آج کل ہر کوئی دہائی دے رہا ہے کہ سختی بہت ہو گئی۔ اصل میں قصور ان کا بھی نہیں۔ وطن عزیزمیں ہر شخص نے انجوائے بھی تو بہت کیا ہے۔ بے لگام آزادی کی جو لہریں مہریں ہمیں حاصل رہی ہیں، وہ چھن رہی ہیں تو واویلا تو مچنا ہی ہے، ہاہا کارمچی ہوئی ہے کہ پیرا فورس چین نہیں لینے دے رہی۔ روزگار چھین رہی ہے، میں جب بھی کسی بازارمیں خریداری کے لئے جاتا تھا تو تجاوزات دیکھ کر، ریڑھیاں عین سڑک کے درمیان تک کھڑی پا کر ایسے ہی بے جا مداخلت کرتے ہوئے یہ ضرور کہتا بھائیو خدا کا خوف کرو، لوگوں کے لئے راستہ تو چھوڑ دو، تب ان سب میں سے اکثر مجھے خونخوار نگاہوں سے دیکھتے، بس میرا گریبان نہیں پکڑتے تھے۔ وہ میری اس بات کو بڑی گستاخی سمجھتے تھے۔ میں انہیں ایک پنجابی فلم کا نام یاد دلاتا، ات خدا دا ویر ہوندا اے یعنی آپ کی حد سے بڑھی من مانی فطرت کو پسند نہیں آتی، مگر وہ ایک کارپوریشن کے عملہ تہہ بازاری کو دیکھ کر تو کچھ دیر کے لئے بندے بن جاتے، اِدھراُدھر ہوتے لیکن اُن کی عام آدمی کے لئے اکڑ وہیں رہتی، ان کی وجہ سے ٹریفک رکی ہوتی تو وہ ایسے بے پروا بیٹھے ہوتے جیسے اپنے محل میں مقیم ہیں۔ اب سختی کا رونا رو رہے ہیں، بچوں کے بھوکے مرنے کی کہانیاں سنا رہے ہیں، پہلے ہی حدود و قیود میں رہنا سیکھ لیتے تو اتنی تکلیف نہ ہوتی۔ انہیں ریڑھیوں کے لئے جو شہر کے باہر جگہ دی جاتی تھی، اس پر بازار لگا لیتے تو آج وہاں رونق بھی ہوتی اور کسی خوف کے بغیروہ کاروبار بھی کررہے ہوتے، مادر پدر آزادی ہم سب مانگتے ہیں، حالانکہ یہ آزادی تو دنیا میں کہیں بھی حاصل نہیں ہوتی، کیونکہ جہاں یہ آزادی حاصل ہوتی ہے وہ مہذب معاشرہ نہیں رہتا، جنگل بن جاتا ہے۔ چونکہ ہم میں اکثریت ایسے ہی جنگل والے معاشرے کی عادی ہے اس لئے سختیوں کا دور شروع ہوا ہے تو ہاہا کار مچی ہوئی ہے۔
آج کل ٹریفک چالانوں پر بڑی لے دے ہو رہی ہے۔ ایک شور مچا ہوا ہے کہ ٹریفک پولیس کو پیسہ اکٹھا کرنے کی فورس بنا دیا گیا ہے، جبکہ سیف سٹی کے کیمروں سے ہونے والے چالان عوام کے لئے علیحدہ دکھ بن گئے ہیں۔ کراچی میں پہلی بار سیف سٹی کے کیمروں نے ای چالان کا سلسلہ شروع کیا تو اسے سندھ حکومت کا ظالمانہ اقدام قرار دیا گیا، شہر میں ٹریفک سگنلز نہ ہونے، سڑکوں کی شکست و ریخت اور زیبرا کراسنگ کی عدم موجودگی کو بنیاد بنا کر احتجاج کیاگیا، مگر یہ سب کمزور اعتراضات ہیں، اگر ہیلمٹ پہننے کی شرط رکھ دی گئی ہے تو آپ نے اسے پہننا ہے، اس کا سڑک کے کھڈوں یا زیبرا کراسنگ نہ ہونے سے کیا تعلق۔ اوورلوڈنگ اگر صاف نظر آ رہی ہے تو اسے کیمرے کی آنکھ میں آنے سے کیسے روکا جائے، اس سے پہلے پنجاب میں سیف سٹیز کا نظام آ چکا ہے۔ ٹریفک وارڈنز بھی چوکوں پر کھڑے چالان کررہے ہیں، ٹریفک کی ہر خلاف ورزی پر چالان 2ہزار روپے کر دیا گیا ہے غریب ملک میں عوام پر اتنا ظلم حکومت کی بے حسی کے مترادف ہے۔ یہ وہ جملہ ہے جو اکثر سننے میں آتا ہے۔ میں نے بغیر ہیلمٹ موٹرسائیکل چلانے والے ایک نوجوان پوچھا ہیلمٹ کیوں نہیں پہنتے، کہنے لگا پہننا اچھا نہیں لگتا۔ اس نے بتایا ایک ماہ میں ہیلمٹ کے بغیر موٹرسائیکل چلانے پر اس کا دوبار چالان ہو چکا ہے۔ کئی یہ بہانا کرتے ہیں ان کے پاس ہیلمٹ خریدنے کے پیسے نہیں جبکہ ہیلمٹ ہزار،بارہ سوکا آجاتا ہے، چالان دو ہزار کا ہوتا ہے، وہ کسی نہ کسی طرح اسے ادا بھی کرتے ہیں۔ اصل میں عیش کرنے کی عادت نے ہم سب کے مزاج خراب کر دیئے ہیں۔ پابندی تو ہمیں ایسے لگتی ہے، جیسے کسی نے ہمیں گالی دے دی ہو۔ یہ درست ہے کہ ٹریفک پولیس کو چالان کرنے کا ہدف ملا ہوا ہے کیونکہ پنجاب حکومت کے بجٹ میں ان سے حاصل ہونے والی آمدنی رکھ دی گئی ہے، مگر کچھ فرض تو گاڑی چلانے والوں کا بھی ہے کہ وہ کاغذات، ڈرائیونگ لائسنس اپنے پاس رکھیں اور قوانین کی پابندی کریں۔ اگر سب کچھ پاس ہونے کے باوجود ٹریفک وارڈن زبردستی چالان کرتا ہے تو پھر شکایت کا حق بھی ہے اور احتجاج بھی بنتا ہے۔ آپ نے کبھی آٹو رکشہ والوں کو ڈرائیونگ کرتے دیکھا ہے۔ کوئی قانون قاعدہ ان کی راہ نہیں روک سکتا۔ وہ لیفٹ سے بھی اوورٹیک کرتے ہیں اور گزرنے کی جگہ نہ ہو تو وہاں بھی رکشہ پھنسا دیتے ہیں۔ اکثر کے پاس ڈرائیونگ لائسنس نہیں ہوتا اگر ہو بھی تو زائد المیعاد ہوتا ہے۔ اب وارڈن چالان کرے تو رکشہ کو آگ لگا کر مظلومیت کی داستان بھی رقم کی جاتی ہے۔ یورپ یا امریکہ میں کوئی لائسنس کے بغیر گاڑی چلانے کا سوچ بھی نہیں سکتا، یہاں سڑکوں پر دندناتے پھرتے ہیں اور حادثات کو خوفناک حد تک بڑھانے کا باعث بنتے ہیں۔
ایک بات ہمیں بطور شہری سمجھ لینی چاہیے کہ زیادتی اور ظلم ایک چیز ہے اور قانون کی سختی دوسری چیز۔ قانون پر سختی سے نفاذ مہذب معاشروں کی پہچان ہوتی ہے۔ ہمیں یہ عادت رہی ہے کہ قانون ہونے کے باوجود یہ جملہ بولتے رہے ہیں یہاں کون پوچھتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس ملک کی ایلیٹ خود کو قانون سے ماورا سمجھتی ہے، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ جب اس ایلیٹ کلاس کا کوئی فرد قانون کی گرفت میں آ جاتا ہے تو اسے عوام کی شدید نفرت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مجوزہ 27ویں ترمیم پر بھی تنقید اس لئے کی جا رہی ہے کہ اس میں قانون کو امتیازی بنایا جا رہا ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عوام کو قانون کا پابند بنانے کی جتنی کوشش اور سختی کی جا رہی ہے۔ اتنی ہی سختی سرکاری دفاتر میں موجود کرپشن اور اختیارات کے بے جا استعمال کو روکنے کے لئے بھی کی جانی چاہیے۔ خود پیرا فورس کے بارے میں ایسی شکایات آنے لگی ہیں کہ اس کے اہلکار بھتہ وصول کرنے لگے ہیں اور انہوں نے مساوی آپریشن کے بجائے منتخب آپریشن شروع کیا ہوا ہے۔ قانون کو یکساں طور پر انصاف اور میرٹ پر نافذ کرنا معاشرے کی اصلاح کے لئے ضروری ہے، لیکن کسی کو یہ اجازت نہیں ہونی چاہیے کہ وہ انصاف کا صوابدیدی نظام نافذ کرے، ایسے رویے اصلاح کی بجائے مزید خرابی کا باعث بنتے ہیں۔
(0)تبصرے