پاکستان میں یہ بات تو سبھی کہتے ہیں کہ یہاں کام نکلوانے کے دو طریقے ہیں۔ رشوت یا سفارش، جبکہ میرا تجربہ کچھ اور کہتا ہے۔ آپ نرم لہجے میں بات کریں، محبت اور احترام دیں تو 99فیصد کیسوں میں آگے والا بندہ آپ کا مداح بن جاتا ہے جہاں ہوتا یہ ہے کہ ہم نے یہ طے کرلیا ہے، کوئی ہماری بات اگر نہیں مانتا، کام نہیں کرتا تو بس اس کے ساتھ ڈانگ سوٹا ہی کرنا ہے۔مولاجٹ بننے کی عادت ہمیں کچھ ایسی پڑ گئی ہے کہ سب کو غلام بنانے کی دوڑ لگی ہوئی ہے۔ میں اس حقیقت کو مانتا ہوں کہ یہاں سب کچھ بگڑ چکا ہے، ایسا بگڑ چکا ہے کہ سدھرنے کی کوئی امید بھی نظر نہیں آتی، مگر اس کے باوجود یہ محبت کا راستہ بگڑے کام بھی بنا دیتا ہے۔ آپ گھروں کے حالات دیکھ لیں، گھر گھر ایک فساد کی صورت نظر آتی ہے۔ خاص طور پر ساس اور بہو کے جھگڑوں نے ایک آگ لگا رکھی ہے۔ طلاقوں کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے اور میاں بیوی اسی جوائنٹ فیملی سسٹم کی وجہ سے ایک دوسرے کے خلاف ہو جاتے ہیں۔اب اس میں سے نکلنے کا واحد راستہ میرے نزدیک یہی ہے کہ محبت کی دوا استعمال کی جائے۔ میں تقریباً دو تین ایسے کیسز حال ہی میں دیکھ چکا ہوں جہاں یہ فارمولا بہت کارگر ثابت ہوا۔ ایک جگہ تو طلاق عین کنارے پر کھڑی تھی، جب اپنی ایک رشتہ دار عزیزہ کو سمجھایا کہ وہ ساس سے لڑنا جھگڑنا بند کرے اور صدقے واری جانے کی پالیسی اپنائے۔ کچھ کہہ بھی دے تو ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دے، بس چند دن ایسا کرے پھر دیکھنا وہی ساس جواب تمہیں برداشت کرنے کو تیار نہیں،تمہارے گن گانا شروع کر دے گی۔ اچھی بچی ہے بات مان گئی، اپنی ضد اور انا کو چھوڑ کر اس نے ساس سے محبت کی پینگیں بڑھانا شروع کر دیں۔ بس پھر کیا تھا گھر تو جیسے جنت بن گیا، پہلے جو ساس یہ کہتی تھی کہ میرا بیٹا تو بہو کا غلام بن گیا ہے اب کہنے لگی ارے بیٹا اپنی بیوی کا خیال رکھا کرو، کبھی باہر بھی لے جایا کرو۔ ایک دوسرے کیس میں دونوں میاں بیوی ڈاکٹر تھے۔ شادی کو زیادہ دن بھی نہیں ہوئے تھے۔ دونوں کام پر چلے جاتے، شام کو واپس آتے تو ساس صاحبہ جملوں کے تیر چلاتیں۔ سارا دن گھر سے باہر رہتی ہے اور اسے گھر کی کوئی فکر ہی نہیں،ایسی بہو مجھے نہیں چاہیے۔ شروع میں بہو نے ترکی بہ ترکی جواب دیئے تو معاملہ بگڑ گیا۔ نوبت یہاں تک آ گئی کہ بہو میکے آبیٹھی۔ لیڈی ڈاکٹر کے والد میرے پاس آئے، باتوں باتوں میں مسئلے کا ذکر کیا۔ میں نے کہا گھر آؤں گا، بیٹی سے کچھ باتیں کروں گا،مان گئی تو مسئلہ حل ہو جائے گا۔
میں گھر گیا اور بیٹی کو سمجھایا، تمہاری ساس کو تمہاری جاب سے کوئی مسئلہ نہیں، یہ صرف ایک بہانہ ہے کیونکہ وہ خود تمہیں بیاہ کر لائی ہے اور اسے لیڈی ڈاکٹر ہی چاہیے تھی۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب تم گھر آتی ہو تو انہیں نظر انداز کرتی ہو، تم دونوں میاں بیوی اپنی سارے دن کی روداد ایک دوسرے کو سنانے میں مگن ہو جاتے ہو، یہ بڑی غلط بات ہے، تم روزانہ کم از کم ایک یا ڈیڑھ گھنٹہ جاب سے واپس آکر ساس کے ساتھ بیٹھا کرو۔ اِدھر اُدھر کی باتیں، اپنے دن کے دلچسپ واقعات کی روداد اور گھر کے بارے میں ان سے پوچھا کرو۔ یہ بھی کہہ دیا کرو کہ جب میں جاب پر ہوتی ہوں تو آپ کو بہت مس کرتی ہوں۔ آپ میرے لئے رول ماڈل ہیں، میں نے یہ کہا تو دیکھا اس کے چہرے پر ناگوار تاثرات اُبھرے جیسے کہہ رہی ہو، میری ساس میرے لئے رول ماڈل؟ میں نے کہا دل جیتنے کے لئے اپنا دل مارنا پڑتا ہے۔ خیر تھوڑی سی کوشش کے بعد وہ میری بات مان گئی۔ لڑکے کا والد بھی میرا دوست ہے، اسے فون کیا اور کہا میں تمہاری بہو کو اس کے والد کے ہمراہ لے کر آ رہا ہوں۔ وہ خوش ہوئے کیونکہ معاملہ خاصا پریشان کن بنا ہوا تھا۔ وہ دن جائے کہ آج کا دن آئے حالات بہت نارمل چل رہے ہیں بلکہ خوشگوار ترین ہو چکے ہیں۔
ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ اکثر کیسوں میں ہماری انا آڑے آجاتی ہے، یہ ایسا زہر ہے جو بہت تیزی سے سرایت کرتا ہے۔ آپ دشمنیوں کو دیکھ لیجئے۔ ایک طرف تو جہالت ان پر تیل چھڑکتی ہے اور دوسری طرف ہم میں سے کوئی جھکنے اور محبت کی زبان استعمال کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔ میں نے بھائی کو بھائی سے دور ہوتے دیکھا ہے۔ بات کو کریدو تو اندر سے کچھ بھی نہیں نکلے گا، سوائے جھوٹی انا اور اپنے ناز نخرے کے۔ ہمارے سکول کے استاد آج سے 45سال پہلے کہا کرتے تھے ہمارے ہاں مجھے تم سے محبت ہے کہنا ایک عذاب لگتا ہے لیکن مجھے تم سے نفرت ہے کہتے ایک منٹ نہیں لگاتے۔ یہ چیز آج تک جوں کی توں موجود ہے۔ بھری محفل میں کہہ دیں گے، دفعہ ہو جاؤ،مجھے تم سے شدید نفرت ہے،مگر بھری محفل میں شدید محبت ہے کہتے ہمیں موت پڑ جاتی ہے۔ یہ بات تو سب کو معلوم ہے اور معلوم بھی ہونا چاہیے کہ ہمارے وجود میں ایک پھنے خاں سمایا ہوا ہے۔ چاہے گھر میں کھانے کو کچھ نہ ہو ہماری پھنے خانی جانے والی نہیں، آپ سرکاری دفاتر میں چلے جائیں۔ چھوٹا کلرک بھی ایک اکڑ اور تکبر میں بیٹھا نظر آئے گا۔ ایسے میں، مَیں کیا کرتا ہوں،اسے سلام کرکے بہت پیارے سے مخاطب کرتا ہوں۔ زیادہ تر کیسوں میں وہ رام ہو جاتا ہے۔ نہ ہوتو اسی پیار سے اس کا حال پوچھتا ہوں، اس پر عموماً میں نے یہی دیکھا ہے کہ وہ آپ کو بیٹھنے کے لئے کہے گا۔ اگر وہ پھر بھی بعض نہیں آتا تو سمجھ جائیں وہ ان دس فیصد کیسوں میں شامل ہو چکا ہے جن کی چھترول ضروری ہوتی ہے، لیکن میرا تجربہ یہ ہے اس کی نوبت نہیں آتی اور محبت کام دکھا جاتی ہے، وہ آپ کی بات بھی توجہ سے سنتا ہے اور کام بھی کر دیتا ہے۔ ژاں پال ساترے نے کہا تھا محبت ایک ایسی چیز ہے جسے ظرف سے عاری انسان نہیں اپنا سکتا۔ عمومی حالات میں تو ایسا ہی لگتا ہے کہ ہم محبت کے ظرف سے محروم ہو چکے ہیں مگر پھر بھی کوشش تو کرنی چاہیے کہ محبت کو یاد رکھیں کہ اس سے بڑا جادو کوئی نہیں۔
(0)تبصرے