جنوبی پنجاب کی محرومیوں پر لکھتے ہوئے مجھے45برس ہو گئے اس خطے میں رہنے کی وجہ سے میں یہ کہے بنا رہ بھی نہیں سکتا، میں نے اس عرصے میں یہ بات نوٹ بھی کی اور کئی بار لکھی بھی کہ جنوبی پنجاب کی محرومی کا ذکر ہر حکمران کرتا بھی ہے اور اسے ختم کرنے کی یقینی دہانی بھی کراتا ہے، مگر نجانے وہ کون سا آسیب ہے جو اس علاقے سے ہٹتا نہیں اور محرومیاں بڑھتی ہی جاتی ہیں،میں نے یہ بھی اسی قلم کاری کے دوران دیکھا کہ جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والی شخصیات کو بھی صوبے اور مرکز میں اقتدار ملا،مگر مجال ہے اُس کے دور میں اس خطے کی سُنی گئی ہو۔ کبھی یہ بھی سننے کو نہیں ملا کہ ہم اقتدار میں تو ہیں لیکن جنوبی پنجاب کے لئے وسائل مختص کرنے پر پابندی لگی ہوئی ہے۔کبھی اس خطے سے تعلق رکھنے والے کسی صاحب ِ اقتدار نے اس بنیاد پر اقتدار بھی نہیں چھوڑا کہ میں چونکہ اس وسیب کے عوام کی حالت بدلنے میں بے بس ہوں اس لئے اقتدارمیں نہیں رہنا چاہتا۔ پنجاب کی تخت نشینی زیادہ تر سنٹرل یا اپر پنجاب کے پاس رہی۔وہ بھی صرف زبانی جمع خرچ کرتے رہے اور یہ آدھا صوبہ پسماندگی اور غربت کی تصویر بنتا چلا گیا۔ اصل مسئلہ یہ بھی رہا کہ ایک زمانے تک اس علاقے کے سرداری اور وڈیرا شاہی نظام کی وجہ سے اسٹیبلشمنٹ یہاں کے سرداروں کو خوش کرتی رہی، انہیں وسائل بھی فراہم کئے اور اقتدار سے بھی نوازا جبکہ خود یہ سردار وڈیرے ترقی کے دشمن رہے،تعلیم وصنعتی ترقی ان کی موت تھی، اس لئے ان سے اس علاقے کو محروم رکھا۔ ڈیرہ غازی خان ڈویژن میں ابھی تک ایسی بستیاں بھی ہیں جہاں صاف پانی ملتا اور نہ بجلی ہے،لوگ پتھر کے زمانے کی زندگی گزارتے ہیں، بڑے شہروں کا بھی یہ حال ہے کہ صنعتوں کی ترقی نہیں ہوئی۔اعلیٰ تعلیم کے مراکز قائم نہیں کئے گئے،بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ روزگار کے مواقع پیدا نہیں ہوئے، انفراسٹرکچر وہی صدیوں پرانا ہے۔آپ ساہیوال سے آگے جنوبی پنجاب کی طرف سفر کریں تو صاف فرق نظر آئے گا، حتیٰ کہ موٹروے کے اردگرد کھیتوں کی ہریالی بھی کم ہو جائے گی۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز غالباً پنجاب کی ترقی کے حوالے سے امتیازی تقسیم پر خوش نہیں ہیں وہ آج کل گرین بسوں کا افتتاح کرنے کے سلسلے میں مختلف شہروں کا دورہ کر رہی ہیں۔ ڈیرہ غازیخان میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا پورا پنجاب اُن کے لئے اولاد کی مانند ہے، جس طرح اولاد میں انسان کوئی فرق نہیں رکھتا،اسی طرح شمالی، جنوبی اور سنٹرل پنجاب اُن کے لئے ایک جیسے ہیں وہ اس حوالے سے خاصی جذباتی نظر آئیں۔انہوں نے یہ بھی کہا پنجاب کی طرف اُٹھنے والی انگلی کو توڑ دیں گی ایک اور اعلان یہ کیا کہ مہینے میں ایک دن وہ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ میں بیٹھیں گی اور یہاں کی ترقی کے فیصلے کریں گی۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ واضح پیغام دے گئی ہیں کہ جو لوگ پنجاب کی تقسیم کا سوچ رہے ہیں، جنوبی پنجاب کو علیحدہ صوبہ بنانا چاہتے ہیں وہ یہ خواب دیکھنا چھوڑ دیں۔ یاد رہے کہ اس علاقے کی سیاست ایک دہائی سے اس نکتے پر چل رہی ہے کہ جنوبی پنجاب کو علیحدہ صوبہ بنائیں گے۔ تحریک انصاف کی حکومت کے دِنوں میں یہ غلغلہ بہت زیادہ رہا بلکہ2018ء کے انتخابات کی انتخابی مہم میں یہ ایشو سرفہرست تھا۔جب کچھ نہ بن سکا تو جنوبی پنجاب کو ایک لولا لنگڑا سیکرٹریٹ دیا گیا،جس کے خدوخال ابھی تک واضح نہیں، سارے معاملات آج بھی لاہور سے حل ہوتے ہیں،عثمان بزدار جب وزیراعلیٰ تھے تو انہوں نے بھی یہ اعلان کیا تھا وہ مہینے میں دو دن پوری کابینہ اور سیکرٹریوں کے ساتھ ملتان بیٹھیں گے، مگر پھر چراغوں میں روشنی نہ رہی۔ یہ معاملہ اتنا آسان نہیں کہ ایک بیان یا ایک تقریر سے ختم ہو جائے۔اس کی ایک بہت طویل تاریخ سے جنوبی پنجاب کو عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔صوبے کے وسائل میں آبادی کے تناسب سے حصہ چاہئے، حصہ ملے گا تو ترقیاتی کام ہوں گے۔ یہاں تو یہ حال ہے سڑکیں ٹوٹ جاتی ہیں اور دس دس سال نہیں بنتیں،جو بڑے منصوبے ملتان یا جنوبی پنجاب کو ملتے ہیں لاہور منتقل ہو جاتے ہیں ایسا تو ماضی میں بارہا ہوا کہ اربوں روپے جو جنوبی پنجاب کے لئے رکھے گئے تھے وہ لاہور میں گرین لائن منصوبے کے لئے واپس رکھ لئے گئے۔جنوبی پنجاب کے تین ڈویژنوں ملتان، بہاولپور اور ڈیرہ غازی خان میں انفراسٹرکچر بہتر ہو گا تو ترقی ہو گی،صنعتیں لگیں گی لوگوں کا رہن سہن بہتر ہو گا۔میگا پراجیکٹس سارے سنٹرل پنجاب تک محدود ہو جاتے ہیں جنوبی پنجاب میں کیوں نظر نہیں آتے۔ ایک سوچ ہے جسے بدلنے کی ضرورت ہے،اقتدار کا مرکز لاہور کو سمجھ کے سب کچھ اُس کے لئے کرتے رہنا ایک غیر منطقی پالیسی ہے۔پنجاب میں ہمہ گیر ترقی ہو گی تو لاہور پر دباؤ بھی کم ہو جائے گا۔اب کیا ہو رہا ہے جتنے ترقیاتی کام ہوتے ہیں،اُس سے زیادہ لاہور کی آبادی بڑھ جاتی ہے۔ دنیا بھر میں ہمہ جہت ترقی کے ماڈل کو اپنایا گیا ہے۔ ہم مکھی پہ مکھی مار رہے ہیں،عوام میں احساسِ محرومی بڑھے گا تو وہ اس طرح سوچیں گے جیسے آج جنوبی پنجاب کے عوام سوچتے ہیں پھر انہیں خواب دکھانے والے بھی آ جائیں گے اور علیحدہ صوبے کا سبز باغ بھی دکھائیں گے۔سب سے پہلے تو یہ سوچ بدلنی چاہئے کہ پنجاب صرف لاہور نہیں، یہ سوچ اسٹیبلشمنٹ بھی بدلے اور سیاسی قیادت بھی، پنجاب کو گریٹر رکھنا ہے تو پنجاب کو سامنے رکھا جائے،تخت لاہور کو نہیں۔
وزیراعلیٰ مریم نواز اگر یہ کام کر جاتی ہیں اور پنجاب کی ترقی کو صوبے کے طول و عرض میں پھیلا دیتی ہیں تو یہ اُن کا بہت بڑا کارنامہ ہو گا لیکن اس کے لئے انہیں صوبے کی بیورو کریسی کو ایک واضح لائن دینی ہو گی،جنوبی پنجاب کے مسائل پر گہری نظر ڈالنی ہو گی اور ایک جامع سروے کے بعد منصوبوں کا اعلان کرنا ہو گا۔ایسے منصوبے جو جنوبی پنجاب کے مختلف شہروں اور علاقوں کی تقدیر بدل دیں۔فی الحال تو سیلاب زدگان کی بحالی کا چیلنج درپیش ہے تاہم اگلے بجٹ میں اگر وہ این ایف سی ایوارڈز کی طرز پر صوبے کے اندر بھی اسی فارمولے کے تحت ترقیاتی کاموں کے لئے وسائل مختص کرتی ہیں تو اس سے نہ صرف اس خطے کا احساس محرومی کم ہو گا بلکہ پنجاب کی ہمہ گیر ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز بھی ہو سکے گا۔اگر ایسا نہیں ہوتا اور پنجاب کی اس آدھی آبادی کے لئے بجٹ میں بیس پچیس فیصد رکھے جاتے ہیں تو محرومی اور نئے صوبے کی آوازوں کو دبانا مشکل ہو گا کہ دُکھ بہت زیادہ ہیں اور صرف باتوں سے دور نہیں ہو سکتے۔
٭٭٭٭٭
(0)تبصرے