Download the Applications
Get it on Google PlayDownload on the App Store
لاگ آؤٹ
Privacy Policy Terms and Condition
NewsHunt
نسیم شاہد
language
محفوظ پان والا چوک جھارا پہلوان اور آلو کی ٹکیاں

ملتان کینٹ کے محفوظ پان والے چوک کی یادوں پر ایک کالم کیا لکھا، ہر شخص اُس کا تذکرہ لے بیٹھا۔لاہور کا چوک لکشمی بھی اپنی ایک شان اور پہچان رکھتا ہے مگر یہ کینٹ کا محفوظ پان والا چوک تو گویا ایک دبستان تاریخ ہے، جس میں اَن گنت اور حیران کن واقعات کی ایک لمبی کہانی موجود ہے۔ایک بار غلام فرید صابری قوال اسی چوک پر قوالی کرنے آئے، وہ پان کے بہت شوقین تھے، دونوں برادران پان کے بغیر گا ہی نہیں سکتے تھے۔وہ کراچی کے پان کھاتے اور انہی کے عادی تھے،مگر جب انہیں محفوظ پان والے کے پان ملے تو انہوں نے اعلان کیا آئندہ وہ جب بھی اس جگہ قوالی کرنے آئیں گے تو معاوضہ نہیں لیں گے، بس پان کھائیں گے اور قوالی کریں گے۔یہی حال عزیز میاں قوال کا تھا۔اوپل شہید روڈ پر قوالی تو صبح تک چلتی، ہزاروں افراد موجود رہتے۔انہوں نے ایک قوالی کے دوران یہ کہا کہ ملتان کے آم ہی نہیں پان بھی بہت لذیذ ہیں۔ محفوظ پان والا چوک صدر بازار میں واقع ہے اور یہاں سے ایئر پورٹ قریب ہے جوکوئی بھی سیاستدان ملتان آتا وہ جلوس کی شکل میں اِسی بازار سے گزرتا، بھٹو، ضیاء الحق، بے نظیر بھٹو، نواز شریف،عمران خان،اُن سے پہلے مولانا مودودیؒ، مفتی محمود، شاہ احمد نورانی اور نوابزادہ نصر اللہ خان جیسے بڑے سیاسی لیڈر بھی ایئر پورٹ سے شہر جانے کے لئے اسی بازار کا راستہ اختیار کرتے۔ لوگ دو رویہ کھڑے ہو جاتے،اردگرد کی عمارتوں پر کھڑے ہو کر نظارہ کرتے، نعرے بھی لگاتے۔ یہ جلوس پُرامن ہوتے اور لوگ اختلافات کے باوجود برداشت کرتے۔ یہاں پہلا بڑا تصادم اُس وقت ہوا جب1977ء میں سیاسی جماعتوں کا اتحاد دھاندلی کے خلاف احتجاج کر رہا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ ایک بڑا جلوس مولانا حامد علی خان کی سربراہی میں گذر رہا تھا۔ محفوظ پان والے چوک تک یہ جلوس پہنچا تو پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے نعرے بازی شروع کر دی۔ پیپلز پارٹی کے کارکنوں کی تعداد بھی کم نہیں تھی،چوک پر کھڑے ہو کر دونوں طرف سے شدید نعرے لگتے رہے، پھر  اچانک کسی نے اُس ٹرک پر پتھر پھینک دیئے، جس پر جلوس کو لیڈ کرنے والی قیادت سوار تھی، بس پھر کیا تھا، کارکنوں کے درمیان ہاتھ پائی شروع  ہو گئی،جس کے ہاتھ میں جو آیا اُس نے استعمال کیا۔یہاں مولانا حامد علی خان کی مدبرانہ قیادت کام آئی۔انہوں نے لاؤڈ سپیکر پر اعلان کیا کارکن پیچھے ہٹ جائیں، لڑائی فی الفور بند کر دیں۔اُن کے حکم کا اتنا اثر  ہوا کہ حکومت مخالف اتحاد کے تمام کارکن لڑائی چھوڑ کر اس جلوس میں شامل ہوگئے جو بازار سے گذر رہا تھا۔ میرا گھر اس چوک سے دس گز دور تھا، میں اپنی گیلری میں کھڑا یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا۔وہ لڑائی جو چوک کے ہر بازار میں پھیل گئی تھی،صرف ایک حکم سے بند ہو گئی۔ پیپلز پارٹی کے کارکن بھی یہ دیکھ کے ٹھنڈے ہو گئے۔آج میں سوچتا ہوں کہ ماضی اور حال کی سیاسی قیادت میں کتنا  فرق آ گیا ہے۔آج قیادت ایسے حالات میں پہلے موقع سے نکل جاتی ہے اور پیچھے کیا ہوتا ہے اسے اس کی پروا نہیں ہوتی۔

ایک زمانہ تھا کہ کینٹ کا یہ بازار ملتان کا واحد شاپنگ سنٹر کہلاتا تھا۔شہر کے ہر کونے سے لوگ خریداری کیلئے یہاں آتے، اب تو گلگشت شاپنگ حب بن گیا ہے اور ملتان کینٹ میں لوگ کم آتے ہیں مگر ستر اور 80ء کی دہائی میں جس طرح لوگ انار کلی بازار لاہور جائے بغیر نہیں رہتے تھے، اُسی طرح اس صدر بازار کو دیکھنے آتے۔ مجھے اُس زمانے کا وہ دن نہیں بھولتا جب زبیر عرف جھارا پہلوان صدر بازار کے بیچوں بیچ چلتا آ رہا تھا۔اُس کے اردگرد لوگ تھے، اپنے قد کاٹھ اور ڈیل ڈول کے حوالے سے وہ ایک مافوق الفطرت انسان لگتا تھا، لوگ اُس سے ہاتھ ملا رہے تھے اور وہ خوش دلی سے مل رہا تھا، چلتے چلتے وہ جب محفوظ پان والے چوک پر آیا تو اُس نے پوچھا یہ خوشبو کس کی آ رہی ہے۔ محفوظ پان والے کے بالکل سامنے بندو ٹکی والے کی دکان تھی جو آلو کی ٹکیاں بناتا اور ہر وقت اُس کی دکان پر رش لگا رہتا۔ جھارا پہلوان کو بتایا گیا کہ یہ آلو کی ٹکی بن رہی ہے وہ اسحاق ٹکی والے کی دکان پر چلا گیا،سامنے ہی توے پر دس بارہ ٹکیاں تیار پڑی تھیں، جھارا نے اپنا بڑا ہاتھ اُن پر مارا اور ٹکیاں کھانا شروع کر دی، ٹکی بہت چھوٹی ہوتی تھی، عام آدمی پانچ دس کھا جاتا تھا۔ جھارا کی تو معروف معنوں میں داڑھ بھی گیلی نہیں ہوئی۔اُس نے اسحاق کے بیٹے  بندو ٹکی والے سے کہا وہ ٹکیاں بناتا رہا۔ ایک اندازے کے مطابق اس دن جھارا پہلوان نے ڈیڑھ سو ٹکی کھائی ہو گی اس کے بعد جھارا نے اپنے ساتھ آئے ہوئے منیجر کو اشارہ کیا، ادائیگی کرے اور خود بوسن جی چوک کی طرف چل پڑا۔محفوظ پان والا چوک تو مشہور ہے لیکن اس کے اردگرد جو چھوٹے بڑے بازار ہیں اُن کے نام بھی کسی شخصیت کے نام پر نہیں، کسی نہ کسی شے یا کام پر رکھے گئے ہیں،مثلاً چکی والی گلی،بان بازار، دھوبی محلہ، چوڑی والی گلی، کنک منڈی، احاطہ جگا ناتھ، ٹکلی والی گلی، لال کرتی وغیرہ۔یہاں ایک اہم کردار ایم پی اے خان اُبھرا۔اُس کی چکی والی گلی میں حجام کی دکان تھی،چھوٹا قد، نیلا جسم اور کالی رنگت ہونے کے باوجود وہ ایک لیڈر بن گیا۔اُس نے ایک فارمولا اپنایا کہ بڑے سیاستدانوں اور کینٹ میں رہنے والے بڑے لوگوں کو اپنی تقریروں میں رگڑتا رہتا۔ اسے ان حرکتوں سے روکنے کیلئے اس پر گندے انڈے بھی پھنکوائے گئے اور کئی بار پھینٹی بھی لگوائی گئی مگر وہ ڈٹا  رہا۔ ہمارے لوگوں کی چونکہ یہ پرانی سرشت ہے اپنے ہی سے قیادت کو پسند نہیں کرتے اور کسی بالادست کی کاسہ لیسی کرتے ہیں،اس لئے ایم پی  خان کا مذاق اڑایا جاتا، مگر وہ ڈٹا رہا۔اُس نے کینٹ بورڈ کے الیکشن میں کونسلر بننے کے لئے حصہ لیا تو اُس کے جلسے بڑے بڑے ہوتے۔محفوظ پان والے چوک پر اُس کے جلسے میں تل دھرنے کو جگہ نہ ہوتی،مگر افسوس جب ووٹ دینے کی باری آئی تو اسے ووٹ نہ ملے۔ پھر وہ دلبرداشتہ ہو کر لاہور چلا گیا اور وہاں بھی اپنا وہی سٹائل جاری رکھا۔ صدر بازار کینٹ کے اسی چوک کی یادیں بہت دلچسپ اور تنوع میں گاہے نہ گاہے اُن کا سلسلہ جاری رہے گا۔

٭٭٭٭٭

مزید :

رائے -کالم -

شیئر کرنا
آرکائیو
پسند

view_more_opinions_from نسیم شاہد

(0)تبصرے