اب یہ ہے تو بڑی دل خوش کن بات کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے اوول آفس میں وزیراعظم شہبازشریف اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر سے ایک گھنٹہ بیس منٹ بات کی۔ اس سے پہلے جب وہ دونوں شخصیات کا انتظار کررہے تھے تو انہوں نے وہاں میڈیا کے نمائندوں سے کہا آج دو بڑے رہنما ملنے آ رہے ہیں جن میں ایک پاکستان کے وزیراعظم اور دوسرے فیلڈ مارشل آرمی چیف ہیں، دونوں عظیم رہنما ہیں اس ملاقات میں کیا باتیں ہوئیں ان کی پوری تفصیل تو سامنے نہیں آ سکی البتہ یہ بات کہی گئی کہ تجارت، دہشت گردی کے خاتمے، باہمی تعلقات کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا۔ اب سوال یہ ہے کیا صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی گرم جوشی اور ان کے کہے گئے الفاظ پر ہم خوشیاں منائیں۔یہ کہیں کہ پاکستان نے میدان مار لیا ہے۔ امریکہ بڑھ چڑھ کر ہمارے ساتھ تعلقات کی پینگیں بڑھا رہا ہے۔ ایسے حالات میں کہ جب ڈونلڈٹرمپ پوری دنیا کو ناراض کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور ہر ملک کو اپنی مرضی سے چلانا چاہتے ہیں، حتیٰ کہ برازیل کے صدر کو یہ کہنا پڑا ہے کہ ٹرمپ امریکہ کے صدر ہیں پوری دنیا کے صدر بننے کی کوشش نہ کریں، ان حالات میں اگر ڈونلڈ ٹرمپ ہمارے صدقے واری جا رہے ہیں تو کیا انہیں وزیراعظم شہبازشریف اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی کوئی خاص ادا پسند آ گئی ہے۔ سطور لکھ رہا تھاتوپروفیسر خالد حمید خان نے ایک پوسٹ شیئر کی،جس میں صدر ایوب کے صدر جانشیں، ضیاء الحق سے نکسن، پرویز مشرف سے جارج بش اتنے ہی پرتپاک انداز سے مل رہے تھے، جتنے پرتپاک انداز میں صدر ڈونلڈٹرمپ نے ہمارے وزیراعظم اور آرمی چیف کا استقبال کیا۔ صدر ایوب، ضیاء الحق اور پرویز مشرف نے امریکہ سے کیا حاصل کیا۔ پاکستان کو امریکی منشاء پر چلایا یا اس کے معاشی و دفاعی مسائل حل کرانے کے لئے اس گرم جوشی کو استعمال کیا۔ ہر بار امریکہ خطے میں اپنے مفادات کو پورا کرنے کے لئے پاکستان کی پیٹھ تھپتھپاتا رہا۔ نتیجہ کیا نکلا ہم مسائل کی دلدل میں اترتے چلے گئے۔ دہشت گردی کا نشانہ بنے، منشیات کی آماجگاہ قرار پائے اور قرضوں کے بوجھ تلے ایسے دبے کہ پھر نکلنے کی مہلت نہ ملی۔ آپ ایک عام پاکستانی سے بھی پوچھیں کہ کیا امریکہ کی دوستی پر بھروسہ کیاجا سکتا ہے تو وہ کانوں کو ہاتھ لگا کے کہے گا توجہ کرو جی۔
آج ہمیں یہ سوچ کر خوشی ہو رہی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ بھارت پر ٹیرف لگا رہے ہیں اس کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ حالیہ جنگ میں پاکستان کی برتری کو سراہ رہے ہیں۔ مودی کو ملاقات کا وقت نہیں دے رہے جبکہ پاکستان کے وزیراعظم کو کھلے بازوؤں کے ساتھ خوش آمدید کہہ رہے ہیں۔کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے، وگرنہ یہی ڈونلڈ ٹرمپ ہیں جنہوں نے امریکی مفادات کے لئے پوری دنیا کو تگنی کا ناچ نچا رکھا ہے، کوئی چھوٹا ملک محفوظ ہے اور نہ بڑا ملک۔ عربوں سے کھربوں ڈالرز لے کر بھی انہیں دھمکی دیتے ہیں کہ آپ کا اقتدار ہمارے بغیر دو ہفتے قائم نہیں رہ سکتا جس بگرام ائر بیس کو چھوڑ کر خود گئے ہیں اب اسے واپس لینے کے لئے افغان حکومت پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کے حوالے سے نجانے کتنے منصوبے ہیں اور کتنی اپنی آخری حدوں کو چھو رہے ہیں۔ چین، روس اور بھارت پر نظر رکھنے کے لئے بگرام ائر بیس کی ضرورت پڑ گئی ہے یاکوئی اور منصوبہ ہے، ایران کو قابو میں رکھنے کے لئے بھی کوئی حکمت عملی تو ضرور بنائی ہوگی۔کہنے کو ڈونلڈ ٹرمپ یہ دعویٰ ضرور کرتے ہیں کہ ایران کا ایٹمی پروگرام بالکل تباہ کر دیا ہے، مگر ایران تو اسے تسلیم نہیں کرتا۔ پھر ایران کا میزائل سسٹم جو ماضی قریب میں اسرائیل کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر چکا ہے، پوری طرح فعال اور برقرار ہے۔ خطے میں اس کی طاقت اور موجودگی سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔غرض ان گنت سیکٹرز ہیں، جن میں امریکہ پھنسا ہوا ہے۔ ذرا غور کریں تو اندزہ ہوگا۔ اس کے پاس اس خطے میں قدم جمانے کے لئے سوائے پاکستان کے اور کوئی ملک ہے بھی نہیں۔ ایران اس کی دسترس سے باہر ہے، طالبان اس کے قابو میں نہیں، بھارت اپنی ایک خاص خارجہ پالیسی رکھتا ہے، اس کی معیشت بھی مضبوط ہے اور وہ ایک بڑی انسانی منڈی بھی ہے۔ اس لئے اسے روس کے کیمپ سے نکال کر امریکی کیمپ میں داخل کرنا آسان نہیں۔ ایسے میں پاکستان ہی وہ ملک ہے، جوجغرافیائی لحاظ سے بھی اہم ہے اور جن کامشرقِ وسطیٰ میں بھی اثرورسوخ موجود ہے جو افغان طالبان کو بھی قائل کر سکتا ہے جس کی حکومت اور اداروں میں بھی امریکہ کے لئے سافٹ کارنر موجود ہے۔
اب سوال یہ ہے کیا یہ پہلا موقع ہے کہ ہم امریکہ کے لے ناگزیر ملک بن چکے ہیں، نہیں جناب یہ پہلی بار نہیں ہوا۔ اس پورے ایشیائی خطے میں امریکہ گھوم پھر ہمارے پاس ہی آتا ہے، مگر افسوس یہ ہے کہ ہم نے کبھی بھی اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے بات نہیں کی۔ضیاء الحق نے سوویت یونین کے خلاف پاکستان کو ارزاں پیش کر دیا اور پرویز مشرف نے طالبان کے خلاف امریکہ کو اپنے اڈے دے دیئے۔ دونوں صورتوں میں بھاری نقصان پاکستان ہی کو اٹھانا پڑا، دہشت گردی ہمارے شہروں تک آ گئی اور ہزاروں پاکستانی اس کی نظرہو گئے۔ امریکہ جب تھک ہار کر افغانستان سے نکلنے پر مجبورہو گیا تو اس نے پاکستان کی طرف پلٹ کر نہیں دیکھا۔ ہمارے حصے میں کوئی امریکی امداد نہیں آئی بس ہمیں آئی ایم ایف کے شکنجے میں جکڑ دیا گیا۔ آج قرضوں کا بوجھ ہمارے لئے ایک ایسی مصیبت بنا ہوا ہے کہ غربت بڑھتی جا رہی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے چکنے چپڑے جملوں سے ہمارا کوئی مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ ہمیں کھل کر بات کرنی ہوگی۔ اس حوالے سے پارلیمنٹ کو اگر درمیان میں رکھا جائے تو پاکستان کے مفادات کو یقینی بنایا جا سکتا ہے، لیکن اگر صرف مقصد یہ ہو کہ امریکہ موجودہ سیٹ اپ کو سپورٹ کرے اور اس کے بدلے میں جو چاہے کروالے تو یہ بڑی بدقسمتی ہوگی۔ قومی مفاد کو آگے رکھے بغیر تاریخ کے دھارے کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ اپنی کمزوریوں کودور کئے بغیر کسی بڑے ہاتھی پر قابو نہیں پایا جا سکتا۔ ملک میں جمہوریت اور اداروں کی مضبوطی بنیادی ضرورت ہے۔ اس وقت بلوچستان، خیبرپختونخوا اور اب آزادکشمیر میں حالات فوری توجہ مانگتے ہیں۔ صرف ریاستی طاقت کسی مسئلے کا حل نہیں۔ شخصی اور قومی مفاد میں تفریق رکھنا ازحد ضروری ہے۔ اس وقت اگر امریکہ کو ہماری ضرورت ہے تو پھر اس کے تقاضوں کو طشتری میں سجا کر پیش نہیں کیا جانا چاہیے۔ پاکستان کے قومی مفادات کا تحفظ پہلی ترجیح ہونی چاہیے کہ اب ہم مزید کس ایڈونچر کے متحمل نہیں ہو سکتے۔
(0)تبصرے