور آزادی، اظہار رائے پر قدغنوں کا ہم شکار ہیں، کیا ایک جمہوری معاشرے کے طور پر آگے بڑھ سکتے ہیں یا اسی طرح کا مارشلائی جبر ہمارا مقدر ہوگا۔ میرے اس سوال پر وہ تھوڑے سے مسکرائے۔ وہ جانتے تھے ان کے سامنے ایک 26 سال کا نوجوان بیٹھا ہے۔ جسے بہت سی باتوں اور چیزوں کا ادراک نہیں لیکن پھر بھی انہوں نے مجھے کہا۔ نسیم ایک دور ایسا آئے گا، جب تمہیں یہ پابندیاں آزادی محسوس ہوں گی۔ تم یاد کرو گے ضیاء الحق کا مارشل لاء تو تھا مگر ذہن آزاد تھے۔ میں نے اس پر کہا تھا تو کیا مستقبل میں اس سے بھی بڑھ کر کوئی مارشل لاء آئے گا۔ کہنے لگے ضروری نہیں اس کا نام مارشل لاء ہو لیکن حالات کافی سخت ہوں گے۔

ان کی اس بات سے میری تجسس کی حس بڑھ گئی تھی۔ میں نے کہا آپ ایسا کیوں دیکھ رہے ہیں؟ کہنے لگے اس ملک میں جو جمہوریت کے نام پر سیاست کرتے ہیں ان کی ذہنیت مارشل لاء کے ڈکٹیٹر سے بھی زیادہ آمرانہ ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے قتل پر جس طرح سیاستدانوں نے خاموشی اختیار کی اس نے انہیں آمریت کا غلام ہی نہیں پروردہ بنا دیا ہے۔ ان کے اندر آمرانہ صفات پیدا ہو گئی ہیں اور اقتدار کے لئے وہ کسی حد تک بھی جا سکتے ہیں۔ ضیاء الحق کے سائے تلے اسمبلیوں میں جانے والے جمہوریت کے لئے جدوجہد کی تڑپ کھو چکے ہیں، اس لئے آنے والے ادوار میں نہ صرف ان کا اپنا طرز فکر آمرانہ ہو جائے گا بلکہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے ہر ایسے فیصلے کی تائید کریں گے جو انہیں اقتدار میں شریک کر سکے رات گئے جب میں منو بھائی سے اجازت لے کر گھر واپس آ رہا تھا تو میرے ذہن میں جمہوریت کا تصور گڈمڈ ہو چکا تھا۔ مجھے لگ رہا تھا جتنی بھی باتیں ہو رہی  ہیں، وہ صرف عوام کو دھوکہ دینے کے لئے ہیں۔ سب حصہ دار بن گئے ہیں اور سب کا مقصد ایک ہی ہے کہ عوام کو جمہوریت کے نام پر بے وقوف بناؤ اور ضیاء الحق سے اپنا حصہ وصول کرتے رہو۔ آج جب میں پیچھے مڑ کے منو بھائی کی ان باتوں کے بارے میں سوچتا ہوں تو مجھے حرف بحرف سچ نظر آتی ہیں آج ہم چلتے چلتے اس سطح تک پہنچ گئے ہیں کہ اب کوئی راز نہیں رہا، اس مملکت خداداد کی اصل حکمرانی کس کے پاس ہے بڑے جھانسے دیئے گئے کہ طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں۔ بڑا کہا گیا کہ جمہور کی طاقت ہی ملک کی اصل طاقت ہے۔ ووٹ اور حکمرانی کو لازم و ملزوم قرار دینے والے بھی اپنا چورن بیچتے رہے۔ مگر عقدہ بالآخر یہی کھلا ہوتا وہی ہے جو پیا چاہتا ہے۔ بڑے بڑے تمن خان، بڑے بڑے جمہوریت کے چیمپئن ڈھیر ہو جاتے ہیں بس مقصد ایک ہی ہوتا ہے اقتدار میں حصہ مل جائے۔ اس بار انتخابات ہوئے تو عوام کی فارم 45 اور فارم 47 نے مت مار دی، یہ معصوم مخلوق یہی سمجھتی رہی اس بار اس سے ہاتھ ہو گیا ہے۔ حالانکہ ہاتھ تو اس وقت بھی ہوا تھا جب ضیاء الحق نے اسلام کی حمایت میں ریفرنڈم کرا کے خود کو پانچ سال کے لئے صدر منتخب کیا تھا۔

ہاں یہ ضرور ہے کہ اب بہت پردے ہٹ گئے ہیں۔ زوال اتنا ہے کہ وہ سیاسی جماعتیں جو آزادی، اظہار اور آئین میں دیئے گئے بنیادی حقوق کی بات کرتی تھیں، اب اقتدار میں آکر خود ایسے قوانین بنا رہی ہیں، جن کے بارے پہلے کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ قدم آگے بڑھنے کی بجائے پیچھے کی طرف جا رہے ہیں جمہوریت کا تو اب کوئی شرمندگی کے مارے نام بھی نہیں لیتا۔ کل سابق سپیکر قومی اسمبلی اور تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی کہہ رہے تھے اس ایوان کے اوپر بھی خفیہ والے بیٹھے ہوئے ہیں۔ ان کی اس بات پر وزیر اعظم شہباز شریف مسکرا دیئے اب ایسی بات مسکراہٹ ہی تو بنتی ہے۔ جب سیاسی قوتیں تقسیم ہو جائیں، اقتدار کے لئے کاسہ لیسی پر اتر آئیں تو اسمبلیاں بھی نشست و برخواست کا ایک مرکز ہی بن جاتی ہیں آج جمہوریت کا دور ہے لیکن لوگ ضیاء الحق اور پرویز مشرف کے ادوار کو اس کے مقابلے میں زیادہ جمہوری قرار دیتے ہیں اس ترقی معکوس کے سفر کی منو بھائی بہت پہلے نشاندہی کر گئے تھے۔ اس میں قصور کس کا ہے کردار کس کا ہے یہ ایک طویل بحث ہے۔ مگر سوال صرف اتنا ہے ان 76 برسوں میں ہماری سیاسی قوتیں بالغ کیوں نہیں ہوئیں کیوں آج بھی ان کا اندازِ سیاست بچگانہ ہے۔ ایک دوسرے کے خلاف بیٹھنے کی بجائے ساتھ بیٹھنے کو گناہ سمجھنے والے یہ سیاسی کردار کیا ملک کو مسائل اور مشکلات سے نکال سکتے ہیں مخالفین کو دبانے اور آوازوں کو خاموش کراچی کے جنون میں مبتلا ہونے والے کیا جمہوری اور بنیادی حقوق کی بات کر سکتے ہیں؟ اس سوال کا جواب کوئی احمق ہی اثبات میں دے سکتا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -

شیئر کرنا
آرکائیو
پسند

view_more_opinions_from نسیم شاہد

(0)تبصرے