ایک سینئر بیورو کریٹ دوست جو اس وقت ایک اہم انتظامی عہدے پر فائز ہیں۔ ذرا وکھڑی ٹائپ کے افسر ہیں،اُن کی روزمرہ مصروفیات دیکھ کر لگتا نہیں کہ بیورو کریسی کی اس لاٹ سے تعلق رکھتے ہیں،جو اپنے پروٹوکول اور کروفر کی اسیر ہے اور جو عوام سے دور رہنے ہی کو سب سے بڑی افسری سمجھتی ہے۔ کل اُن سے ایک طویل نشست ہوئی تو انہوں نے دو اہم باتیں کیں۔میں نے اُن پر غور کیا تو مجھے لگا ان میں بڑی سچائی ہے پھر اگر یہ باتیں ایک سینئر بیورو کریٹ کہہ رہا ہے تو اُن کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔میں نے دو تین کالموں میں اس بات کا ذکر کیا تھا کہ ہمارے افسروں کی یہ عادت بن چکی ہے وہ لوگوں سے دور رہنا پسند کرتے ہیں، عام گھرانوں سے سی ایس ایس کر کے آنے والے نوجوان بھی چند سال بعد ہی اپنی کلاس بدل لیتے ہیں اور اپنے ہی طبقے سے تعلق رکھنے والوں کو اچھوت سمجھنے لگتے ہیں۔ سینئر بیورو کریٹ دوست نے کہا اس میں کوئی شک نہیں افسری کا جادو سر چڑھ کے بولتا ہے، لیکن میں اپنے جونیئر افسروں کو سمجھاتا ہوں کہ افسری کا مطلب یہ نہیں معاشرے کے کمزور طبقوں پر افسری جمانا شروع کر دو، کسی دھوتی والے،غریب،سفید پوش یا عام آدمی کو اپنے دفتر میں ایسے ملو جیسے کسی غلام سے مل رہے ہو اور دوسری طرف کوئی طاقتور، کوئی پیسے والا یا کوئی عہدے یا اختیار والا آئے تو اُس کے سامنے بچھ بچھ جاؤ۔یہ دہرا معیار منافقت کی ایک شکل ہوتا ہے اس سے بچنے کی ضرورت ہے۔ آپ ریاست کے ملازم ہیں اور حکومت آپ پر کروڑوں روپیہ اس لئے خرچ کرتی ہے کہ آپ عوام کے مسائل حل کریں۔اگر آپ افسری تو چاہتے ہیں،اُس کے مزے بھی لوٹتے ہیں لیکن عوام کو اہمیت نہیں دیتے اور خواص آ جائیں تو اپنی کرسی چھوڑ کر اُن کا استقبال کرتے ہیں تو یہ اپنے ہی عہدے کے تقاضوں سے انحراف ہے۔انہوں نے کہا اگر کوئی کمزور سائل صرف اس ڈر سے افسر کے سامنے زبان نہیں کھولتا کہ کہیں وہ ناراض نہ ہو جائے تو یہ افسر کے لئے فخر نہیں ندامت کی بات ہونی چاہئے۔انہوں نے کہا میں نے پہلے دن سے یہی اصول اپنایا کہ ہر سائل اور ہر شخص کی عزت کرنی ہے اسے حوصلہ دینا ہے، اُس کی بات سُن کر حل نکالنا ہے، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ میں کسی احساسِ کمتری میں مبتلا نہیں ہوتا، کسی بابا جی کے پاس جا کر اُن کا مسئلہ سننا ہو تو اپنی کرسی چھوڑ دیتا ہوں، کوئی دکھیا اونچی آواز میں بات کرے،نظام کو کوسنے دے تو صبر و تحمل سے سن لیتا ہوں کہ اسے نظام سے انصاف نہیں ملا تو یہ ایسی باتیں کر رہا ہے۔ دوسری طرف میں ایسا کبھی نہیں کرتا کہ میرے دفتر میں پانچ عام لوگ آئے بیٹھے ہوں اور ایک خاص اور طاقتور آ جائے تو اُن سب سے کسی کو باہر بھیج دوں۔وہ ریاست کے دفتر میں آئے ہیں اور ریاست تو اپنے شہریوں میں فرق نہیں کرتی۔
اُن کی باتیں مجھے حیران کر رہی تھیں، ایک سینئر بیورو کریٹ اپنے ہی طبقے پر غیر محسوس طریقے سے تنقید کر رہا تھا وگرنہ یہاں تو آپ جس سے ملیں وہ اپنے طبقے کی حمایت کرتا نظر آئے گا،اُس کے ہر عمل کا دفاع کرے گا چاہے وہ کتنا ہی بھونڈا کیوں نہ ہو۔ میں نے پوچھا، یہ تاثر کیوں ہے کہ سرکاری افسر عام آدمی کاجائز کام بھی نہیں کرتے اور جو بااثر ہیں وہ اپنا جائز ناجائز ہر کام چٹکیوں میں کرا لیتے ہیں۔ میں نے کئی ایسی مثالوں کا ذکر کیا جن میں کسی عام آدمی، غریب یا بے وسیلہ کام مختلف اعتراضات لگا کر نہ کیا گیا،مگر جب وہ اپنے علاقے کے بااثر نمائندے یا کسی ذریعے سے تگڑی سفارش کرانے میں کامیاب ہوا تو وہی کام بآسانی ہو گیا۔ انہوں نے کہا اس کی دو وجوہات ہیں پہلی وجہ تو یہ کہ افسر بھی یہ چاہتے ہیں کہ کسی رکن اسمبلی یا بااثر شخصیت کے کہنے پر کام کریں تاکہ اُن پرا حسان کیا جائے اور بوقت ضرورت اُن سے کام لیا جا سکے۔دوسری وجہ اُن کا خوف بھی ہوتا ہے کہ کام نہ کیا تو مخالف ہو جائیں گے۔ تحریک استحقاق پیش کریں گے یا پھر وزیراعلیٰ یا چیف سیکرٹری کو شکایت کر کے انہیں تبدیل کرا دیں گے اس پر میں نے تھوڑی مداخلت کی، میں نے پوچھا، کیا کسی وزیر، کسی رکن اسمبلی یا ایسے بااثر شخص کے کہنے پر جس کے حکومتی حلقوں میں گہرے تعلقات ہوں، بیوروکریٹ ناجائز کام بھی کر جاتے ہیں۔انہوں نے ہنستے ہوئے کہا، ایسے لوگوں کے زیادہ تر کام ہوتے ہی ناجائز ہیں۔کوئی زمین الاٹ کرانا، کوئی ٹھیکہ لینا، کسی کرپٹ اہلکار کو بحال کرانا، ناجائز قبضہ برقرار رکھنے کے لئے دباؤ ڈالنا۔ پولیس افسر ہے تو جھوٹے مقدمے کرانا یا سچے مقدمے کی تفتیش خراب کر کے انصاف کی راہ میں روڑے اٹکانا، اپنی پسند کا تھانے میں ایس ایچ او لگوانا، انکار کی صورت میں تبادلے کی دھمکیاں دینا۔
میں نے کہا، کیا واقعی افسر صاحبان اِن دھمکیوں کا اثر قبول کرتے ہیں، ناجائز کاموں پر تیار ہو جاتے ہیں، انہوں نے ایک توقف کے بعد کہا سب تو نہیں البتہ زیادہ تر کی کوشش یہی ہوتی ہے، ٹکراؤ نہ کیا جائے، پوسٹنگ بچائی جائے، اُس کا غصہ عام سائلین پر نکال کے افسری جما کر نکالا جائے۔ میں نے حیرت سے اُن کی طرف دیکھا کیا بیورو کریسی واقعی طاقتوروں کے تابع اور کمزورں کی حاکم ہے۔انہوں نے کہا بدقسمتی سے یہی سچ ہے۔ میں نے پوچھا اِس کا کوئی حل، انہوں نے کہا حرفِ انکار۔ میں نے کہا کیامطلب، سینئر بیورو کریٹ دوست نے کہا ہر طاقتوور کو چاہے وہ کوئی وزیر ہو، رکن اسمبلی کو،اشرافیہ کا رکن ہو، کے ناجائز کاموں پر حرفِ انکار زبان پر لائیں۔شکایت پر ایک بیورو کریٹ ٹرانسفر کر دیا جائے گا۔دوسرا اُن کی جگہ آئے تو وہ بھی حرفِ انکار کی روایت جاری رکھے۔ چند دن یا چند ہفتوں کے بعد تیسرا افسر آئے جو حرفِ انکار وردِ زبان رکھے۔یہ تین حرف انکار ناجائز کاموں اور احکامات کی روایت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے، کوئی حکومت اپنے عوام کے سامنے اتنا بے نقاب نہیں ہونا چاہتی کہ اُس پر ناجائز کاموں کی سرپرستی کا الزام لگ جائے، مگر آج کے افسروں سے اس حرفِ انکار کی اُمید رکھنا دیوانے کا خواب ہے۔
٭٭٭٭٭
(0)تبصرے