Download the Applications
Get it on Google PlayDownload on the App Store
لاگ آؤٹ
Privacy Policy Terms and Condition
NewsHunt
نسیم شاہد
language
اب نوشتہئ دیوار کون دیکھے گا؟

جب اسٹاک ایکسچینج اوپر جانے کی خبریں ٹی وی اور اخبارات میں آتی ہیں تو شیدے ریڑھی والے کے کان کھڑے ہو جاتے ہیں، اس دوران اگر میں اس کی ریڑھی پر چلا جاؤں تو بے وقوف عجیب و غریب سوال پوچھنا شروع کر دیتا ہے۔ بابو جی کیا اب بجلی سستی ہو جائے گی، میں کہتا ہوں شیدے عقل کو ہاتھ مار، اسٹاک ایکسچینج کے  اوپر جانے سے بجلی کے بلوں کا کیا تعلق، کل اس نے کہا آپ سے اس لئے پوچھ رہا ہوں کہ پڑھے لکھے بندے ہیں، کچھ سمجھائیں تو سہی یہ اسٹاک ایکسچینج کی بہتری سے ہوتا کیا ہے، مجھے تو آج بھی منڈی سے سبزی اور پھل مہنگے ملے ہیں، یہاں لوگ پیسہ نکالتے ہوئے سو باتیں سناتے ہیں، منڈی میں آڑھتی اور پھڑیئے ہم سے ایسا سلوک کرتے ہیں جیسے ہم بھیک مانگنے آئے ہوں، پھر اس نے جیب سے سوئی گیس کا بل نکالا، بابو جی جو بل دو ماہ پہلے تک تین چار سو روپے آتا تھا، اب اڑھائی ہزار روپے آیا ہے، ذرا پڑھ کے بتائیں اتنا بل کیسے آ گیا کہیں پچھلا بل تو نہیں لگا ہوا۔ میں نے دیکھا ساڑھے آٹھ سو روپے گیس کا بل تھا، ایک ہزار روپے فکس چارجز، میٹر کا کرایہ 40 روپے، جی ایس ٹی ساڑھے پانچ سو رپے درج تھے۔ میں نے کہا شیدے تم نے ساڑھے آٹھ سو روپے کی گیس استعمال کی ہے۔ باقی پیسے ٹیکس اور میٹر وغیرہ کے ہیں۔ بابو جی پہلی بار دیکھ رہا ہوں کہ جو چیز استعمال کی ہے، اس سے دوگنا ٹیکس دینا پڑ رہے ہیں یہ تو ظلم ہے غریبوں کے ساتھ، بجلی کا بل بھی اسی طرح آ رہا ہے۔ ٹیکسز تو بل میں زیادہ نظر آتے ہیں میں نے کہا شیدے ایسا ہی ہے، کہنے لگا پھر یہ سٹاک ایکسچینج کے اوپر جانے کا غریبوں کو کیا فائدہ ہے، ہر چیز تو ہاتھ سے نکلتی جا رہی ہے۔ میری موجودگی میں شیدے کے پاس خواتین اور مرد گاہک آئے، کئی تو ریٹ پوچھ کر آگے بڑھ گئے اور جنہوں نے سبزی یا پھل لئے، وہ ایک پاؤ یا زیادہ سے زیادہ آدھ کلو خرید  سکے، اس دوران ایک برقع پوش مائی آئی اس نے ایک پاؤ پیاز آدھا پاؤ ٹماٹر، ایک پاؤ ٹینڈے اور آدھا کلو آلو لئے۔ وہ چلی گئی تو شیدے ریڑھی والے نے کہا، یہ ایک بیوہ ہے، تین بیٹیاں گھر میں بیٹی ہیں گھروں میں کام کرتی ہے لیکن حالت یہ ہے دو دن بعد آدھا پاؤ یا ایک پاؤ سبزی لے کر جاتی ہے، مجھے کتنے ہی مہینے ہو گئے، آج تک اس نے کوئی پھل نہیں خریدا، پھر اس نے کہا ایک طرف اس کی غربت کا یہ حال ہے، دوسری طرف اسے 9 ہزار روپے کا بل آ گیا ہے، کل یہ پوچھ رہی تھی کیا یہ بل کچھ کم ہو سکتا ہے، اس نے بتایا کہ گھر میں دو پنکھے لگے ہوئے ہیں زیادہ تر ایک ہی چلتا ہے  دن میں ایک بار پانی کی موٹر چلاتے ہیں وہ بھی آدھے گھنٹے کے لئے اس کے باوجود اتنا بل آ گیا ہے، ضرور کوئی غلطی ہوئی ہے، میں نے آپ جیسے ایک پڑھے لکھے بندے کو اس کا بل دکھایا تو اس نے کہا دو سو ایک یونٹ چلے ہیں، کوئی بقایاجات بھی نہیں لگے ہوئے، البتہ ٹیکس پورے لگے ہوئے ہیں۔ میں شیدے کی باتیں بڑے تحمل سے سنتا رہا، پھر اس نے سوال کیا بابو جی! جن کے پاس کھانے کو پیسے نہیں، پاؤ آدھ پاؤ سبزی لے کر گزارا کر رہے ہیں، انہیں اتنا زیادہ بل ملے تو کیا ادا کر سکیں گے؟ میں نے جان چھڑانے کے لئے کہا شیدے اب تو یہ گھر گھر کا مسئلہ ہے اللہ ہی مشکل آسان کرے۔

آج کل روزانہ ہی ایسے کئی کرداروں سے واسطہ پڑتا ہے ایک ہی دہائی ہے کہ مہنگائی ہے مہنگائی ہے۔ میں کالم لکھنے لگا تو مالی سجاد آ گیا، مجھے اس نے چند دن پہلے بتایا تھا، وہ جس سرکاری دفتر میں عارضی طور پر ایک سال سے کام کر رہا تھا، اس میں چھانٹی کی گئی ہے اور اسے بھی برخواست کر دیا گیا ہے۔ ایک مہینے کی تنخواہ دی گئی ہے اور اب اسے فکر لگی ہوئی ہے گزارا کیسے ہوگا؟ وہ آیا تو میں نے اسے گھر کام کرنے کی تنخواہ دی، باتوں باتوں میں اس نے بتایا ہمارے محکمے کے دوسرے شہر میں واقع ایک دفتر کے نوجوان نائب قاصد نے خودکشی کر لی ہے، اس نے کسی سے قرضہ لیا ہوا تھا، بہن کی شادی کی تھی، اب تقاضہ بڑھ گیا تھا، مگر اس کی قلیل تنخواہ میں تو گزارا نہیں ہوتا تھا، قرضہ کیسے اتارتا۔ اسی پریشانی میں اس نے پنکھے سے لٹک کر خودکشی کر لی، اس کی زبان سے یہ واقعہ سن کر میرے کان کھڑے ہوئے، مجھے نجانے کیوں یہ خیال آیا کہیں سجاد بھی پریشانیوں سے تنگ آکر یہی راستہ اختیار نہ کرے۔ میں نے کہا اوئے سجاد تو ایویں دی کوئی حرکت نئیں کرنی۔ وہ ہنس کے کہنے لگا، نئیں سر ایویں دی کوئی گل نئیں، میرے کول مالی دا ہنر اے، اللہ چنگا کریسی۔ میں نے اس سے وعدہ کیا جلد ہی اس کے لئے کوئی ملازمت کا بندوبست کرنے کی کوشش کرتا ہوں، اب ایسے کرداروں کے بارے میں آپ کیوں دکھی نہیں ہوں گے، جنہیں جانتے ہیں کہ وہ محنتی ہیں، ایماندار ہیں اور رزق حلال کمانے پر یقین رکھتے ہیں، ایسے لوگوں کو بھی اگر ہم حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیں گے تو وہ کیا کریں گے؟ پتھر دل بن جائیں گے تو وارداتیں کریں گے۔ نرم دل ہوں گے تو مایوس ہو کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیں گے۔

اس ملک میں تو اب صرف کھیل تماشے رہ گئے ہیں۔ خصوصی نشستیں واپس ملنے کا حکم آ جائے تو بھنگڑے ڈالے جاتے ہیں اور دوسری طرف ہارنے والے شامِ غریباں طاری کر لیتے ہیں جس طرح سٹاک ایکسچینج کے اوپر نیچے ہونے سے عام آدمی کی زندگی میں کوئی راحت، کوئی سہولت نہیں آتی، اسی طرح ایسے سیاسی کھیل تماشوں سے کوئی تبدیلی جنم نہیں لیتی، اس ملک میں اپوزیشن ہو یا حکومت اس کی اپنی ہی ایک دنیا ہوتی ہے۔ عام آدمی کی زندگی کیسے گزر رہی ہے، اس کی کسی کو پرواہ نہیں ہوتی۔ حکومت جب اس خوف یا خبط میں مبتلا ہو جائے کہ اس نے ہر قیمت پر آئی ایم ایف کو راضی کرنا ہے تو پھر وہ یہ نہیں دیکھتی عوام کس حال میں ہیں وہ بے رحمانہ ٹیکسز لگاتی ہے اور سمجھتی ہے، ابھی سکت باقی ہے، کوئی  زیا دہ قیامت نہیں آئے گی، دو چار خوکشیاں کر بھی لیں گے تو کیا فرق پڑے گا، آبادی تو پہلے ہی بہت ہے، ابھی کل ہی یہ اعداد و شمار سامنے آئے ہیں کہ یکم جولائی کو بجٹ نافذ ہونے کے بعد سے اب تک مہنگائی میں 25 فیصد اضافہ ہو چکا ہے، ایک ایسے ملک میں جہاں قانون لولا لنگڑا ہو اور سرکاری اداروں کے افسر دھوپ میں نکلنے کے لئے بھی ایک چھتری بردار ساتھ رکھتے ہوں، وہاں قیمتیں بڑھانے والے مافیاز کی ویسے ہی چاندی ہو جاتی ہے۔ ایک طرف مرکزی و صوبائی حکومت کے بڑھتے ہوئے ٹیکسز اور دوسری طرف ایک کو چار سے ضرب دے کر لوٹنے والے کاروباری طبقوں کی بے لگامی، ان دونوں پاٹوں میں عام آدمی تو پس کررہ گیا ہے، مگر اس عام آدمی کو اس ملک میں پوچھتا ہی کون ہے، ہاں شاید اس وقت سب پوچھیں گے جب پیمانہ، صبر لبریز ہو جائے گا اور کاخِ امرا، کے درو دیوار ہلانے والے پیدا ہو جائیں گے۔

مزید :

رائے -کالم -

شیئر کرنا
آرکائیو
پسند

view_more_opinions_from نسیم شاہد

(0)تبصرے