Download the Applications
Get it on Google PlayDownload on the App Store
لاگ آؤٹ
Privacy Policy Terms and Condition
NewsHunt
نسیم شاہد
language
جانے والوں کو نہ روکو کہ بھرم رہ جائے

 میں نے صرف اتنا کہا تھا کہ اِس ملک میں رہ کر لوگوں کی خدمت کرو، پاکستان نے تمہیں پڑھایا لکھایا اور جوان کیا ہے، اس کا تم پر زیادہ حق ہے۔یہ سنتے ہی جیسے اُن کے اندر کا لاوا پھٹ گیا ہو۔ وہ میرے محلے کا نوجوان تھا، میں نے اُس کے لئے دورانِ تعلیم جو کچھ ہوا، کیا تھا۔ وہ غریب والدین کا بیٹا اور بلا کا محنتی و ذہین تھا، کالج میں داخلے کا وقت آیا تو فیس کے پیسے نہیں تھے،مگر لگن اور والدین کی خواہش بدرجہ اتم تھی، داخلہ ہو گیا، ایف ایس سی میڈیکل میں اُس نے دو سال جی جان سے محنت کی، بہت اچھے نمبروں سے پاس ہوا تو میڈیکل کالج میں داخلہ بھی مل گیا یہاں بھی اُس کے لئے جو ہو سکا کِیا،خوشی اِس بات کی تھی ایک غریب گھرانے کا نوجوان آگے بڑھ رہا ہے۔ وقت گذر گیا، وہ ایم بی بی ایس کے آخری امتحان میں بھی پاس ہو گیا،اب وہ ڈاکٹر  تھا، مگر  یہیں سے اُس کی مایوسی کا دور شروع ہوا، اُسے ہاؤس جاب کے لئے جگہ نہ ملی۔ بڑی مشکل سے کہہ کہلا کے یہ مرحلہ بھی طے ہوا۔اب نوکری کی تلاش شروع ہوئی، تب یہ عقدہ کھلا کہ یہاں تو ایم بی بی ایس والوں کی ایک لمبی قطار موجود ہے،جہاں کوئی آسامی آتی، ہزاروں لڑکے لڑکیاں پہنچ جاتے، پھر سفارش اور شاید رشوت بھی خوش قسمت امیدواروں کی منزلیں آسان کر دیتی،مگر وہ ڈگری اٹھائے پھرتا رہا۔اُس کا بوڑھا والد جب بھی ملتا، کہیں ملازمت دلوانے کی فرمائش کرتا،میں نے کوشش کر کے ایک پرائیویٹ ہسپتال میں اُسے ملازمت دلوائی،پھر مجھے بتاتا کہ کام بہت لیتے ہیں،تنخواہ بہت کم اور وقت پر بھی نہیں ملتی،میں سوچنے لگا اِس ملک پر کسی آسیب کا سایہ ہے کہ پروفیشنل ڈگری والے بھی مارے مارے پھر رہے ہیں۔ خیر پھر میرا اس سے رابطہ ٹوٹ گیا کہ وہ کسی دوسرے شہر چلا گیا تھا، جہاں اُسے کسی نجی ہسپتال میں ملتان سے بہتر جاب مل گئی تھی۔ دو روز پہلے وہ مجھے اچانک ملا، میں نے حال چال پوچھا تو اُس نے بتایا وہ آئر لینڈ جا رہا ہے وہاں اُسے جاب مل گئی ہے۔ اِس پر میں اُسے یہ کہنے کی غلطی کر بیٹھا کہ اُسے ملک میں رہ کر پاکستانیوں کی خدمت کرنی چاہئے۔یہاں تمہارے بوڑھے ماں باپ ہیں اُن کا بھی خیال رکھنا تمہاری ذمہ داری ہے یہ سنتے ہی وہ پھٹ پڑا،کہنے لگا اس قسم کی نصیحتیں اِس ملک میں بہت ہیں، مگر یہ کوئی نہیں سوچتا اِس ملک کو نئی  نسل کے لئے جہنم بنا دیا گیا ہے۔میں روزگار کے لئے اپنے والدین سے 400 کلو میٹر دور ہوں،لیکن پھر بھی اتنے پیسے نہیں بھیج سکتا کہ اُن کی اچھی گذر بسر  ہی ہو جائے۔اِس سے بہتر نہیں کہ بیرون ملک جا کے اچھے پیسے کماؤں اور اُن کی زندگی میں بہتری لاؤں۔ میں ابھی کچھ کہنے والا تھا کہ اُس نے اپنی جوشیلی زبان سے باتیں جاری رکھیں،وہ کہہ رہا تھا آپ لوگوں کی نسل نے اِس ملک کو اُجاڑ دیا ہے، نہ خود کچھ بنایا اور نہ اگلی نسل کو ایسا ماحول دیا کہ وہ اچھی زندگی گزار سکے۔ یہ ملک ہے،جس میں ہر طرف لوٹ مچی ہوئی ہے،پڑھے لکھے نوجوان ملازمتوں کے لئے دھکے کھا رہے ہیں،رشوت اور سفارش کا زہر پورے معاشرے میں سرایت کر گیا ہے،کیا آپ ایسے ماحول میں کسی کو قائل کر سکتے ہیں کہ وہ پاکستان میں رہ کر لوگوں کی خدمت کرے پھر اُس نے ایک ایسی بات کی جس سے میں چونک گیا۔اُس نے کہا آپ دیکھیں گے اگلے چند برسوں میں یہ ملک تعلیم یافتہ نوجوانوں سے خالی ہو جائے گا۔ وہ چلا گیا،مگر مجھے ہکا بکا چھوڑ کر، مجھے یوں لگا جیسے میری ساری محنت اکارت چلی گئی،لیکن پھر یکدم مجھے خیال آیا اُس نے غلط تو کچھ بھی نہیں کہا،اتنی محنت، مشقت اور جان ماری کے بعد اُس نے تعلیم کے مراحل طے کئے،مگر آگے ملا کیا،جہاں میرٹ نہ ہو،سفارش اور اقربہ پروری کا دور دورہ ہو وہاں ایسے سیلف میڈ نوجوان مارے جاتے ہیں،اُن کے خواب چکنا چور ہو جاتے ہیں،میں اسی ادھیڑ پن میں تھا کہ میرے بھتیجے کا اسلام آباد سے فون آ گیا،وہ بھی اعلیٰ تعلیم مکمل کر چکا تھا اور جاب کی تلاش میں سرگرداں تھا۔ میں نے فون سنا تو اُس نے پوچھا چاچو آپ کا فارن آفس میں کوئی جاننے والا ہے؟میں نے کہا ایک دوست تھا،مگر اب اُس کا تبادلہ دوسری وزارت میں ہو گیا ہے۔ پوچھا معاملہ کیا ہے؟اُس نے کہا فارن آفس سے کاغذات کی تصدیق کرانی ہے، یہاں تین چار ہزار افراد جمع ہیں،شاید اس سے زیادہ ہی ہوں گے،کوئی نظام نہیں ہے اور ایجنٹوں کے ذریعے لوگوں کے کام ہو رہے ہیں۔اُس نے یہ بھی کہا وہ تین دن سے آ رہا ہے اور اسی طرح رش ہوتا ہے،ہر کوئی باہر جانا چاہتا ہے۔میں نے کہا تھوڑا انتظار کرو،میرے ایک جاننے والے محکمہ داخلہ میں افسر ہیں، اُن سے رابطے کی کوشش کرتا ہوں،اتفاق سے اُن کا فون مل گیا اور بات ہو گئی۔باقی معاملات انہوں نے سنبھال لئے اور اسی دن کام ہو گیا۔

حال ہی میں گیلپ کا ایک سروے سامنے آیا ہے جس کے مطابق 94فیصد پاکستانی ملک چھوڑنا چاہتے ہیں،جن میں 56فیصد تنگدستی،24فیصد بدامنی، اور14فیصد تاریک مستقبل کے باعث ملک چھوڑنے کے خواہشمند ہیں۔ پاکستانی اِس سے پہلے بھی بیرون ملک جاتے رہے ہیں،مگر اِس وقت جو رجحان نظر آ رہا ہے اُس کی مثال نہیں ملتی۔اگرچہ اس سروے میں تاریک مستقبل کے باعث ملک چھوڑنے والوں کی تعداد14فیصد بتائی گئی ہے،مگر زمینی حقیقت اس کے برعکس ہے۔نوجوانوں میں حد درجہ بڑھتی ہوئی مایوسی کی وجہ سے شاید90فیصد اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان باہر جانے کی خواہش رکھتے ہیں۔ ویسے تو ہمارے ہاں یہ سمجھا جاتا ہے آبادی اتنی زیادہ ہے کہ آدھا ملک بھی باہر چلا جائے تو کوئی فرق نہیں پڑے گا،لیکن ایسا سوچنے والے مریضانہ ذہنیت رکھتے ہیں۔ آبادی تو بھارت، چین اور بنگلہ دیش کی بھی بڑھی ہے، مگر  ایسا تو نہیں ہوا اُتنی ہی زیادہ مایوسی بھی بڑھ گئی ہو۔ آج پاکستان میں یہ حال ہے کہ سرکاری ملازمتوں پر پابندی چلی آ رہی ہے۔نجی شعبے میں کساد بازاری کی وجہ سے پہلے ہی حالات بدتر ہیں۔کارخانے اور فیکٹریاں بند ہو رہی ہیں،ملک میں میڈیکل کالجوں کا جمعہ بازار لگا ہوا ہے۔ہر سال ہزاروں کی تعداد میں ایم بی بی ایس کی ڈگریاں لے کر نوجوان باہر آتے ہیں،مگر آگے انہیں ہاؤس جاب کرنے کی جگہ بھی نہیں ملتی۔ میں کئی ایسے والدین سے ملا ہوں جو بتاتے ہیں کہ اُن کے بچے انہیں یہ طعنہ دیتے ہیں وہ پاکستان میں کیوں رہے بیرون ملک جا کر آباد کیوں نہیں ہوئے، کم از کم ہمارا مستقبل تو محفوظ ہوتا۔اب آپ ایسے والدین کے کرب کا اندازہ لگا سکتے ہیں یہ سن کر اُن پر کیا بیتتی ہو گی،مگر صاحبو! جو صاحبانِ اقتدار ہیں انہیں اس صورتحال کی ذرہ بھی پروا نہیں،اُن کی اولادیں بھی باہر پڑھتی اور رہی ہیں اور اُن کے اثاثے اور جائیدادیں بھی وہاں موجود ہیں۔ وہ غالباً اِس بات پر خوش ہیں کہ پاکستانی باہر جا رہے ہیں تو اچھا ہے اُن کا بوجھ ہلکا ہو رہا ہے۔ انہیں قوم کے اندر بڑھتی ہوئی مایوسی سے کیا لینا دینا اُن کی ساری توجہ تو اِس بات پر ہے مخالف آوازوں کو دبا کر اپنے اقتدار کو دوام دیا جائے۔

مزید :

رائے -کالم -

شیئر کرنا
آرکائیو
پسند

view_more_opinions_from نسیم شاہد

(0)تبصرے