زمانہ ایسا آ گیا ہے کہ لوگ سچ بولنے سے روکتے ہیں، کئی دوست تو ایسے ہیں جو کہتے ہیں چھوٹوں کے منہ نہ لگیں۔ اب یہ رویہ تو معاشرے کے لئے زہر قاتل ہے۔ مغربی معاشرے ہم سے اس لئے آگے نکل گئے ہیں کہ وہ جھوٹ کو ایک لعنت اور سب سے بڑی برائی سمجھتے ہیں۔ وہاں اس سے بڑی گالی کوئی نہیں کہ کوئی کسی کو جھوٹا کہہ دے۔ ہم خوف فساد خلق سے جھوٹ بولنے والے کو کھلی چھٹی دیئے رکھتے ہیں، یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر معاشرے میں جھوٹ سکہء رائج الوقت بن جائے تو سچ بولنے والے تنہا رہ جاتے ہیں۔ آج یہی ہو رہا ہے۔ سیاست کو لیں یا تجارت کو، ادب کولیں یا نظریات کے پرچار کو جھوٹ کی آبیاری کرنے والے سرگرم نظر آئیں گے۔ ایک ایسے معاشرے میں جو دنیا کے سب سے ارفع و اعلیٰ دین کے نام پر بنا ہے سچ کا یوں ناپید ہو جانا، ایک بڑا ظلم ہے۔ آپ اندازہ لگائیں کہ سامنے ہونے والے قتل کو ثابت کرنے کے لئے بھی نجانے کتنے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں کیونکہ سچ پر جھوٹ کی کچھ ایسی ملمع کاری کی جاتی ہے کہ وہ دھندلا کے رہ جاتا ہے۔ میری کالونی میں ایک غریب کام کرنے والی کا بیٹا دن دہاڑے قتل ہو گیا۔ سب کو معلوم تھا کیسے قتل ہوا اور قاتل کون ہے؟ مگر معاملہ پولیس کی دسترس میں آیا تو سچ چھپتا اور جھوٹ غالب آتا گیا، ایک غریب ماں جس کے پاس بیوگی میں صرف اسی نوجوان بیٹے کا سہارا تھا، نظام کے ہاتھوں بے بس ہوتی گئی۔ انصاف کے لئے گھر کا سامان بک گیا۔ چار مرلے کا مکان بھی گروی رکھنا پڑا، مگر جھوٹ کا جھکڑ اتنا تیز تھا کہ وہ سب کے سامنے ہونے والے بیٹے کے قتل کو بھی ثابت نہ کر سکی،جس دن عدالت نے ملزم کو شک کا فائدہ دے کر بری کردیا اس دن وہ میرے پاس آئی، اس پر گویا قیامت ٹوٹ چکی تھی۔ وہ اپنی چار سالہ بیٹی کے ساتھ زار و قطار رو رہی تھی۔ ملزم کو سزا ہو جاتی تو اسے کچھ مل نہیں جانا تھا مگر یہ تشفی ضرور ہوتی کہ اس نے اپنے بیٹے کے قاتل کو عبرتناک انجام سے دوچار کر دیا ہے، لیکن وہ یہ دن نہ دیکھ سکی۔ عدالتی نظام اور پولیس تفتیش کی گھمن گھیری نے اسے جھوٹا ثابت کر دیا۔ شکر ہے عدالت نے یہ نہیں کہا کہ اس کا تو بیٹا قتل ہی نہیں ہوا، وہ جھوٹ بول رہی ہے۔ وہ آج بھی جب میرے سامنے آتی ہے تو میں اس سے آنکھیں نہیں ملا سکتا، نجانے کیوں؟ شاید اس لئے کہ میں اس جھوٹے معاشرے اور نظام کا حصہ ہوں جہاں سچ کو ثابت کرنے کے لئے اس بیٹے کی طرح مرنا پڑتا ہے، جس نے ماں کے قاتلوں کو تھانے میں پروٹوکول ملتا دکھ کر خودکشی کرلی تھی۔ اب اس پر بھی تفتیش ہو رہی ہے کہ اس نے خودکشی واقعی اس وجہ سے کی یا کوئی اور وجہ تھی۔
ہماری سیاسی تاریخ بھی یہی بتاتی ہے کہ ہم بڑے سے بڑے واقعہ میں سچ کو سامنے نہیں آنے دیتے۔ وطن عزیز وہ ملک ہے جو اپنی 78سالہ تاریخ میں ان گنت سانحات سے گزر چکا ہے۔ حتیٰ کہ ملک کو دولخت کرنے کا سانحہ بھی ہمارے حصے میں آیا ہے۔ بس اتنی سچائی ضرور ہے کہ ایسے واقعات و سانحات پر کمیشن بن جاتے ہیں، مگر یہ نوبت نہیں آتی کہ ان کمیشنوں کی رپورٹ بھی سامنے آ سکے۔ نجانے کیوں سچ سے گھبرانے والی قوم بن چکے ہیں، حالانکہ سچ ہمیشہ مستقبل کے لئے آسانیاں پیدا کرتا ہے۔ سیانے کہہ گئے ہیں سچ ہمیشہ کڑوا ہوتا ہے مگر اس کی یہی کڑواہٹ دراصل ان بیماریوں کا شافی علاج کرتی ہے، جو جھوٹ کی وجہ سے پھیلتی ہیں۔ ہم نے اس پہلو پر کبھی غور ہی نہیں کیا کہ سچ نہ بول کر ہم اپنا کتنا نقصان کررہے ہیں۔ آپ غور کریں تو آپ کو ایسی بے شمار مثالیں مل جائیں گی کہ سچ نہ بولنے والے کتنے ادارے ڈوب گئے اور کتنے افراد بے اعتبار ہو گئے۔ زندگی میں دیرپا تعلق اور مقام صرف سچ بولنے سے مل سکتا ہے۔ آج کل کے زمانے میں کہ جب تاریخ اور تاریخی واقعات سوشل میڈیا میں جمع ہو چکے ہیں۔ ہر شخص کے ماضی و حال کا حساب ان کے پاس ہے، جھوٹ پکڑنے میں کوئی مشکل بھی پیش نہیں آتی، ایک ہی وقت میں کسی سیاستدان کی پانچ سال پہلے کہی گئی بات بھی سننے کو مل جاتی ہے اور جو وہ آج کہہ رہا ہے،وہ بھی نظر آ جاتا ہے۔ اس وقفے میں اس کے تضاد اور جھوٹ کی کئی پرتیں نمایاں ہو جاتی ہیں لیکن ڈھٹائی کی وجہ سے عقل عیار کی طرح اپنی باتوں کی کئی تاویلیں ڈھونڈ لیتا ہے۔
جھوٹ کا عفریت کس تیزی سے پھیل گیا ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ ہر شعبہ بے اعتبار ہو چکا ہے آپ کسی ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں تو آپ کے دل میں سو قسم کے خدشات ہوتے ہیں وہ بہت زیادہ ٹیسٹ نہ لکھ دے، کسی بڑی بیماری کا نہ کہہ دے۔ مجھے تو اکثر دوستوں کے ایسے فون بھی آتے ہیں کہ اپنے جاننے والے فلاں ڈاکٹر کو فون کر دیں کہ مریض چیک کرلے بے جا ٹیسٹ نہ کرائے، ہمارے وسائل اجازت نہیں دیتے، جب سے ڈاکٹروں نے کلینکوں کے ساتھ اپنی لیبارٹریاں کھولی ہیں، ٹیسٹوں کی وباء کچھ زیادہ ہی پھیل گئی ہے۔ ایک زمانہ تھا ڈاکٹر مریض کی نبض دیکھ کر ہی بیماری کا پتہ لگا لیتا تھا مگر اب وہ چاہتا ہے جسم کے ہر حصے کا ٹیسٹ کرایا جائے، اس کی رپورٹ سامنے آئے تو علاج کروں۔ ملتان میں ایک ڈاکٹر ایسے بھی ہیں جن کی فیس معائنہ تو 25سو روپے ہے مگر ان تک پہنچتے پہنچتے ٹیسٹوں کی مد میں مریض کے 25ہزار روپے خرچ ہو چکے ہوتے ہیں۔ کئی مریض آپ کو ایسے ملیں گے کہ فلاں ڈاکٹر نے آٹھ ٹیسٹ کرائے علاج درست نہیں ہوا، کسی دوسرے ڈاکٹر کے پاس گئے تو اس نے بتایا ان ٹیسٹوں کی تو ضرورت ہی نہیں اور اس کی دوائی سے آرام آ گیا۔ جھوٹ بولنا کسی خاص طبقے تک محدود نہیں، آپ ریڑھی والوں کے پاس جائیں تو وہ جھوٹ بول کر مہنگی اشیاء دیں گے، وہ سار بوجھ منڈی والوں پر ڈال دیں گے اور کہیں گے صرف پانچ روپے کلو بیچ رہے ہیں حالانکہ پچاس روپے بچا رہے ہوتے ہیں جب جھوٹ کی فراوانی ہو تو سچ بولنا گاٹے کا سود ا نظر آتا ہے، حالانکہ یہ سراسر منافع کا سودا ہے، مگر ہم جیسے کوتاہ نظروں کو اس کا یقین نہیں رہا۔
(0)تبصرے