ہمارے بعض دوست بھی بڑے ظالم ہیں چن چن کر اذیت دینے کا کوئی سامان نکال لاتے ہیں اسی طرح کے ایک دوست سجاد احمد ہیں ہر وقت سوشل میڈیا پر بیٹھے رہتے ہیں۔ کل ملنے آئے تو انہوں نے مجھے ایک تصویر دکھائی۔ بنگلہ دیش کی وزیر اعظم حسینہ واجد ایک سادہ سے کمرے میں، عام سی میز کرسی پر دفتر سجائے بیٹھی ہیں۔ ان کی سائیڈ پر سولر پیڈسٹل پنکھا چل رہا ہے اور پیچھے بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی تمیم اقبال اپنی اہلیہ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ یہ تصویر دکھا کر سجاد احمد نے کہا ہم ایک ارب ڈالر کے لئے آئی ایم ایف کی غلامی کر رہے ہیں اور بنگلہ دیش کے زرمبادلہ ذخائر اس وقت چالیس ارب ڈالر سے زیادہ ہیں معیشت مضبوط ہے، بے روز گاری کم ہو چکی ہے، برآمدات درآمدات سے زیادہ ہیں، بجلی بہت سستی ہے، آبادی پر کنٹرول ہے کسی ادارے کی جرأت نہیں دوسرے کی حدود میں مداخلت کرے۔ عوام مطمئن ہیں، نظام مستحکم ہے، وزیر اعظم حسینہ واجد چاہیں تو شاہانہ لائف سٹائل کے ساتھ حکمرانی کر سکتی ہیں۔ عالیشان دفتر اور ایئر کنڈیشنڈ سسٹم کے ساتھ حکمرانی کا مزا لے سکتی ہیں مگر وہ دفتر میں پنکھا چلا کر بیٹھی ہیں اب آپ غور کریں جب وزیر اعظم کا انداز یہ ہوگا تو کس بیورو کریٹ یا جرنیل کی جرأت ہو گی وہ قومی خزانے سے اپنی لش پش پر بے دریغ خرچ کر سکے۔ پھر اس نے کہا قومیں ایسے بنتی ہیں وڈے کالم نگار صاحب، بنگلہ دیشی ہم سے علیحدہ ہونے کے بعد قوم بن گئے اور ہم ابھی تک ایک ہجوم ہیں، جس پر ایک اقلیتی طبقہ حکمرانی کر رہا ہے۔ جسے عوام اپنا پیٹ کاٹ کر پال رہے ہیں جو اپنے ایکڑوں پر پھیلے ہوئے دفاتر کی تزئین و آرائش کے لئے بجٹ میں اربوں روپے رکھوا لیتا ہے۔ جسے باتھ روموں کے پرانے کموڈ پسند نہیں آتے حالانکہ ایسے شاندار ہوتے ہیں کہ 25 کروڑ پاکستانی انہیں خواب میں بھی نہیں دیکھ سکتے۔ میں خاموشی سے اس کی باتیں سنتا رہا۔ ویسے بھی جواب دینے کے لےء میرے پاس کچھ تھا بھی نہیں۔ پھر اس نے ایک اور تصویر نکال کر دکھائی حسینہ واجد اپنے دفتر سے کسی تقریب میں شرکت کے لئے جا رہی تھیں۔ کل چار گاڑیاں تھیں، جن میں دو سیکیورٹی اور ایک سٹاف کی گاڑی تھی۔ گاڑیاں بھی عام سی تھیں۔ پھر اس نے پاکستان کے وزیر اعظم کا پروٹوکول دکھایا۔ ایک ویڈیو تھی، جس میں 40 سے زائد گاڑیاں وزیر اعظم کے قافلے میں جا رہی تھیں۔ وہ کہاں رکنے والا تھا، پھر اس نے صدر آصف علی زرداری کے دورۂ لاہور کی ویڈیو دکھائی یوں لگتا تھا گنتی ختم ہو جائے گی، گاڑیاں ختم نہیں ہوں گی۔ اب آپ خود ہی بتائیں کوئی ایسا دوست آپ کی زندگی میں ہو تو کیا آپ سکھ کا سانس لے سکتے ہیں۔ وہ تو نری اذیت دے کر چلا جائے گا اور آپ سوچتے رہ جائیں گے الٰہی ہم کس نظام میں زندہ ہیں جہاں خلقِ خدا بھوک سے مر رہی ہے اور حکمران کروڑوں روپے پروٹوکول پر اڑا رہے ہیں۔
آج کل وزیر اعظم شہباز شریف دن رات اس بات پر زور دے رہے ہیں ٹیکس کے معاملے میں کسی دباؤ کو قبول نہیں کریں گے۔ وزراء اور افسروں کو کام کرنا پڑے گا۔ یہاں تک کہہ دیا استفا دے دوں گا دباؤ برداشت نہیں کروں گا۔ ارے بابا۔ باتیں تو اس بے چاری قوم نے بہت مرتبہ سن رکھی ہیں۔ ان کا نتیجہ کیا نکلتا ہے، عوام کو اس کا بھی علم ہے، کرنے کا اصل کام تو یہ ہے کہ شاہانہ حکمرانی سے نکل کر سادہ حکمرانی اختیار کی جائے وزیر اعظم کریں ناں ہمت اور وزیر اعظم دفتر میں حسینہ واجد کی طرح پنکھا لگا کے بیٹھیں۔ دیں ناں اپنی کابینہ اور بیورو کریسی کو پیغام کہ اب یہ عیاشی نہیں چلے گی، کیونکہ پوری قوم مہنگائی کا عذاب بھگت رہی ہے۔ کل اخبار میں ایک خبر دیکھی کہ ملتان کے ایک بڑے افسر نے ایک ماہ میں بجلی کے پانچ ہزار یونٹس خرچ کئے، وہ بھی سرکاری خزانے سے، ظاہر ہے اس نے دن رات اپنا کوئی بھی ایئرکنڈیشنڈ بند نہیں کیا ہوگا۔ سیانے کہتے ہیں روایت اوپر سے نیچے آتی ہے، کبھی نیچے سے اوپر نہیں جاتی۔ جب اوپر کی سطح پر مال مفت دلِ بے رحم کا نظام رائج ہو تو کسی معمولی درجے کے افسر کا بھی دماغ خراب ہو جاتا ہے۔ ہمارے ملک میں سادگی کے ڈرامے بہت کئے گئے، کوئی حکمران سائیکل پر ماڈلنگ کرتا نظر آیا اور کسی نے دعویٰ کیا وہ تنخواہ و مراعات نہیں لے گا۔
چار دن کی چاندنی اور پھر اندھیری رات کے مصداق ایک آدھی فلم چلا کر پھر پہلے سے زیادہ کروفر کو اپنا لیا۔ ہمارے ہاں ایسے ڈرامے بہت کئے جاتے ہیں جن کا دنیا میں کہیں نشان نہیں ملتا۔ کل مجھے ایک دوست نے خانیوال سے ایک ویڈیو بھیجی۔ یہ ویڈیو ڈپٹی کمشنر خانیوال نے جاری کی تھی۔ اس ویڈیو میں محرم کے حوالے سے ایک فلیگ مارچ دکھایا گیا تھا۔ جس میں تین درجن سے زائد گاڑیاں ہوں گی، پولیس، فوج اور انتظامیہ کی گاڑیاں فراٹے بھرتی ہوئی، شہر کے مختلف حصوں سے گزر رہی تھیں۔ مجھے اس فلیگ مارچ کا مقصد سمجھ نہیں آیا۔ کیا یہ شہریوں کو ڈرانے کے لئے تھا۔ کیا قانون کا خوف اب یہی رہ گیا ہے کہ اسلحہ بردار گاڑیاں دکھائی جائیں۔ قانون تو تحفظ کا احساس دیتا ہے ایسے مارچ تو خوف پھیلاتے ہیں، پھر ان پر لاکھوں روپے کا پٹرول و ڈیزل علیحدہ صرف ہوتا ہے۔
کوئی مانے یا نہ مانے پاکستان میں طرزِ حکمرانی بدلنے کی ضرورت ہے۔ ہماری طرز حکمرانی اور عوام کی حالت کا کوئی جوڑ ہی نظر نہیں آتا۔ غریب عوام کے امیر حکمران کسی نے دیکھنے ہوں تو پاکستان چلا آئے۔ خیر امیر ہونا کوئی معیوب بات نہیں مگر سرکاری خزانے سے اپنی امارت کے مظاہرے معیوب ضرور ہیں، جس ملک میں عوام کا لہو نچوڑ کر حاصل ہونے والی آمدنی کو سرکاری عمال بے دردی سے لٹائیں اس ملک میں نظام کیسے ٹھیک ہو سکتا ہے، خوشحالی کیسے آ سکتی ہے۔ آپ غور کیجئے کہ اس وقت معیشت کے کتنے برے حالات ہیں۔ صرف بجلی کے بلوں سے یہ ملک چل رہا ہے۔ آئے روز بجلی کا ٹیرف بڑھا کر ایک طرف عوام کو زندہ درگور کیا جا رہا ہے، تو دوسری طرف اسی آمدنی سے طبقہ اشرافیہ کا ہر کل پرزہ کسی خوشحال ملک کے حکمرانوں جیسی زندگی گزار رہا ہے۔ عوام سے قربانی مانگتے تو 76 برس ہو گئے۔ اب کچھ قربانی اقتدار میں آنے والے طبقوں کو بھی دینی چاہئے۔ پلے سے تو نہ ٹیکس دینا ہے اور نہ حصہ ڈالنا ہے کم از کم سادگی اپنا کر اخراجات کم کر کے اربوں روپے کی بچت تو کی جا سکتی ہے۔ مگر صاحب اس کے لئے سوچ بدلنے کی ضرورت ہے۔ خود غرضی کے حصار سے نکل کر عوام کی خدمت اور ذاتی کی بجائے ملک کی خوشحالی کو ترجیح دینے کا جذبہ درکار ہے۔ جو بدقسمتی سے موجودہ حالات میں بالکل نا پیدا نظر آتا ہے۔
(0)تبصرے