جہالت پر اصرار بھی اِس دور کی ایک بڑی بیماری ہے۔ جاہل کی سب سے بڑی پہچان یہ ہوتی ہے جب آپ اُس کی کسی غلطی کی نشاندہی کریں تو وہ غلطی تسلیم کرنے کی بجائے مغلظات پر اُتر آتا ہے،اُسے اِس حقیقت کا بھی قطعاً احساس نہیں ہوتا کہ اس طرح اُس کی جہالت اور ہٹ دھرمی مزید واضح ہو رہی ہوتی ہے،بعض لوگ اِسی لئے خوفِ فسادِ خلق سے اپنی زبان بند رکھتے ہیں، مگر کیا یہ کوئی حل ہے؟ خاص طور پر اردو زبان کو بگاڑنے یا اُس کے معروف الفاظ بھی غلط لکھنے کا جو سلسلہ عام ہو چکا ہے کیا اُس پر گرفت نہیں کی جانی چاہئے۔ کیا ہمیں معلوم نہیں کہ ہمارے اہل زبان اسلاف نے کس طرح اردو کی آبیاری کی ہے حتیٰ کہ زیر زبر کے معاملے میں بھی کوئی کوتاہی نہیں ہونے دی، جب تک صرف اخبارات تھے۔ اُن میں زبان کی درستگی اور صحت کا حد درجہ خیال رکھا جاتا تھا،اب بھی اخبارات میں کئی ایسے چیک ہوتے ہیں جو غلطی کو کم سے کم جانے دیتے ہیں۔مجھے یاد ہے ستر کی دہائی میں روزنامہ امروز نے ایک سکیم نکالی تھی کہ غلطی کی نشاندہی کریں اور دس روپے انعام پائیں۔اُس زمانے میں دس روپے اچھی خاصی رقم ہوتی تھی، اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ قاری صبح سویرے اخبار لے کر بیٹھ جاتے اورغلطیاں تلاش کرتے جو عام طور پر نہیں ملتی تھیں،کیونکہ اخبار کے اندر کا نظام بھی اس حوالے سے بہت سخت ہو گیا تھا۔ یہ روایت تو اب تک موجود ہے کہ کوئی لفظ غلط چھپ جائے تو اخباراگلے دن معذرت کر لیتا ہے اور اصلاح احوال کا سب سے احسن طریقہ بھی یہی ہے،لیکن جب سے معاملات ٹی وی چینلوں اور سوشل میڈیا پر آئے ہیں پنجابی میں جسے انھے واہ کہتے ہیں، وہ سب کچھ ہو رہا ہے، اب ایسے میں اگر آپ نشاندہی کر دیتے ہیں تو جہلا کے نزدیک بہت بڑے مجرم قرار پاتے ہیں۔ وہ مختلف عذر تراشتے ہیں ٹائپنگ کی غلطی ہے، ویڈیو ایڈیٹر نے غلطی فرمائی ہے اور پھر ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ ان غلطیوں کی نشاندہی کرنے والے دراصل یو ٹیوبرز کی مقبولیت سے حسد کرتے ہیں،یعنی اپنی جہالت پر اصرار بھی کرتے ہیں اور اُس کے لئے اپنے تئیں ایک مضبوط دلیل بھی تلاش کر لاتے ہیں۔
ایک زمانے میں امجد اسلام امجد کا ایک ڈرامہ پی ٹی وی پر چلتا تھا،جس میں ایک کردار اردو غلط بولتا اور جب اُسے لوگ ٹوکتے تو وہ کہتا بات سمجھ آ گئی ہے ناں اس ڈائیلاگ کی وجہ سے اُس زمانے میں امجد اسلام امجد پر تنقید بھی ہوتی تھی، مگر انہوں نے اِس کا جاہلوں کی طرح برا منانے کی بجائے یہ موقف پیش کیا تھا کہ درحقیقت وہ اس کردار کے ذریعے ایسے ہی لوگوں کو سامنے لانا چاہتے ہیں جو اردو زبان کی صحت کا خیال نہیں رکھتے اور اپنی مرضی سے اضافے اور غلطیاں کرتے ہیں۔جہالت پر اگر آپ اصرار کرتے ہیں تو آپ کی ذہنی و فکری نشوونما رُک جاتی ہے پھر آپ اپنا زیادہ وقت اپنی جہالت کا دفاع کرنے میں گزارتے ہیں۔ اسلاف نے تو ہمیں یہ سکھایا ہے کہ جس نے آپ کو ایک لفظ بھی پڑھایا وہ آپ کا استاد ہے مگر یہاں یہ دستور چل نکلا ہے کہ خود کو افلاطون سمجھنا ہے اور جو اس بات کو نہیں مانتا اُسے بے شرم اور بے غیرت تک کے القابات بھی دینے ہیں۔ یوٹیوبرز پگڑیاں تو خیر اُچھالتے ہیں کیونکہ اُن کے ذہن میں یہ بات ڈال دی گئی ہے کہ کچھ انوکھا اور سنسنی خیز نہیں کریں گے تو انہیں ویوز نہیں ملیں گے۔مواد کے علاوہ جب وہ اردو زبان کی بھی ایسی تیسی پھیر کے رکھ دیتے ہیں تو لگتا ہے انہیں اپنی جہالت کا احساس تک نہیں رہا۔ میرا مسئلہ یہ ہے کہ جہاں اردو زبان کو کوئی بگاڑ رہا ہو،اُس کے نقطہ یا محاورے غلط لکھ رہا ہو تو میں اس کی نشاندہی ضرور کرتا ہوں،90فیصد کیسوں میں غلطی کرنے والے میرے کمنٹ پر سیخ پا ہو جاتے ہیں، طرح طرح کی تاویلیں پیش کرتے ہیں، سیدھی طرح اقرار نہیں کرتے کہ غلطی ہو گئی ہے درست کر دیتے ہیں۔ بعض تو اپنا ذہنی توازن ہی کھو بیٹھتے ہیں، صرف دس فیصد ایسے ہیں جو غلطی کو تسلیم کر کے شکریہ بھی ادا کرتے ہیں اور آئندہ مزید محتاط رہنے کی یقین دہانی بھی کراتے ہیں۔ ہماری اردو زبان کو پہلے ہی بہت سے چیلنجوں کا سامنا ہے سب سے زیادہ نقصان انگریزی میں لکھی گئی اردو سے پہنچا ہے، جسے رومن اردو کہتے ہیں، نئی نسل پر اس کے بڑی مخفی اثرات مرتب ہوئے ہیں وہ اردو میں میسج بھی رومن اردو میں کرتے ہیں،حالانکہ اب ہر سطح پر کی بورڈ اردو میں آ چکے ہیں ایسے میں اگر ہمارے کچھ یو ٹیوبرز اگر جلی حروف میں غلط اردو الفاظ سوشل میڈیا پر ڈال دیتے ہیں تو گویا نئی نسل کو اردو کے بارے میں گمراہ یا کنفیوژ کر رہے ہیں۔
اردو ہماری شناخت ہے، ہماری پہچان ہے اس کا صحیح تلفظ، درست الفاظ اور روزمرہ محاورے کا خیال رکھنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ کئی بار مجھ سے بھی غلطی ہو جاتی ہے۔ میں ایسی نشاندہی پر نہ صرف خوش ہوتا ہوں، بلکہ اظہارِ تشکر بھی کرتا ہوں۔اگر میری غلطی کی نشاندہی نہ کی جاتی تو اُسی غلطی کو اپنائے رکھتا اور آگے بھی بڑھاتا جو میرے نزدیک ایک بہت بڑی غفلت اور زیادتی ہے۔اردو بول تو ہر کوئی لیتا ہے لیکن زبان کی صحت و درستگی کے ساتھ اپنانا ہی اصل کامیابی ہے، میں جب اہل زبان کی کسی محفل میں بیٹھ کے اُن کی اردو سنتا ہوں تو اش اش کرتا ہوں،کئی الفاظ کا تلفظ اور صحیح مفہوم مجھے وہاں بیٹھ کے آتا ہے۔ ملتان میں ڈاکٹر اسد اریب ایک ایسی شخصیت ہیں جو اردو کی اتھارٹی مانے جاتے ہیں وہ جب بتا رہے ہوتے ہیں کہ ہم اردو کے ساتھ کیسے اور کہاں زیادتی کر رہے ہیں تو ہم ہمہ تن گوش ہوتے ہیں وہ جن غلطیوں کی نشاندہی کرتے ہیں وہ واقعتا ہم میں موجود ہوتی ہیں۔اب اگر ہم من مانی پر اُتر آئیں اور سوچیں کہ ہم تو خود بہت بڑے سکالر ہیں،اُن کی بات کیوں مانیں، تو یہ ہماری نہ صرف جہالت ہو گی، بلکہ ہم خود اپنے آپ سے زیادتی بھی کر رہے ہوں گے اللہ ہر کسی کو جہالت پر اصرار سے بچائے۔
٭٭٭٭٭
(0)تبصرے