Download the Applications
Get it on Google PlayDownload on the App Store
لاگ آؤٹ
Privacy Policy Terms and Condition
NewsHunt
نسیم شاہد
language
زندگی ونڈ سکرین اور عقبی آئینہ

جرمنی کے ایک استاد نے اپنی کلاس میں ایک دن اپنے شاگردوں کے سامنے سوال رکھا کہ زندگی کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں۔ شاگرد مختلف جوابات دیتے رہے، پھر اُن کے استاد اُنہیں کلاس سے باہر گاڑیوں کی پارکنگ میں لے گئے، انہوں نے اپنی گاڑی کا دروازہ کھولا اور طالب علموں کو باری باری اُس میں بٹھا کے پوچھا، جب وہ پیچھے دیکھتے ہیں تو پچھلا آئینہ کتنا بڑا ہے، پھر جب وہ آگے دیکھتے ہیں تو انہیں ونڈ سکرین کتنی بڑی لگتی ہے۔سب نے کہا دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ ایک چند انچ پر مشتمل ہے اور دوسری چار فٹ پر محیط ہے ،پھر وہ سب کو دوبارہ کلاس روم میں لے گئے،انہوں نے کہا زندگی کی حقیقت یہی ہے جو گذر گئی وہ عقبی آئینہ ہے جسے بیک مرر کہتے ہیں اور جو باقی ہے وہ ہمیں ونڈ سکرین کی طرح نظر آتی ہے۔ بہت بڑی اور بہت طویل، پیچھے سے آئینے میں نظر آنے والی گاڑیاں ایک حقیقت ہوتی ہیں لیکن سامنے کون سی گاڑی کب آ جائے ہمیں اِس کا علم نہیں ہوتا۔ ٹریفک کے اصولوں میں ایک یہ بات بھی شامل ہے کہ عقبی آئینے کا بہت زیادہ استعمال خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، زیادہ تر نظر ونڈ سکرین پر رکھنی چاہئے،جس طرح ونڈ سکرین پر نظر رکھنے سے ہم حادثات کا شکار نہیں ہوتے اسی طرح ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ جو ونڈ سکرین بہت بڑی نظر آتی ہے۔ وہ ہمارا مستقبل ہے،لیکن وہ چھوٹے عقبی آئینے جتنا یقینا نہیں ہوتی۔ایک انسان ستر سال زندگی پاتا ہے اور ساٹھ سال گزار لیتا ہے تو وہ اُسے عقبی آئینے کی طرح بہت چھوٹے سے نظر آتے ہیں لیکن جو دس سال پڑے ہوئے ہیں وہ انہیں بہت زیادہ سمجھتا ہے اور اس بات کا جائزہ نہیں لیتا کہ اُس نے اپنی زندگی کے مقاصد پورے بھی کئے ہیں یا نہیں، بس یہی زندگی کا فریب ہے کہ آخر تک اُس کے ختم ہونے کا پتہ نہیں چلتا۔یہ واقعہ میرے ایک جرمنی میں مقیم دوست عبدالستار نے سنایا۔انہوں نے کہا کہ ہم یہاں پاکستان میں رہ کر سمجھتے ہیں کہ ساری دنیا خراب ہے بس ہم صحیح ہیں، حالانکہ مغرب میں بھی اس بات پر بہت زور دیا جاتا ہے کہ زندگی کو ایک امتحان سمجھ کے گزارا جائے اور اچھے کاموں میں اس کے روز و شب گزار کے اپنے اعمال ٹھیک رکھے جائیں۔

جرمنی کے پروفیسر نے زندگی کے  ماضی و حال کی جو مثال دی ہے وہ توک بڑی چونکا دینے والی، ہم سب اس بات پر توجہ نہیں دیتے کہ زندگی کے دن اور ماہ و سال کتنی تیزی سے گذر رہے ہیں، گذر جاتے ہیں ہم ان دیکھے مستقبل کی غلط فہمی میں اپنی اصلاح نہیں کرتے۔ یہ سوچ تو ہمیں اکثر اپنی لپیٹ میں لئے رکھتی ہے کہ نیکی کے کام بھی کر لیں گے، ابھی تو بہت عمر پڑی ہے،حالانکہ وہ عمر سامنے کی ونڈ سکرین کی وجہ سے بہت بڑی نظر آ رہی ہوتی ہیں جبکہ وہ بیک مرر سے کہیں چھوٹی اور تھوڑی ہوتی ہیں، جب کوئی اچانک دنیا سے رخصت ہوتا ہے تو ہم یہ نہیں سوچتے اُس کی بڑی ونڈ سکرین دھوکہ دے گئی ہے بلکہ یہ کہتے ہیں وہ ہارٹ اٹیک سے مر گیا ہے۔ یہ ہارٹ اٹیک یا کوئی بھی بیماری ہمیں کبھی اپنی ونڈ سکرین سے نظر نہیں آتی،بس اچانک آتی ہے اور ہمیں اُس بیک مرر کا حصہ بنا دیتی ہے، جو بہت چھوٹا سا  ہوتا ہے۔ کل ایک جنازے میں شرکت کی، مرحوم اچھی خاصی متمول شخصت کے مالک تھے، علاقے میں خاصا اثر رسوخ بھی تھا۔ وہ اکثر کہا کرتے تھے دیکھو میں نے ستر سال کی زندگی گزاری ہے، آج تک مجھے کسی عدالت نے طلب نہیں کیا نہ ہی پولیس نے کوئی مقدمہ درج کیا۔ آج کل تاحیات استثنیٰ کا دور آیا ہوا ہے تو اُن کی باتوں سے بھی یہی لگتا تھا کہ انہیں اپنے اثرو رسو یا کسی اور وجہ سے ایک استثنیٰ ملا ہوا تھا۔ نمازِ جنازہ تیار تھی تو مرحوم کے ورثاء نے امامت کرانے والے مولانا سے کہا وہ یہ اعلان کر دیں کہ اگر مرحوم نے کسی کا کچھ دینا ہو تو ہم وہ دینے کے لئے تیار ہیں،کسی کے ساتھ مرحوم نے کوئی جانے انجانے میں زیادتی کی ہو تو اُنہیں معاف کر دیں۔ خیر اُس وقت کسی نے کوئی دعویٰ کیا اور نہ سامنے آیا۔ نمازِ جنازہ ہو گئی تو ہم چند دوست  ہوٹل پر چائے پینے کے لئے بیٹھ گئے۔ اب نکتہ زیر بحث یہ آیا کہ مرنے کے بعد ورثاء کی طرف سے اس قسم کے اعلان کا مرحوم کے اعمال پر کچھ اثر پڑتا ہے۔ اظہر سلیم مجوکہ نے اس پر ایک پتے کی بات کی  انہوں نے کہا یہ تاحیات کا کھیل صرف زندگی تک رہتا ہے،اُس کے بعد تو معاملہ کہیں اور چلا جاتا ہے۔ انسان کے لئے بہتر  تو یہی ہے کہ وہ اپنی زندگی ہی میں سب حساب چکا کر رخصت ہو، کیونکہ آخرت میں اعمال کا حساب ہوتا ہے۔ مرنے کے بعد ورثاء چاہے سب قرض بھی اتار دیں تو یہ قرض پھر بھی رہے گا کہ اپنی زندگی میں مرنے والے نے خود یہ کام کیوں نہیں کیا۔اس پر محمد رفیق نے لقمہ دیا اِس کا مطلب یہ ہے تاحیات استثنیٰ لینا گویا ایک گھاٹے کا سودا ہے۔ ہم جب مستقبل کی ونڈ سکرین کو بہت کشادہ سمجھ کر اس غفلت میں پڑ جاتے ہیں کہ ابھی دنیا کما لیں آخرت کمانے کے لئے تو بہت وقت پڑا ہے تو دراصل  ہم خسارے کا سودا کر رہے ہوتے ہیں۔ زندگی ونڈ سکرین میں بہت بڑی نظر آتی ہے، مگر حقیقت میں تو یہ پانی کے بلبلے جیسی ہے۔یکدم ختم ہو جاتی ہے اور اسباب سمیٹنے کی فرصت بھی نہیں دیتی، حساب تو آخرت میں اس زندگی کا ہونا ہے اِس لئے اس کا حساب کتاب یہاں ہوتا رہے تو بہتر ہے، کیونکہ آخرت میں تو کمیاں کوتاہیاں دور کرنے کی مہلت نہیں ملنی۔ہمارے اسلاف ایسے ہی تو نہیں کہتے تھے کہ اُن سے کسی کے ساتھ کوئی زیادتی ہوئی ہے تو انہیں معاف کر دے۔ وہ اپنے آپ کو ہر وقت احتساب کے لئے پیش کرتے تھے۔ حضرت عمرؓ جیسے عظیم المرتبت خلیفہ بھی اس بات سے ڈرتے تھے کہ اُن سے غفلت یا زیادتی ہوئی تو اللہ کو اُس کا کیا جواب دیں گے۔ وہ چاہتے تو انہیں بھی تاحیات استثنیٰ مل سکتا تھا، مگر اُن کی نظر حیات پر تو تھی ہی نہیں، حیات بعدالموت پر تھی، جو حقیقت ہے اور اُس سے کسی کو مفر نہیں۔ بہتر تو یہی ہے کہ انسان دنیا ہی میں اپنا کھاتہ صاف کر کے جائے، تاکہ اُس کی آخروی حیات کو دائمی استثنیٰ مل جائے۔

٭٭٭٭٭

مزید :

رائے -کالم -

شیئر کرنا
آرکائیو
پسند

view_more_opinions_from نسیم شاہد

(0)تبصرے