میری پولیس افسروں سے بڑی اچھی دوستیاں ہیں اور رہی ہیں۔ یہ دوستیاں کسی غرض اور خوف کے بغیر رہیں اور چلتی رہیں۔ ایک بار ایک برطانوی دوست مجھے ملنے آئے۔ اتفاق سے میرے پاس ایک پولیس افسر دوست بیٹھے تھے اور وہ بھی باوردی۔ تھوڑی دیر بعد جب وہ چلے گئے تو برطانوی دوست نے کہا کیا تم مجرم ہو؟ میں اس کے سوال پر حیران ہوا اور کہا یہ تم کیا کہہ رہے ہو، اس نے کہا میں دو ایسے پاکستانیوں کو مل چکا ہوں، جن کے پاس وردی والے پولیس افسر بیٹھے ہوئے تھے۔ میں نے نوٹ کیا کہ وہ دوسرے دوستوں کی بجائے زیادہ توجہ انہیں دے رہے تھے۔اس سے میں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ پاکستان میں لوگ پولیس افسروں سے تعلقات اس لئے رکھتے ہیں کہ دوسروں پر رعب ڈال سکیں یا پھر ان کی نفسیات میں کوئی ایسی کمزوری ہوتی ہے جو انہیں پولیس والوں سے تعلقات بنانے پر مجبور کرتی ہے۔ پھر اس نے پوچھا تمہاری کیا مجبوری ہے؟ میں نے کہا کوئی مجبوری نہیں بس یہ میرا دوست ہے اور اکثر گپ شپ لگانے آ جاتا ہے۔ مجھے اس سے کبھی کوئی کام پڑا ہے اور نہ اس نے مجھے کسی مشکل میں ڈالا ہے۔ اس نے کہا یہ تو بڑی اچھی بات ہے، پولیس والے بہت اچھے اور ذہین بھی ہوتے ہیں اگر ان سے دوستی صرف انسانی تعلق کی بنیاد پر ہو تو بہت خوبصورت بات ہے لیکن اگر کوئی اس لئے کرتا ہے کہ اس کی وجہ سے دوسروں پر دباؤ ڈال سکے تو بڑی معیوب چیز ہے۔ میں اس کے مشاہدے پر بڑا محظوظ ہوا۔ وہ بالکل صحیح جگہ پر پہنچا تھا۔ پھر اس نے بتایابرطایہ میں کوئی پولیس والا آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا، تاوقتیکہ آپ نے قانون شکنی نہ کی ہو۔ قانون سے ماوراء اقدام کا تو وہاں کوئی تصور ہی نہیں لیکن یہاں سنا ہے اگر کوئی پولیس والا آپ کا دوست یا جاننے والا ہے تو پھر آپ اس سے کوئی بھی غلط کام کروا سکتے ہیں۔ میں نے کہا ایسا عمومی طور پر نہیں ہوتا۔ کچھ اہلکار یا افسر ایسے ضرور ہوتے ہیں تاہم یہاں پکڑ بھی بہت سخت ہوتی ہے۔ ایسے افسروں اور اہلکاروں پر ایف آئی آر بھی ہو جاتی ہے اور نوکری سے ہاتھ بھی دھونے پڑتے ہیں۔ اس پر وہ خاصا حیران ہوا۔ میں نے اسے سابق ایڈیشنل آئی جی اور آئی بی کے سابق سربراہ جاوید نور مرحوم کی کہی ہوئی ایک بات سنائی۔ میں نے کہا وہ کہا کرتے تھے پولیس والے اوپر سے جتنے بااختیار نظر آتے ہیں، وہ محکمانہ احتساب کی وجہ سے ہمیشہ خوفزدہ رہتے ہیں۔ کبھی ان کی حالت دیکھنی ہو تو ارول روم میں آکر دیکھیں، جہاں بڑے بڑے طاقتور پولیس والوں کی ٹانگیں تھر تھر کانپ رہی ہوتی ہیں، کیونکہ کوئی ایک فیصلہ ان کی ساری افسری اور اکڑ کی ہوا نکال دیتا ہے۔
وہ چلا گیا تو میں سوچنے لگا مہذب اور آزاد معاشروں کے لوگ کتنے مختلف انداز سے سوچتے ہیں۔ وہ عدم تحفظ میں مبتلا نہیں ہوتے کہ کسی طاقتور کے سہارے کی ضرورت پڑے۔ وہ جانتے ہیں قانون اور ریاست ہی ان کا سب سے بڑا سہارا بھی ہے اور تحفظ بھی۔ یہاں یہ بات عام ہے کہ اگر آپ اس معاشرے میں جینا چاہتے ہیں تو آپ کے حلقہء احباب یا رشتہ داروں میں کوئی بیورو کریٹ، کوئی پولیس افسر، کوئی بڑا سیاستدان یا حساس ادارے کا افسر ہونا چاہیے، وگرنہ آپ کسی وقت بھی کسی بادسموم کے تھپیڑے کی زد میں آکر رگڑے جائیں گے جس طرح آج کل ٹریفک کے حالات دیکھ کر کہا جاتا ہے مہارت یہ نہیں آپ خود دیکھ بھال کے ڈرائیونگ کریں بلکہ اصل مہارت یہ ہے کہ آپ سامنے سے آنے والے ڈرائیور کی زد میں آنے سے بچیں۔ کوئی کسی وقت بھی آپ کو ہدف بنا کر اپنا کام دکھا سکتا ہے، اسی طرح ہمارے ہاں کسی طاقتور سے بچ کر رہنا بھی ایک آرٹ ہے۔ اگر آپ کے محلے میں کوئی بدمعاش یا نودولتیا آ گیا ہے تو اس کے تھانے کے ایس ایچ او سے رابطے بھی ہوں گے، سب سے پہلے ایس ایچ او کی تعیناتی پر پھولوں کا گلدستہ بھی وہی پیش کرے گا، کھانے کی دعوت بھی وہی دے گا اور اس کی بنیاد پر چودھراہٹ بھی جمائے گا۔ میرا ایک شاگرد پولیس میں ایس ایچ او بن گیا تو مجھے ملنے آیا۔ میں نے پوچھا یہ ایس ایچ او بننے پر پھول لینے یا ہار پہننے کی رسم کیوں عام ہو گئی ہے۔اس کا فائدہ کیا ہے۔ ہنس کر کہنے لگا سر، اس سے ایک طرف افسر خوش ہو جاتے ہیں کہ ایک اچھا ایس ایچ او لگایا ہے، عوام میں پذیرائی مل رہی ہے، دوسرا علاقے کے لوگوں میں بھی دھاک بیٹھ جاتی ہے۔ اس لئے ہم منع نہیں کرتے، میں نے کہا لیکن سب سے پہلے تو یہ رسم نبھانے نامی گرامی شہرت والے آتے ہیں، جنہیں لوگوں کو یہ بتانا مقصو دہوتا ہے کہ نیا ایس ایچ او بھی اپنا ہی بندہ ہے۔ اس سے تو غلط پیغام جاتا ہے، اس نے کہا کبھی آپ نے علاقے کے شرفاء کو تھانے کے نئے ایس ایچ او کو خوش آمدید کہتے دیکھا ہے؟ جب وہ نہیں آئیں گے تو پھر انہی سے کام چلانا پڑے گا۔ اب اس صورتِ حال میں معاشرے کے منفی ذہن رکھنے والوں کو اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے سے کیسے روکا جا سکتا ہے۔
میں اپنی زندگی میں ایسے بیسیوں واقعات دیکھ یا سن چکا ہوں، جن میں اپنے افسروں سے رابطے یا تعلق کی مدد سے لوگوں نے دوسروں کی جائیدادوں پر قبضے کئے، جھوٹے مقدمے کروائے اور بلیک میل کرکے رقوم حاصل کیں۔ ہر ایسے واقعہ پر یہ سوچ کے افسوس ہوتا ہے کہ ہم نے مل جل کے پاکستانی معاشرے کو خوف کا معاشرہ بنا دیا ہے۔ نوے کی دہائی میں جب میں ملتان رینج پولیس کے جریدے پولیس میگ کا ایڈیٹر تھا اور ایس ایس پی آفس میں میرا کمرہ تھا تو ایسے کئی واقعات سامنے آئے۔ ضلعی پولیس افسر اچھا ہو تو نیچے تک اس کے اثرات جاتے ہیں۔ میں نے کئی پولیس والوں کی پیٹیاں اور وردیاں ناجائز اختیارات کے استعمال پر اترتی دیکھیں۔ میں آج بھی یہ سمجھتا ہوں کہ پولیس والے اس مافیا کے چنگل سے نکل آئیں جو انہیں اپنے مذموم مقاصد کے لئے استعمال کرتا ہے تو خوف کے کئی بت ٹوٹ سکتے ہیں۔ پولیس والے اگر اس سوچ کو بدلیں کہ لوگ ان سے تعلقات بنانے میں فخر محسوس کرتے ہیں اور سا سوچ کو اپنے اندر پروان چڑھائیں کہ صرف قانون سے اپنا اٹوٹ تعلق رکھنا ہے تو نہ صرف ان کی حقیقی عزت بھی بڑھ سکتی ہے بلکہ معاشرے میں تحفظ کا احساس بھی دوچند ہو سکتا ہے، مگر یہ بہت مشکل کام ہے۔ پولیس کی نوکری کو کھڑکے دڑکے کی نوکری سمجھنے والے یہ گھاٹے کا سودا کیسے کر سکتے ہیں۔
(0)تبصرے