Download the Applications
Get it on Google PlayDownload on the App Store
لاگ آؤٹ
Privacy Policy Terms and Condition
NewsHunt
نسیم شاہد
language
سفارتی حدود اور خواجہ آصف کی خوش فہمی

 عالمی سفارت کاری کا یہ اصول ہے کہ کسی بھی   ملک کے وفد میں شامل افراد پر یہ غیراعلانیہ پابندی ہوتی ہے کہ وہ اپنی انفرادی حیثیت میں کوئی بات نہیں کریں گے۔ کسی کو پرائیویٹ انٹرویو دینے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ہاں معاہدوں کی تقریب کے بعد ان سے متعلق مشترکہ پریس کانفرنس کی گنجائش ضرور ہوتی ہے۔ آپ نے کبھی دیکھا کہ پاکستان میں کوئی سربراہ مملکت دورے پر آئے ہوں اور ان کے وفد میں شامل کوئی وزیر یا عہدیدار کسی ٹی وی چینل کو انٹرویو دینے پہنچ گئے ہوں۔ اس کی بڑی واضح وجہ ہے۔ ملک کے بارے میں کئی باتیں ایسی ہوتی ہیں جو بھلے دنیا کو معلوم ہوں مگر ہم ان سے متعلق سوالات کا سامنا نہیں کر سکتے۔ ایک پریس کانفرنس علیحدہ چیز ہے اس میں کئی سوالات کو نظر انداز کرنے کی صورت نکل آتی ہے، پھر یہ بھی ہوتا ہے کہ وہاں اس طرح کی تنقید یا بحث نہیں ہوتی جس طرح کسی پرائیویٹ شو میں جا کر آپ کو کسی اینکر کی طرف سے سامنا کرنا پڑتا ہے،لیکن ہمارے   تو رنگ ڈھنگ نرالے ہیں،ہمارے پاس نہ تو سفارتی آداب کی کوئی سمجھ بوجھ ہے اور نہ ہمارے وزیر و مشیر یہ سمجھتے ہیں کہ انہیں کسی پابندی کا احترام کرنا چاہئے اس لئے وہ من مانی کر جاتے ہیں۔ شاید یہ شوق ِ خودنمائی ہوتا ہے یا پھر یہ زعم کہ ہم ہر سوال کا جواب دینے کی صلاحیت و لیاقت رکھتے ہیں۔ اب اگر اسرائیل کا کوئی وزیر کسی نجی چینل کے ہتھے چڑھ جائے اور یہ سوچے کہ میں اس کے ہر سوال کو ہوا میں اڑا دوں گا تو یہ اس کی حماقت ہوگی۔ اتنے زیادہ تضادات اور شواہد سامنے آ جائیں گے کہ جن کا دفاع کرنا مشکل ہو جائے گا۔ اس لئے پالیسی یہی ہوتی ہے اپنے ملک کے مفاد میں کسی ایسے فورم کا انتخاب کیا جائے جہاں بال کی کھال اتارنے والا موجود نہ ہو۔ ڈونلڈ ٹرمپ بھی کسی ایسے اینکر کے سامنے بیٹھ جائیں جو ان کی پالیسیوں اور گورننس کے بخیے اُدھیڑنے کا سامان لے کر آیا ہو تو وہ بھی جھوٹ بولنے اور سچ کو جھٹلانے کے مرتکب قرار پائیں گے۔ اس لئے سوالات کے تبادلے کی رسم ادا کرنے کے بعد ہی ڈونلڈ ٹرمپ سے کسی انٹرویو کا وقت لیا جا سکتا ہے۔ یہ ساری تمہید میں نے اس لئے باندھی ہے کہ ملک کے وزیردفاع خواجہ  محمد آصف کے امریکہ میں دیئے گئے ایک انٹرویو کے حوالے سے ہاہاکار مچ گئی ہے۔موصوف اس انٹرویو کے دوران جگہ جگہ ڈگمگائے ہیں اور سامنے کی حقیقتوں کو جھٹلانے کے مرتکب ٹھہرے ہیں۔ پہلا سوال تو یہی ہے کہ انہوں نے ایک ایسے اینکر کے ساتھ جس کے بارے میں مشہور ہے کہ پوری تیاری کرکے آتا ہے اور جس ملک سے متعلق انٹرویو ہو اس کے حالات پر اس کی گہری نظر ہوتی ہے اسے انٹرویو دینے کی پیشکش خواجہ صاحب نے قبول ہی کیوں کی۔ کیا انہیں معلوم نہیں تھا کہ پاکستان میں اس وقت جس نظام کو وہ ہائبرڈ نظام خود کہتے ہیں کئی اقسام کے تضادات کا شکار ہے۔ اس پر پردہ ہی پڑا رہے تو اچھا ہے، کیونکہ دلائل سے اس کا دفاع کرنا آسان نہیں۔ وہ پاکستانی وفد میں شامل تھے اور انہیں اس وفد کی سرگرمیوں تک ہی محدود رہنا چاہیے تھا۔ وہ ایسی گلی میں کیوں نکل گئے،جہاں کا انہیں تجربہ تھا او رنہ خبر تھی۔

اگر پچاس رکنی وفد کے باقی تمام ارکان اپنے کام سے کام رکھے ہوئے تھے اور خود وزیراعظم شہبازشریف کسی پرائیویٹ انٹرویو کے تکلف میں نہیں پڑے تو خواجہ آصف نے ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنانے کا فیصلہ کیوں کیا۔ لوگ شاید درست کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے اپنی اس خود اعتمادی کی وجہ سے جو انہیں پاکستانی اینکرز کے سامنے انٹرویوز دیتے ہوئے حاصل رہی، یہ فیصلہ کرلیا اور مہدی حسن کو بھی اسی انداز کا اینکر سمجھ کر انٹرویو دینے کی حامی بھرلی، حالانکہ معاملہ یکسر مختلف اور الٹ تھا۔ پھر غالباً انہوں نے انٹرویو کی حدود بھی طے نہیں کیں اور سینہ تان کے جا بیٹھے۔ پھر جو کچھ ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔مجھے اس کا افسوس نہیں خواجہ آصف ایکسپوز ہوگئے، وہ شاید اسے اتنا زیادہ سنجیدہ نہ لیں اور فخریہ انداز سے کہیں دیکھیں میں نے میدان تو نہیں چھوڑا، ہار تو نہیں مانی، ہر سوال کا جواب بھی دیا اور مہدی حسن کے تجزیوں کو بھی جھٹلایا، مجھے تو اس بات کا افسوس ہے کہ پاکستان کے بارے میں دنیا کو ایک منفی پیغام گیا۔ آپ بات کو لاکھ جھٹلاتے رہیں بات میں دم ہے تو وہ وہیں رہتی ہے۔ پھر اس کے پیچھے ایک واقعاتی سچائی بھی ہو تو جگ ہنسائی کا باعث بنتی ہے۔ دنیا میں کوئی ملک ایسا نہیں جو کسی نہ کسی حوالے سے تضادات میں نہ الجھا ہو۔ آپ اگر بھارت کے وز یر دفاع کو کسی ایسے اینکر کے سامنے بٹھا دیں اور وہ سوال کرے آپ مقبوضہ کشمیر میں ظلم ڈھا رہے ہیں، آپ نے کشمیریوں کی آزادیاں سلب کی ہوئی ہیں،  اگرچہ انکار کریں گے مگر اینکر کئی شواہد سامنے رکھ کر جب انہیں لاجواب کردے گا تو دنیا کو منفی پیغام جائے گا۔ پھر خواجہ آصف سے اتنا بھی نہ ہو سکا کہ وہ کئی سوالوں پر اینکرمہدی حسن کو ٹوک دیتے کہ ہمارا داخلی معاملہ ہے، آپ اس پر سوال نہ کریں۔اس کی بجائے وہ جواب دینے پر بضد رہے اور پھر اپنے جواب کو درست ثابت کرنے ک لئے دلائل بھی دیتے گئے جو آبیل مجھے مار والی بات ہوتی ہے۔

ہر ملک میں ایک فارن آفس ہوتا ہے۔اس فارن آفس کی مضبوط گرفت ہوتی ہے۔ وہی یہ طے کرتا ہے سرکاری وفد نے کیسے جانا ہے، کس سے ملنا ہے، کیا کہنا ہے اور کن لوگوں سے دور رہنا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے ہماری بعض سیاسی شخصیات خود کو فارن آفس کی ہدایات اور پابندیوں سے ماورا سمجھتی ہیں، کئی ایسے بیانات داغ دیئے جاتے ہیں،جو ہماری فارن پالیسی کے خلاف ہوتے ہیں اور مسائل کا باعث بنتے ہیں۔ فارن آفس کو اگر عالمی سطح پر کوئی ایشو ہائی لائٹ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ اس کے لئے کوئی فورم ڈھونڈتا ہے کسی پرائیویٹ چینل سے بات بھی کرنی ہو تو پہلے تمام معاملات اور سوالات طے کئے جاتے ہیں ایسا تو کسی دوسرے ملک میں ممکن نہیں کہ کوئی سرکاری وفد کے ساتھ بیرونی دورے پر جائے اور اپنی مرضی سے کسی چینل یا اینکر کو انٹرویو دے سکے، مگر ہم تو ہیں ہی نرالے اور کرمانوالے۔ پھر خواجہ آصف تو خود کو سمجھتے ہی ہر فن مولا ہیں۔ ان کے نزدیک کوئی مائی کا لعل ایسا جما ہی نہیں جو ان کے سامنے ٹھہر سکے سو وہ اینکر مہدی حسن کے پروگرام میں پہنچ گئے۔وہ سمجھے تھے اینکر پاک امریکہ تعلقات اور بھارت کے ساتھ دفاعی معاملات پر سوال کرے گا مگر نصاب میں کچھ نئے سوالات  آ گئے وہ چاہتے تو ان سے کنارہ کشی اختیار کر سکتے تھے مگر انہوں نے سیاہ کو سفید ثابت کرنے کا راستہ اختیار کیا اور پھر چراغوں میں روشنی نہ رہی۔

مزید :

رائے -کالم -

شیئر کرنا
آرکائیو
پسند

view_more_opinions_from نسیم شاہد

(0)تبصرے