پاکستان میں غریبوں کے لئے جہاں کہیں بھی کوئی اچھا کام ہوتا ہے مجھے دلی خوشی ہوتی ہے۔ اس کی وجہ ظاہر ہے کہ تاریخ کا وہ دکھ ہے جس میں غریبوں کو بس دھوکے ہی ملے ہیں،ان کے ساتھ آسمان سے ستارے توڑ کر لانے کے وعدے اور دودھ شہد کی نہریں بہا دینے جیسے نعرے غریبوں نے بہت سنے ہیں مگر عملاً بہت کم ایسا ہوا ہے جو ان کے خوابوں کی تعبیر بنا ہو۔ سیاسی نمائندوں کے وعدے تو ویسے بھی پانی کا بلبلہ ہوتے ہیں، رات گئی بات گئی کی طرح گلی محلے کی سڑکیں تک مرمت کرانے کے لئے لوگ کئی کئی سال دہائی دیتے ہیں، تب جا کے کہیں مراد بر آتی ہے ایسے میں کوئی سرکاری افسر جب کسی نہ کسی بہانے غریبوں کے لئے ریلیف کا کوئی در کھولتا ہے تو لامحالہ خوشی ہوتی ہے۔ چند دن پہلے کمشنر ملتان عامر کریم خان نے مجھے بتایا کہ من و سلویٰ کا تیسرا مرکز گول باغ چوک گلگشت میں کھولنے جا رہے ہیں۔ آپ اس کی افتتاحی تقریب میں شامل ہوں اور خود جائزہ لیں کہ یہ کیسا اچھا منصوبہ ہے۔ میں نے آنے کا وعدہ کیا اور وقت مقررہ پر اظہر سلیم مجوکہ کے ہمراہ وہاں پہنچ گیا۔ چوک میں گول باغ کی ایک ٹکڑ پر ایک کونا اس مقصد کے لئے مختص کیا گیا ہے جہاں تین وقت کا کھانا موجود ہوتا ہے اور کوئی بھی ضرورت مند بغیر کسی رکاوٹ کے وہاں سے ڈبہ پیک کھانا حاصل کر سکتا ہے۔ میرے سامنے جو کھانا بانٹا گیا وہ ہر لحاظ سے معیاری تھا۔ بازار میں وہ ڈبہ معہ کولڈ ڈرنک تین چار سو روپے سے کم نہیں مل سکتا۔ اس موقع پر بتایا گیا کہ یہ تیسرا من و سلویٰ پوائنٹ ہے۔ اس سے پہلے واپڈا کالونی اور انڈسٹریل اسٹیٹ میں ایسے پوائنٹس کام کررہے ہیں۔ ایک پوائنٹ سے تقریباً سات سو افراد کھانا حاصل کرتے ہیں ایسے پوائنٹس مخیر اور متمول حضرات کے تعاون سے چلائے جا رہے ہیں۔ یہ تین پوائنٹس بن چکے ہیں تو تقریباً اکیس سو افراد کو روزانہ انتہائی باعزت طریقے سے ان کی انا کو مجروح کئے بغیر کھانا ملے گا۔ گلگشت والے من و سلوی پوائنٹ کو معروف صنعت کار میاں حسین نے اپنے ذمہ لیا ہے اور عامر کریم نے بتایا ایسے بہت سے مخیرحضرات ہیں جو اس کارخیر میں حصہ لینا چاہتے ہیں، انہوں نے کہا قطاروں میں کھڑا کرکے کھانا یا امداد بانٹنا اس لئے معیوب ہے کہ اس سے لینے والے کی انا زخمی ہوتی ہے۔ یہ طریقہ دنیا بھر میں رائج ہے کہ آپ مختلف مراکز بنا دیں، وہاں اشیاء اور خوراک رکھ دیں جسے ضرورت ہو وہ وہاں سے لے کر مستفید ہو سکے۔
ایک سوال میرے ذہن میں آیا کہ ہمارے ہاں تو بے صبری بہت ہے۔ایک ہی شخص کئی کئی ڈبے اٹھا لیتا ہے۔ بے صبری کا یہ عالم شادی بیاہ کی تقریبات میں بھی دیکھنے کو ملتا ہے جہاں لوگ پلیٹیں بھر لیتے ہیں اور پھر چھوڑ جاتے ہیں، اس پر عامر کریم خان نے کہا ہمارا تجربہ ہے لوگ از خود اپنی اصلاح کررہے ہیں، مثلاً اب تک جو دو پوائنٹس کام کررہے تھے، وہاں کبھی کھانے کی کمی نہیں آئی، کیونکہ لوگ سمجھنے لگے ہیں کہ ایک بار بھی اگرلوٹ کر لے گئے تو یہ سلسلہ بند ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا ان پوائنٹس کا سب سے زیادہ فائدہ ان مزدوروں کو مختلف محنت کشوں کو ہو رہا ہے جو محنت مزدوری کرکے بمشکل ہزار پندرہ سو روپے کماتے ہیں لیکن کھانے پر ان کے دو تین سو روپے لگ جاتے ہیں۔ چونکہ وہ گھروں سے دور ہوتے ہیں اس لئے کھانے کے لئے گھر نہیں جا سکتے۔ غربت اتنی ہے کہ اچھے بھلے لوگوں کا گذارا نہیں ہوتا، ایسے میں اگر غریبوں کی بلواسطہ طورپر بغیر ان کی انا کو مجروح کئے امداد ہو جائے تو یہ ایک فلاحی معاشرے کی طرف ایک اچھا قدم ہی کہلائے گا۔ انہوں نے کہا ایسے فلاحی کاموں کی ہر شخص کو نگرانی کرنا چاہیے۔ ہم نے من و سلویٰ پوائنٹس کے اردگرد واقع گھروں اور دکانداروں سے درخواست کی ہے کہ وہ ان پر تھوڑی نظر رکھیں تاکہ کوئی اس سہولت کواپنے ناجائزفائدے کے لئے استعمال نہ کر سکے۔
ابھی کل ہی کی بات ہے، عامر کریم خان نے ایک اور فلاحی منصوبے کی خبر دی۔ انہوں نے کہا جنرل بس اسٹینڈ پر خیر کا سفر کے نام سے ایک اور کارخیر کا آغاز کررہے ہیں چونکہ سردی کا موسم آ چکا ہے او ریہ اب بڑھتی جائے گی۔ جنرل بس اسٹینڈ سے جنوبی پنجاب کے تمام علاقوں میں مسافر آتے جاتے ہیں، ہم نے وہاں گرم کپڑے فراہم کرنے کا آغاز کرنا ہے اس میں جرسیاں، مفلرز، ٹوپیاں، چادریں اور دیگر اشیاء شامل ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس منصوبے سے ہزاروں مسافر حضرات مستفید ہوں گے، جبکہ جو مقامی غریب و مستحق افراد ہیں وہ بھی گرم کپڑے حاصل کر سکیں گے۔ میں نے کہا حضرت یہ تو بڑے خرچے والا منصوبہ ہے۔ کیسے پورا کریں گے۔جواب دیتے ہوئے وہ مجھے ایک صوفی لگے۔ کہتے ہیں جب انسان اللہ کی مخلوق کو سامنے رکھ کر منصوبہ بناتا اور ارادہ کرتا ہے تو سب اسباب مہیا ہو جاتے ہیں۔ خیر کے اس سفر کے لئے ملتان کے صنعت کاروں، سرمایہ کاروں اور مخیرشخصیات نے دل کھول کر حصہ ڈالنے کا وعدہ کیا ہے۔ ایسے کئی مراکز شہر کے دیگر حصوں میں بھی قائم کئے جائیں گے۔ کوئی سردی سے ٹھٹھرنے کی اذیت میں مبتلا نہیں ہوگا۔ میں نے کہا عامر کریم خان کو کیا پڑی ہے کہ وہ ان کاموں کی سردردی لے رہے ہیں۔ صوبے کا کوئی کمشنر بھی ایسا کوئی کام نہیں کررہا۔ سب کی ترجیحات وہی معمول کے کاموں والی ہیں وہ ہنس کر بولے استاد جی آپ بتائیں ملتان ڈویژن میں وہ سب ترقیاتی کام نہیں ہو رہے جو معمول کے فرائض میں شامل ہوتے ہیں۔ میں نے کہا اس میں تو کوئی شک نہیں کہ آپ نے اپنے گیارہ ماہ کے عرصے میں ملتان کی حالت بدل دی ہے۔ شہریوں کو ایک بڑی تبدیلی نظر آ رہی ہے۔آپ نے وزیراعلیٰ مریم نواز کی ترجیحات کو صحیح معنوں میں عملی جامہ پہنایا ہے۔ انہوں نے ملتان ایونیو جیسا پونے تین ارب روپے کا منصوبہ دے کر آپ کے کام کو بلواسطہ طو پر سراہا ہے، مگر اس کے باوجود جو وقت آپ کو گالف کھیلتے،دوستوں کے ساتھ ہوٹلنگ کرتے اور اپنے معمول کے کاموں میں گزارنا چاہیے آپ ایسے منصوبوں میں صرف کررہے ہیں،جن میں سرکار کا پیسہ خرچ نہیں ہو رہا بلکہ آپ کی کامیاب موٹیویشن کے ذریعے شہر کی بڑی شخصیات آگے آ رہی ہیں، انہوں نے ہنس کر کہا سرکاری مناصب صرف پروٹوکول انجوائے کرنے کے لئے نہیں ہوتے، بلکہ وہ ایک ذمہ داری ہوتے ہیں کہ آپ معاشرے اور عوام کے لئے کچھ کر جائیں۔ میں یہی کررہا ہوں اور قدرت میری مدد کررہی ہے۔
(0)تبصرے