Download the Applications
Get it on Google PlayDownload on the App Store
لاگ آؤٹ
Privacy Policy Terms and Condition
NewsHunt
نسیم شاہد
language
منصب نہیں کردار باقی رہتا ہے

میرے ایک چہیتے شاگرد ہیں رانا ممتاز  رسول، وہ آج کل نوجوانوں کو یہ ترغیب دیتے ہیں کہ ملازمت کرنے کی بجائے کاروبار کریں، اس کی کئی وجوہات بتاتے ہیں اور سب سے بڑی وجہ اُن کے نزدیک یہ ہے کہ ملازمت میں انسان ایک دائرے میں گھومتا ہے جبکہ کاروبار میں آسمان تک اُس کی رسائی میں ہوتا ہے،مگر جب نوجوان اُن سے یہ سوال کرتے ہیں کہ کاروبار میں پیسہ تو آ جاتا ہے اختیار نہیں آتا،پھر وہ مثالیں دیتے ہیں کہ ایک معمولی سا سرکاری اہلکار کس طرح ایک ارب پتی تاجر کے پاس بھی بڑے کروفر سے آتا ہے اور وہ تاجر بھی اسے شاہانہ پروٹوکول دیتا ہے۔اس کا متبادل تو کاروبار نہیں،اس پر لاجواب ہونا تو بنتا ہے۔یہ ایف بی آر، پولیس، ایف آئی اے، محکمہ مال اور سب سے اہم پٹواری کیسے اس نظام کی مونچھ کا بال بن جاتے ہیں۔اُن کی آؤ بھگت دیکھ کر نوجوان رشک کرتے ہیں۔ابھی کل ہی ایک صاحب میرے پاس آئے انہوں نے بتایا بی ایس کرنے والے بیٹے کو ایک سال سے نوکری نہیں مل رہی تھی،انہوں نے ایک چھوٹا سا کاروبار کرا دیا۔ دو روز پہلے پیرا فورس والے آئے اور اس کا سامان اٹھا کر لے گئے۔ اُن کا بیٹا اس لئے زیادہ شرمندہ تھا کہ پیرا فورس میں اُس کا ایک کلاس فیلو بھی شامل تھا،جو ہمیشہ کم نمبروں کے ساتھ پاس ہوتا رہا،مگر اب افسر بن گیا تھا،اس پر میرے دوست کے بیٹے نے اعلان کر دیا جو بھی ہو میں نے سرکاری ملازمت ہی کرنی ہے،چاہے کسی محکمے میں نائب قاصد کی نوکری ہی ملے۔ اب جس معاشرے میں سرکاری نوکر بن کر آدمی کو اتنے زیادہ اختیارات مل جائیں کہ وہ بندے کو بندہ نہ سمجھے تو وہاں نوکری کی بجائے کاروبار کون کرنا چاہئے گا تاہم میرا موضوع آج یہ نہیں۔ میرا موضوع یہ ہے کہ منصب پر بیٹھے افراد جب اُس سے محروم ہوتے ہیں تو اُن کی زندگی میں اندھیرے کیوں آ جاتے ہیں کیا اُن کا منصب ہی اُن کی زندگی میں روشنی لانے کا واحد ذریعہ تھا۔یہ وہ کمزوری ہے جو بڑے بڑے انسانوں سے اُن کی بہادری اور حق گوئی چھین لیتی  ہے۔ کوئی سرکاری  ملازم یہ نہیں چاہتا  وہ جہاں بیٹھا ہے اُسے وہاں سے اُٹھا کر کہیں اور بھیج دیا جائے۔ اُسے آگے اندھیرا ہی نظر آتا ہے۔مجھے ایک بیورو کریٹ نے بتایا ڈی ایم جی گروپ کے افسر سب سے زیادہ ڈپٹی کمشنر بن کر کمزوری اور مصلحت کا شکار ہوتے ہیں کیونکہ ڈپٹی کمشنری ایک ایسا عہدہ ہے جو پوری سروس میں ایک یا دو بار ملتا ہے۔یہ اتنا پاور فل عہدہ ہے کہ عملاً ایک شخص کو پورے ضلع کی بادشاہت سونپ دی جاتی ہے، بہت کم افسر ایسے ہوتے ہیں جو اس عہدے پر رہتے ہوئے بھی حق گوئی،میرٹ اور انصاف پر مبنی فیصلے کرتے ہیں وگرنہ اکثر مصلحت کا شکار ہو جاتے ہیں کہ کسی کو ناراض کیا تو وہ تبادلہ کرا دے گا، پھر یہ عہدہ ملے یا نہ ملے۔

 کہنے کو سرکاری ملازمین ریاست کے عہدیدار ہیں،مگر عملاً وہ حکومت وقت کی خوشنودی تک عہدے پر برقرار رہتے ہیں۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ نے تو بیورو کریسی کو باور کرایا تھا کہ وہ خود کو ریاست کے سامنے جوابدہ سمجھیں اور کسی دباؤ کو قبول نہ کریں لیکن قائداعظمؒ کا یہ خواب بھی خواب ہی رہ گیا۔مناصب کی کشش نے سارے اصول، عزائم اور ضابطے بے اثر کر دیئے۔ میں جب سے ریٹائر ہوا ہوں مختلف محکموں کے حاضر سروس دوستوں کے اس سوال کی زد میں رہتا ہوں، ریٹائرمنٹ لائف کیسے گزر رہی ہے، عہدے کے بغیر عجیب تو لگتا ہو گا، کیسے ایڈجسٹ کرتے ہیں؟ میں جب انہیں بتاتا ہوں میری اصل زندگی ریٹائرمنٹ کے بعد شروع ہوئی ہے اور میری جتنی قدرو منزلت ملازمت میں رہ کر تھی، اب اُس سے کئی گنا زیادہ ہو چکی ہے تو وہ  حیران ہوتے ہیں۔ اصل میں وہ اس خبط کا شکار  ہو چکے ہیں کہ عزت صرف عہدے اور منصب کی وجہ سے ملتی ہے۔وہ اس مصنوعی عزت کی چکا چوند میں اُس حقیقی عزت کو کھو دیتے ہیں جو عوام کی خدمت، اُن کی عزت کر کے اور اپنے فرض کو دیانتداری سے ادا کر کے حاصل ہوتی ہے۔ قصور اُن کا بھی نہیں ہے،جس بے رحمانہ نظام کا وہ حصہ ہوتے ہیں اُس میں  صرف عہدے کو سلام ہوتا ہے۔ ناموں کی تختیاں بدلتی جاتی  ہیں، وہ عہدہ وہیں رہتا ہے جس دفتر سے وہ چارج دے کر رخصت ہو جاتے ہیں اُس دفتر میں اگلے دن آئیں تو انہیں علم ہوتا ہے،دنیا الٹ چکی ہے۔ ملازمین کے رویے تبدیل ہوتے ہیں اور ہٹو بچو والا کلچر دور جا چکا ہوتا ہے بس صرف ایک چیز ایسے میں معجزہ دکھاتی اور کام آتی ہے، وہ آپ کا اُس دفتر میں دوران تعیناتی رویہ ہوتا ہے اگر آپ کا رویہ مشفقانہ رہا ہے، آپ نے محبتیں بانٹی ہیں،احترام دیا ہے تو سب آپ کے اُس وقت بھی صدقے داری جائیں گے جب آپ افسر نہیں رہے،مگر یہ بات دورانِ افسری یاد نہیں رہتی۔

منصب کی بجائے انسان کا کردار لوگوں کے دِلوں میں اُسے زندہ رکھتا ہے۔آپ کسی بھی بڑے سرکاری دفتر میں چلے جائیں۔تعینات رہنے والے افسروں کے بورڈ پر نظر ڈالیں،اُن سے بہت سے بس صرف نام ہوں گے لیکن کچھ ایسے ہوں گے جو عہد در عہد لوگوں تک ایک مضبوط اور اچھے حوالے کے طور پر پہنچے ہوں گے۔یہ وہ افسر ہوں گے جنہوں نے اپنے ادوار میں ایک طرف اعلیٰ کارکردگی دکھائی اور دوسری طرف اپنے کردار سے لوگوں کے دل جیتے، جو اپنے دور میں بددماغ رہے، جنہوں نے عوام کو فاصلے پر رکھا، اپنے کروفر کے اسیر بنے رہے، وہ عہدے سے ہٹتے ہی قصہ پارینہ بن گئے، جبکہ دوسرے جوان تعیناتی بورڈوں سے نکل کر لوگوں کے دِل میں اُتر گئے وہ امر ہو گئے مگر اِس امر ہونے کی کہانی کو اہمیت ہی کون  دیتا ہے۔ باہر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست،کے مصداق وہ اپنے منصب کی چار دیواری میں قید ہو جاتے ہیں اور یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اس منصب کی وجہ سے ہم دوسروں سے سپریئر ہو گئے ہیں، یہ درحقیقت اُن کا احساسِ کمتری  ہوتا ہے، پھر جب وہ اپنی ساٹھ سالہ عمر پوری کر لیتے ہیں اور ملازمت کی چکا چوند رخصت ہو جاتی ہے تو ان کی حالت دیدنی ہوتی ہے۔ کسی چھوٹے موٹے سرکاری عہدے کے لئے ماہی ئ بے آب کی طرح تڑپتے ہیں لیکن جنہوں نے اپنے منصب کو صرف ایک ذمہ داری سمجھ کے گزار ہوتا ہے،وہ ریٹائرمنٹ کو آزادی کا دن قرار دیتے ہیں۔

٭٭٭٭٭

مزید :

رائے -کالم -

شیئر کرنا
آرکائیو
پسند

view_more_opinions_from نسیم شاہد

(0)تبصرے