ضرورت تو ٹھہراؤ کی ہے مگرصاحبان اقتدار شاید کسی دوسرے طریقے سے ٹھہراؤ لانا چاہتے ہیں، ایک بڑی سیاسی جماعت جس کی پورے ملک میں نمائندگی موجود ہے، اسے راستے سے ہٹانے کے لئے پابندی لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اس سے کیا ہوگا؟ کیا سیاسی استحکام آ جائے گا؟ کوئی دلیل کے ساتھ اس کا جواب ہاں میں دیتا ہے تو اسے ہار پہنا کر یہ فیصلہ قبول کرلینا چاہیے،بالفرض پابندی لگتی ہے اور اس دن تحریک انصاف عمرانی یا تحریک انصاف جمہوری یا پھر کسی اور نام سے نئی جماعت قائم کر دی جاتی ہے تو کیا ہوگا۔کیا پہلے اس ملک میں کوئی جماعت پابندی لگانے سے ختم ہوئی ہے ہاں یہ ضرور ہے کہ تلخیوں اور انتشار کی ایک تاریخ ضرور رقم ہو گئی، پھر سیاسی حلقے اس بات پر بھی حیران ہیں کہ ایک سیاسی جماعت دوسری جماعت پر پابندی لگانے کا سوچ رہی ہے، ایسا تو اس ملک میں کبھی نہیں ہوا،البتہ آمریت کے دور میں ایسے فیصلے ضرور ہوتے رہے، یہی وجہ ہے کہ اس معاملے پر مسلم لیگ (ن) جو اس وقت حکمران جماعت ہے اور وزارت عظمیٰ اس کے پاس ہے اس اعلان کے بعد سیاسی تنہائی کا شکار نظر آتی ہے۔ خود حکومت میں شامل اتحادیوں نے تحفظات کا اظہار کر دیا ہے جبکہ جماعت اسلامی، جمعیت العلمائے اسلام،اے این پی جیسی اہم جماعتیں بھی پابندی لگانے کے فیصلے کو مسترد کر چکی ہیں ابھی ہنوز دلی دور است کے مصداق پابندی کا مرحلہ دور ہے کہ یہ معاملہ پہلے سپریم کورٹ میں جائے گا،پابندی کا ریفرنس منظور ہوا تو پابندی لگائی جائے گی تاہم اس قسم کے عزائم کا اظہار کرکے مسلم لیگ ن نے گویا اپنی شکست تسلیم کرلی ہے کہ وہ سیاسی میدان میں تحریک انصاف کا مقابلہ نہیں کر سکتی، یہ کہہ دینا آسان ہے کہ پاکستان اور تحریک انصاف ایک ساتھ نہیں چل سکتے مگر اسے ثابت کرنا اتنا آسان نہیں۔ ملک میں کوئی جماعت بھی عوام کی تائید کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی اور جسے عوامی تائید حاصل ہو اسے اس طرح ختم بھی نہیں کیا جا سکتا، سپریم کورٹ اپنے حالیہ فیصلے میں تحریک انصاف کو ایک سیاسی جماعت تسلیم کر چکی ہے اور مخصوص نشستیں بھی اسے دینے کا حکم دیا ہے۔ اب اس کے فیصلے کے خلاف مسلم لیگ ن نے سپریم کورٹ میں نظرثانی کی اپیل کر دی ہے۔ یہ ایک آئینی راستہ ہے اور اس فورم پر حکومت اور مسلم لیگ (ن) کی قانونی ٹیم کو یہ ثابت کرنا چاہیے تحریک انصاف کو مخصوص نشستیں دینے کا فیصلہ غلط ہے۔ اس فیصلے کے فوراً بعد جس طرح سپریم کورٹ کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا، وزراء نے پریس کانفرنسیں کیں اور یہ تک کہا کہ جو کچھ تحریک انصاف نے مانگا نہیں وہ بھی اسے دے دیا گیا، وہ نامناسب رویہ تھا، اصل فورم یہی تھا جو اب اختیار کیا گیا ہے، تاہم اسی کے ساتھ تحریک انصاف پر پابندی لگانے کا شوشا کیوں چھوڑا گیا، اس سے تو یہی لگتا ہے سپریم کورٹ کے فیصلے نے حکومتی صفوں میں ہلچل مچا دی ہے، حالانکہ سپریم کورٹ نے صرف وہی نشستیں تحریک انصاف کو دی ہیں جو متناسب نمائندگی کے فارمولے کے تحت اس کی بنتی ہیں۔
وفاقی وزیراطلاعات نے تحریک انصاف پر پابندی لگانے کا اعلان کرتے ہوئے جو پریس کانفرنس کی اس میں جو وجوہات بتائیں وہ پہلے ہی عدالتوں میں اپنا جواز کھو چکی ہیں، سائفرکیس اپنے انجام کو پہنچ چکا ہے، فارن فنڈنگ کا معاملہ ثابت نہیں ہو سکا، باقی معاملات بھی ایسے ہیں، جنہیں سپریم کورٹ میں ثابت کرنا شائد اتنا آسان نہ ہو۔ 9مئی کے واقعات کوآج سوا سال سے بھی اوپر ہو گیا ہے، کسی ایک ملزم کو بھی ابھی تک سزا نہیں ہوسکی، یہ پراسیکیوشن کی کمزوری ہے یا درج کی گئی ایف آئی آر کمزور تھیں، معاملہ کچھ بھی ہو، یہ بنیاد بھی سپریم کورٹ میں تحریک انصاف پر پابندی کا ریفرنس دائر کرتے ہوئے شاید کمزور ثابت ہو گی۔جب 8فروری کے انتخابات ہوئے تو الیکشن کمیشن نتائج جاری کرنے میں ناکام رہا، متنازعہ صورتِ حال بنتی چلی گئی اور آج تک موجود ہے تاہم اس کے باوجود جب حکومتیں بن گئیں،اسمبلیاں قائم ہو گئیں تو سیاسی قوتوں کو استحکام کے لئے متحرک ہونا چاہیے تھا۔ عرصہ دراز سے سنجیدہ حلقے اس بات پر زور دے رہے ہیں، سیاسی افہام و تفہیم کے لئے انا کے بت توڑے جائیں۔ عمران خان اگر مسائل پیدا کررہے ہیں تو ان سے رابطہ قائم کرکے انہیں اس کا احساس دلایا جائے کہ ملک کو آگے لے جانے کے لئے استحکام کی ضرورت ہے، اس لئے وہ سسٹم کو چلنے دیں۔کوئی نہ کوئی، کہیں نہ کہیں تو ایسی گڑ بڑ ہوئی ہے، جس نے معاملات کوسلجھنے نہیں دیا۔ شاہد خاقان عباسی جو اب ایک سیاسی جماعت بنا چکے ہیں، تحریک انصاف پر پابندی لگانے کی سوچ کو احمقانہ قرار دے رہے ہیں،انہوں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے حکومت کو بڑے صائب مشورے دیئے ہیں، ان کاکہنا ہے پابندیاں لگانے سے سیاسی جماعتیں ختم نہیں ہوتیں البتہ سیاسی عدم استحکام ضرور بڑھ جاتا ہے جبکہ اس وقت ملک کو سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ سیاسی استحکام ہے، اُدھر سینیٹر مشاہد حسین سید نے بھی اس امر پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ ہم نے تاریخ سے سبق نہیں سیکھا اور پھر وہی غلطیاں دہرا رہے ہیں جو ماضی میں ہمارے لئے نقصان کا باعث بنی ہیں۔
ہماری سیاست کا یہ کتنا بڑا المیہ ہے کہ ہر دور میں انتشار اس کا مقدر بن جاتا ہے۔ آپ 76سال کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں، واقعات کی ترتیب ایک جیسی نظر آئے گی۔ ایک دور تھا جب مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی باری باری حکومت میں آجاتی تھیں۔ جب دو پارٹی نظام بن جائے تو سیاسی استحکام یقینی ہو جاتا ہے لیکن تاریخ گواہ ہے ان دنوں سیاسی جماعتوں نے بھی ایک دوسرے کو چلنے نہیں دیا۔ بے نظیر بھٹو اور نوازشریف کی حکومتیں تین تین بار وقت سے پہلے ختم ہوئیں پھر اس زمانے میں بھی یہی الزام لگتے تھے کہ پیپلزپارٹی ملک دشمن جماعت ہے جبکہ پیپلزپارٹی مسلم لیگ ن پر غداری کی تہمت لگاتی تھی۔ 2018ء میں تحریک انصاف کی حکومت بنی تو انتشار نے ایک نیا رخ اختیار کرلیا۔ اب باقی جماعتیں ایک طرف تھیں اور تحریک انصاف اپنے اتحادیوں کے ساتھ دوسری طرف، وہی پرانے الزامات، وہی کرپشن اور ملک دشمنی کے طعنے، وہی سیاسی کشیدگی، کبھی سیاسی قوتوں کو یہ ہوش نہیں آیا کہ وہ اس ملک کے ساتھ کرکیا رہی ہیں انہیں استعمال کون کررہا ہے اور اقتدار کے لئے وہ اتنی بے صبری کیوں ہیں کہ الیکشن کے فوراً بعد حکومت گرانے کے مشن پر نکل کھڑی ہوتی ہیں۔اس بار انتشار کچھ اس لئے بھی زیادہ ہے کہ 8فروری کے انتخابات کچھ زیادہ ہی متنازعہ ہو گئے اور ان پر اندرون و بیرون ملک کئی سوالات اٹھائے گئے، امریکی کانگریس کی قرارداد نے عالمی سطح پر انتخابات کی شفافیت کو متنازعہ بنا دیا تاہم اس کے باوجود یہ بات ناممکن نہیں کہ سیاسی قوتیں کسی بحران کا حل نہ نکال سکیں۔ بحران کو بڑھانا تو بہت آسان ہے اصل کامیابی بحران کو ختم کرنا ہے، سیاسی جماعتیں کوشش کریں تو یہ کامیابی ناممکن نہیں۔
(0)تبصرے