ملتان کے اکاؤنٹس آفس میں ایک کام تھا۔ کام سے فارغ ہو کر باہر نکلا تو ایک جاننے والے مل گئے۔ کہنے لگے آپ بھی بخشی خانے کسی کو ملنے آئے ہیں۔ مجھے ان کی بات پر حیرانی نہیں ہوئی، کیونکہ ایسا پہلے بھی کئی مرتبہ ہو چکا ہے۔ پہلے آپ یہ جان لیں کہ بخشی خانہ کسے کہتے ہیں۔ یہ کچہری میں وہ جگہ ہوتی ہے جہاں جیل سے ان قیدیوں کو لاکر ٹھہرایا جاتا ہے جن کی عدالتوں میں پیشی ہوتی ہے۔ نجانے کس نے اس جگہ کا نام بخشی خانہ رکھا ہوگا، تاہم یہ نام ہے بڑا معنی خیز، کیونکہ یہاں ہر کوئی بخشش مانگتا نظر آتا ہے۔ وہ بھی جو جیل کی بند دیواروں کے باہر آکر دنیا دیکھتے ہیں اور وہ بھی جو اپنے ان قیدی پیاروں سے ملنے آتے ہیں۔ یہاں ملاقات ذرا کم پیسوں میں یا مفت ہو جاتی ہے کیونکہ جیل ملنے جائیں تو وہاں ملاقاتیوں کی بس چمڑی نہیں اُدھڑتی باقی سب کچھ اتر جاتا ہے۔ بخشی خانے کے مناظر دیکھ کر اچھے اچھوں کو توبہ کے لئے کانوں کو ہاتھ لگانے کی ضرورت پیش آ جاتی ہے۔ ایک لمحے کی غلطی کسی طرح عمر بھر کا روگ بن جاتی ہے۔ اس کی مثالیں دیکھنی ہوں تو بخشی خانے کا چکر لگا لینا چاہیے۔ کہیں معصوم بچے اپنے باپ سے ملنے آئے ہوتے ہیں جس نے غصے میں آکر کسی کو قتل کیا ہوتا ہے، کہیں بوڑھے والدین اپنے بیٹے یا بیٹوں سے ملنا چاہتے ہیں جنہوں نے ان کے ارمانوں پر خاک ڈالتے ہوئے جرائم کا راستہ اختیار کیا اور انہیں جیتے جی زندہ درگور کر دیا۔ کہیں کوئی جواں سال نوبیاہتا اپنے شوہر سے ملنے آئی ہوتی ہے جو بھٹک گیا اور اس نے پیار کی بجائے نفرت کا راستہ اختیار کیا۔ غرض جتنے قیدی زنجیروں میں جکڑے پولیس کی نگرانی میں نظر آتے ہیں، سب کی اپنی اپنی کہانی ہوتی ہے اور ہر کہانی کے پیچھے ایک بات مشترک ہوتی ہے۔ غصہ اور نفرت یا پھر طمع اور ہوس نفسانی۔ سو اسی بخشی خانے کے سامنے جب میرے جاننے والے نے مجھے روک کر پوچھا کہ آپ بھی کسی سے ملنے آئے ہیں تو میں نے دل ہی دل میں شکر ادا کیا میرا درد کی اس بستی میں کوئی اکاؤنٹ نہیں کھلا، بس اکاؤنٹس آفس میں کھلا ہوا ہے، میں نے پوچھا آپ کیسے آئے؟ ان کے چہرے پر ایک ایسی کیفیت آئی جس میں ایک ہچکچاہٹ ہوتی ہے۔ جیسے وہ کچھ بتانا بھی چاہتے ہوں اور نہ بھی بتانا چاہتے ہوں۔کچھ بتانے سے پہلے انہوں نے پوچھا کیا کچہری میں آپ کا کوئی افسر واقف ہے۔ کیا کسی پولیس افسر کو آپ جانتے ہیں۔ میں سمجھ گیا۔ بس پوچھا کوئی ملاقات کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے جواب دینے کی بجائے اثبات میں سر ہلایا۔ کون ہے؟ میرا اکلوتا بیٹا ہے۔302 کا مقدمہ چل رہا ہے۔ اس کی نگرانی بہت سخت ہے۔ پولیس کہتی ہے، آج کل لوگ پیشی پر آئے ایسے قیدیوں کو گولی مار دیتے ہیں۔ بہت زیادہ ریٹ ہو گیا ہے۔ دس منٹ کی ملاقات کا بیس ہزار روپیہ مانگتے ہیں۔ میں نے پوچھا جیل میں بھی تو ملاقات کرائی جاتی ہے۔ کہنے لگے وہاں کون سی مفت ہو جاتی ہے۔ اصل میں میری بیوی اس کی ماں بہت بیمار ہے۔ میں اسے ایک دوست کے چیمبر میں بٹھا کے آیا ہوں۔ وہ کہتی ہے مجھے ایک بار بیٹے سے اچھی طرح ملوا دو، میں اسے پیار کروں سینے سے لگاؤں، پھر شاید زندگی وفا کرے یا نہ کرےّ بس میں یہ چاہتا ہوں کسی طرح پولیس والے میرے بیٹے کو وہ سامنے موجود وکیل کے کمرے تک لے آئیں جہاں اس کی ماں موجود ہے۔ کیا آپ اس میں کوئی مدد کر سکتے ہیں۔ میں سوچنے لگا ہم آزاد پھرنے والے کتنے خوش قسمت ہیں۔ مائیں اپنے بچوں کو جس وقت چاہیں مل سکتی ہیں، سینے سے لگا سکتی ہیں، کسی خوف یا وقت کی قید کے بغیر، یہ زندگی انسان پر کیسے تنگ ہو جاتی ہے۔ وہ بیٹا جو بیرون ملک ہے اور نہ بیرون شہر، صرف چند گز کے فاصلے پر موجود ہے مگر مرتی ماں کی آخری خواہش بھی پوری نہیں کر سکتا۔ یہ دن دیکھنے کی خبر اس ماں کو اس وقت مل جاتی جب اس نے بیٹے کو جنم دیا تھا تو شاید اسی وقت مر جاتی۔ پال پوس کر کڑیل جوان بنا کے اسے دیکھنے اور تن سے لگانے کو ترستی یہ ماں شاید دنیا کی سب سے دکھی اور بدنصیب ماں ہے۔ میں انہی خیالات میں غلطاں تھا تو ان کی آواز آئی، بھائی صاحب آپ نے بتایا نہیں میں نے کہا صرف چند منٹ دیں۔ میں راہ نکالتا ہوں۔ لاہور میں ایک اعلیٰ پولیس افسر سے رابطہ کیا۔ سارا ماجرا سنایا۔ کہنے لگے پروفیسر صاحب آپ یہاں کیسے پھنس گئے۔ یہ کوئی ایک کہانی تھوڑی ہے۔ کاش جرم کرنے والے پہلے سوچ لیں کہ وہ اپنے اور خاندان پر کتنی بڑی قیامت ڈھانے جا رہے ہیں۔ میں نے کہا باقیوں کا تو پتہ نہیں، یہ کہانی تو میرے علم میں آ گئی ہے۔ انہوں نے میری ضد یا بے بسی کے آگے شاید ہتھیار ڈال دیئے یا انہیں ماں پر ترس آ گیا۔ قصہ مختصر ملاقات ہو گئی اور میں یہ سوچتا ہوا گھر لوٹا کہ میرے اکاؤنٹ میں شاید ایک ماں کی یہ دعائیں بھی لکھی تھیں۔
مگر دو دن ہو گئے میں اس واقعہ کے اثر سے نہیں نکل سکا۔ یہ معاشرہ آخر جا کہاں رہا ہے۔ روزانہ خبر آجاتی ہے، محلے میں معمولی توتکار پر گولیاں چل گئیں، بندے مر گئے۔ کہیں کوئی کار پر خراش آنے کا غصہ گولی کی صورت نکال رہا ہے اور کہیں اپنی انا کی خاطر بندہ مار کر 302کا ملزم بن رہا ہے۔ یہ تو بہت پرانی بات ہے کہ جس پر 302لگ جائے وہ درخت بھی سوکھ جاتا ہے۔ پھر یہ نوجوان جو کہیں ڈکیت بن رہے ہیں اور کہیں قاتل، کہیں منشیات فروشوں کے آلہء کار ہیں اور کہیں دھوکے اور فراڈ کی زندگی کو پانا رہے ہیں، کیا انہیں ایک لمحے کے لئے بھی یہ خیال نہیں آتا کہ گھر میں ایک ماں بیٹھی ہے جس کا سارا دارومدار ہی بیٹے کی محبت پر ہے۔ یہ پھنے خان بننے اور شرافت کی بجائے بدمعاشی کا راستہ اختیار کرنے والے اگر قانون سے نہیں ڈرتے تو کم از کم اپنی ماں کی محبت ہی سے ڈریں کہ اس کا کیا بنے گا۔ کوئی ماں اپنے بیٹے کو قاتل یا ڈکیت نہیں بناتی یہ فیصلہ نوجوان بُری صحبت میں پڑ کر خود کرتے ہیں۔ ماؤں کو دکھ دینے والے بیٹے نہ بنیں ان کی خوشیوں اور امیدوں میں رنگ بھرنے والے کام کریں۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہر نوجوان کا پہلا سبق ہونا چاہیے۔
(0)تبصرے