انسانی آزادیوں کی بھڑک مارنے والے کا موبائل خراب ہو جائے، گر کے ٹوٹ جائے یا اُس کا ہارڈ ویئر ڈیڈ ہو جائے تو اُسے آزادی کا بھاؤ تاؤ معلوم ہو جاتا ہے، یکدم اُسے لگتا ہے وہ اندھیر نگری چوپٹ راج میں آ گیا ہے، فیس بُک،واٹس اپ، انسٹا گرام اور ٹویٹر کا اکاؤنٹ بند ہو جائے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے آپ پتھر کے زمانے میں آ گئے ہیں،پھر یہ احساس بھی ہوتا ہے کہ آپ ان کے کس قدر غلام بن چکے ہیں۔ میں صبح سویرے نمازِ فجر کے لئے اُٹھا، موبائل دیکھا، کچھ رات کے میسجز اور فیس بک پر کمنٹس آئے ہوئے تھے۔ ایک طرف رکھ کر نماز پڑھی پھر مارننگ واک کے لئے کٹ پہنی۔ چھ بجے کا وقت ہو رہا تھا اور مجھے معلوم تھا ڈاکٹر ذوالفقار علی رانا اور اظہر سلیم مجوکہ میرا انتظار کر رہے ہوں گے،اس لئے جلد بازی میں موبائل فون پر غلط ہاتھ پڑا اور وہ نیچے گر گیا،اُسے اُٹھا کر آن کرنے کی کوشش کی تو سوائے اندھیرے کے اُس میں کچھ موجود نہیں تھا۔ایک دھچکا سا لگا، یہ آناً فاناً کیا ہو گیا۔دنیا گویا اندھیر ہو گئی، ہاتھ سے نکل گئی۔ بہت کوشش کی چل پڑے مگر یہ نہ تھی ہماری قسمت۔ خیر بوجھل دِل کے ساتھ واک کے لئے نکلا۔ ڈاکٹر ذوالفقار علی رانا اور اظہر سلیم مجوکہ کو اس سانحہئ عظیم پر بریفنگ دی اور یہ بھی کہا کہ آج مارننگ واک کی پوسٹ نہیں لگ سکے گی کیونکہ موبائل مردہ ہو چکا ہے۔ واک سے واپس آ کر میں نے بیٹی کے موبائل سے فیس بُک پر لاگ اِن ہونے کی کوشش کی تو ٹکا سا جواب آیا، وہ جو آپ کو وا ٹس ایپ پر سکیورٹی کوڈ بھیجا ہے، وہ درج کرو۔اب میں سوچنے لگا اِن عقل کے اندھوں کو کیسے سمجھاؤں کہ واٹس اپ تو بند پڑا ہے کیونکہ سیٹ ہی خراب پڑا ہے۔ پھر میں نے سوچا سم نکال کے دوسرے موبائل سیٹ پر ڈالتا ہوں اور وہاں واٹس ایپ آن کر لیتا ہوں۔یہاں بھی جواب ملا آپ کے پرانے سیٹ پر جو کوڈ بھیجا ہے وہ یہاں درج کر دیں۔موبائل سیٹ تو مردہ پڑا تھا اور اس کی کالی سکرین کچھ بتانے سے قاصر تھی۔ سو یہ بیل بھی منڈھے نہ چڑھ سکی۔میں سوچنے لگا یہ چھوٹی سی ڈیوائس جسے موبائل کہتے ہیں کس برے طریقے سے ہم پر حاوی ہو چکی ہے۔ یہ سیٹ گم ہو جائے، چوری یا ٹوٹ جائے تو آپ کو یہ ثابت کرنے کے لئے کہ نسیم شاہد آپ ہی ہیں نجانے کتنے پاپڑ بیلنے پڑیں گے۔یہ مفت کا جنجال پورہ ہم نے کیسے پال لیا ہے اور کیسے اپنی آزادی کو اس کے پاس گروی رکھ دیا ہے۔
پہلے یہ ہوتاتھا فیس بُک یا واٹس ایپ کا ایک پاسورڈ ہوتا تھا، آپ کا ای میل ایڈریس یا فون نمبر لاگ اِن کے لئے کافی ہوتا تھا جہاں آپ اپنا پاسورڈ ڈال کے بآسانی اپنے اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کر لیتے تھے اب آپ کا موبائل سیٹ بھی وہاں رجسٹرڈ ہو جاتا ہے۔ گویا آپ اپنی ڈیوائس کے بغیر بے نشان بن جاتے ہیں،اب قصہ یہ ہوتا ہے کہ آپ کو اپنا سب کچھ یاد ہے مگر ڈیوائس یعنی موبائل فون پاس نہیں یا چل نہیں رہا،اس پر کوڈ بھیج کر کہا جاتا ہے وہ درج کریں، وہاں کچھ نظر آتا ہو تو درج کیا جائے یا پھر وہ اُس شخص کی دسترس میں ہوتا ہے جو موبائل لے اڑتا ہے یا اُسے کہیں سے مل گیا ہوتا ہے۔ بظاہر یہ بڑی چھوٹی سی بات ہے لین اسیران سوشل میڈیا کے لئے کسی قیامت سے کم نہیں کہ وہ اپنا فیس بُک اکاؤنٹ اور فیس بُک کے ساتھ جڑے واٹس ایپ کو نہ چلا سکیں،میں سمجھتا ہوں،جدید ٹیکنالوجی نے ہمارے گرد گھیرا تنگ کر دیا ہے وہ آزادیاں جو اِن خرافات سے پہلے انسانوں کو حاصل تھیں وہ قصہئ پارینہ بن چکی ہیں، وہ گاؤں کی چوپائیں، وہ شہروں کے تھڑوں پر بیٹھے دوستوں کی ملاقاتیں اور باتیں، وہ نمبر اور اکاؤنٹ کی بجائے انسان سے دوستی کی روائتیں، غرض سب کچھ بدل گیا۔ میں نے ڈیڈ فون سے اپنی سم نکالی اورایک سادہ نوکیا میں ڈال دی تاکہ دوستوں سے رابطہ تو بحال ہو سکے، مگر مجال ہے دو ایک دوستوں کے سوا کسی نے فون پر رابطہ کیا ہو،ظالموں نے یہ بھی نہیں پوچھا کہ آج فیس بُک سے غائب ہو،واٹس ایپ نہیں چل رہا، انسٹا پر خاموش ہو؟ خیر تو ہے ناں۔ تو صاحبو! یہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی وہ دنیا ہے جس کا کوئی اعتبار نہیں۔ اس پر خاص طور پر یہ محاورہ یاد آتا ہے کہ آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل۔ آپ کے لاکھوں فالوورز بھی ہوں تو اُس شخص جیسے ہر گز نہیں ہو سکتے جو محلے میں رہتا ہو، روزانہ لوگوں سے ملتا ہے،اُن کا حال احوال پوچھتا ہے۔ وہ کردار اگر کسی کی غائب ہو جائے تو سب تشویش میں مبتلا ہو جاتے ہیں،گھر جا کر اُس کا حال پوچھتے ہیں اور ڈھیروں دعائیں دے کر واپس آتے ہیں۔
میں سمجھتا ہوں جو کھڑکی ہم سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں کی طرف کھولتے ہیں وہ بڑی بے اعتبار ہوتی ہے۔ اُس کا کچھ پتہ نہیں ہوتا عین موقع پر بند ہو جائے۔ یہ لطیفے تو اب سوشل میڈیا پر عام ہیں کہ مرحوم کے ڈیڑھ لاکھ فالوورز تھے لیکن نمازِ جنازہ پر چند درجن لوگوں کے سوا کوئی نہ تھا۔ حالت یہ ہو چکی ہے کہ کسی دوست نے اگر دوستوں کو کسی کھانے پر بھی بلایا ہے تو سب اپنے اپنے موبائل فون پکڑ کر بیٹھ جائیں گے،انہیں کسی دوسرے سے کوئی غرض ہی نہیں ہو گی۔ یہ اکلاپا ہمیں اندر سے ہی نہیں باہر سے بھی گمراہ کر رہا ہے۔ ایک خبر کے مطابق ایک گرلز کالج کی پرنسپل نے بار بار وارننگ کے باوجود طالبات سے موبائل فون لے کر انہیں توڑ پھوڑ دیا جس پر ملا جلا ردعمل آیا۔ کچھ نے کہا گھر والوں سے رابطے کے لئے موبائل ضروری ہے اور کسی نے اسے خرافات کا نام دیا،اس سے انکار نہیں کہ موبائل آج کے زمانے کی ضرورت بن چکا ہے مگر اب موبائل صرف فون سننے کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ اس نے ہماری سماجی زندگی کو باندھ کے رکھ دیا ہے،جس سے رہائی ممکن نظر نہیں آ رہی۔
٭٭٭٭٭
(0)تبصرے