Download the Applications
Get it on Google PlayDownload on the App Store
لاگ آؤٹ
Privacy Policy Terms and Condition
NewsHunt
نسیم شاہد
language
تیرا مکہ رہے آباد مولا

 مکہ میں ہوں اور ایسی کیفیت میں ہوں،جس کا زندگی میں پہلی مرتبہ تجربہ ہوا ہے۔اللہ کو انسان تو نہیں دیکھ سکتا، لیکن اُس کے گھر کو دیکھنے کی توفیق بھی مل جائے تو یہ زندگی کی سب سے بڑی نعمت ہے۔یہ توفیق مجھے اتنی طویل زندگی گزارنے کے بعد ملی تو لازمی اِس میں اللہ کے بلاوے کی کرم نوازی شامل ہے۔مجھے دوست کہتے تھے تم ایک بار جاؤ گے تو پھر واپس آنے کو دِل نہیں کرے گا،ابھی مجھے یہاں آئے دو دن ہوئے ہیں اور لگ یہی رہا ہے کہ اِس مقدس زمین کے ذرے میرے پاؤں جکڑ چکے ہیں ایسا نہیں کہ یہاں کوئی مخملیں فرش ہیں یا سونے کی اینٹیں لگی ہوئی ہیں۔بظاہر وہی کنکریٹ کی سڑکیں اور ٹف ٹائلز والی راہداریاں ہیں یا پھر وہ سفید ماربل  جو دوسری جگہوں پر بھی لگایا جاتا ہے،مگر جس طرح کہا جاتا ہے کہ نصیب کی بات ہوتی ہے، کسے کہاں مقام ملے تو یہ سڑکیں،گلیاں، یہ ماربلز اور یہ ٹف ٹائلز بہت خوش قسمت بلکہ بہت ہی زیادہ بابرکت اور نور والی ہیں کہ انہیں مکہ کی گلیوں،خانہ کعبہ کے اندر اور سعی کے اُس مقام کی زینت بننا نصیب ہوا ہے جو خالق ِ کائنات نے اپنے زمینی گھر کے لئے منتخب کیا۔عمرہ کی سعادت کا بلاوا آیا تو اسباب پیدا ہوتے چلے گئے۔جن باتوں کی وجہ سے میں اب تک محروم رہا تھا، وہ پت جھڑ کی طرح جھڑتی چلی گئیں۔پھر وہ وقت بھی آیا جب جانے کی تاریخ مقرر ہوئی تو ایک ایک دن کاٹنا مشکل ہو گیا۔کب وہ گھڑی آئے گی جب کعبے کی حاضری نصیب ہو گی۔جب سب مراحل طے ہو گئے اور میں نے خواجہ محمد اقبال کے ساتھ لاہور کا سفر شروع کیا،جہاں سے میری فلائٹ تھی،تو یہ کھٹکا لگا رہا کہیں آخری وقت پر کوئی انہونی نہ ہو جائے۔ لیکن پھر خیال آتا جس  نے اجازت دے دی ہے اب کون رکاوٹ ڈال سکتا ہے۔ ایک دوست نے کہا تھا دیکھنا کہیں آف لوڈ نہ کر دیں، ایف آئی اے والے عمرہ  ویزا پر جانے والوں کو بھی روک رہے ہیں۔میں نے کہا او بھائی میں نے کسی کا کیا بگاڑا ہے جو مجھے روکے گا۔میں تو بندہئ حقیر ہوں اور اپنے گناہوں کی معافی کے لئے اللہ کے حضور جا رہا ہوں،بلاوا آ گیا ہے اب کون روک سکتا ہے،جب میں لاہور ایئر پورٹ پر سارے مراحل سے گزر کر جہاز میں بیٹھ گیا تو پھر اُن کی کال آ گئی۔بیٹھ گئے ہیں یا رہ گئے ہیں۔

جدہ ایئر پورٹ اُترے تو سکون کا سانس لیا،دیارِ مقدس کی زمین پر پاؤں رکھنا نصیب ہوئے۔وہاں سے مکہ کا سفر شروع ہوا، رات کا وقت تھا، طویل ہائے ویز پر گاڑی چلتی  رہی، کہیں راستے میں روشنی آجاتی اور کہیں اندھیرا برقرار رہتا،عاطف کمال نے جو میرے ساتھ تھے،مجھے دکھایا کہ ویرانے میں ریت پر لوگ گاڑیاں کھڑی کر کے پکنک منا رہے ہیں،انہیں کسی کا خوف  نہ ڈر،ورنہ اتنی ویران جگہوں پر تو رات کے دو بجے پاکستان میں جانے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ڈرائیور محمد رفیق جو پاکستانی تھا، نے کہا یہ معمول کی بات ہے،آج چونکہ جمعہ ہے، چھٹی ہے تو لوگ اپنی فیملیز کے ساتھ اِن ویران جگہوں پر آ جاتے ہیں، بار بی کیو پارٹیاں کرتے ہیں، پھر رات گئے گھروں کو لوٹ جاتے ہیں،ہم تقریباً ایک گھنٹہ بیس منٹ بعد مکہ پہنچ گئے۔ میری جونہی مکہ کی حدود شروع ہونے والے سائن بورڈ پرنظر پڑی، میرے اندر ایک کپکپی سی چھوٹ گئی، میں اُس مقام پر آ گیا ہوں جس کی طرف منہ کر کے زندگی بھر نماز پڑھتا رہا ہوں۔یہ وہ شہر ہے جو عظمت و کبریائی کے تمام حوالے رکھتا ہے مجھے اِس میں داخل ہونے کی اجازت مل گئی ہے تو یہ بڑے نصیب کی بات ہے۔یہاں سے خالی ہاتھ تو کوئی لوٹتا نہیں،میں کیسے خالی ہاتھ لوٹایا جاؤں گا۔مجھے معافی بھی ملے گی اور میرے دِل کی تمام مرادیں بھی پوری ہوں گی، ہوٹل ابراہیم خلیل روڈ پرواقع ہے،جہاں ہم ٹھہرے ہوئے ہیں۔یہ طویل روڈ وہ ہے جو کعبہ شریف کو جاتی ہے۔ یہ سڑک درحقیقت کبھی ایک لمحے کے لئے بھی خالی نہیں ہوتی، ہزاروں زائرین کعبہ سے آ رہے ہوتے ہیں یا جا رہے ہوتے ہیں۔احرام تو ہم نے لاہور ایئر پورٹ پر ہی باندھ لیا تھا۔ ہوٹل میں تھوڑا سا تازہ دم ہونے کے بعد بس یہی تڑپ تھی کہ جلد سے جلد حاضری لگوا دیں، باہر نکلے تو دیکھا ہزاروں افراد احرام باندھے جن میں عورتیں، مرد، جوان، بوڑھے، معذور اور کمزور سبھی خانہ کعبہ کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ زبان پر لبیک کی صدائیں اور آنکھوں میں طلب اور شوق کے چراغ جل رہے ہیں۔ جوں جوں ہم حرم پاک کی طرف بڑھتے گئے انسانوں کا سمندر نمودار ہوتا گیا۔ میں حیران تھا اِس دامن میں کتنی وسعت ہے کہ سب کو سمیٹ لیتا ہے۔ اسی سمندر میں بہتے بہتے ہم بابِ شاہ عبدالعزیز کے سامنے پہنچ گئے، خانہ کعبہ پر پہلی نظر پڑی تو آنسوؤں کی ایک ندی تھی جو بہہ نکلی۔میں اتنا دم بخود تھا کہ مجھے ہوش ہی نہیں رہا رستے میں رُک گیا ہوں، بیٹی فریحہ نسیم نے مجھے جھنجھوڑا اور کہا پاپا آگے چلیں۔

اِس پہلی حاضری کی داستان بہت لمبی ہے،چاہوں تو کتاب لکھ دوں،تاہم اِس کالم کی کوتاہ دامنی کے پیش نظر بس اتنا کہنا ہے کہ خانہ کعبہ انسان کے اندر کی میں مار دیتا ہے۔اُس کے سارے کس بل نکال دیتا ہے،اُسے احساس دِلاتا ہے کہ وہ ایک ذرہئ بے مایہ ہے، اللہ کے نزدیک اُس کی عاجزی و بندگی اہم ہے نہ کہ اکڑ اور تکبر۔یہاں طواف کے دوران جو کیفیت ہوتی ہے وہ انسان کے وجود کو آلائشوں سے کوسوں دور کر کے انسانی معراج کی منزل پر  پہنچا دیتی ہے۔ یہ وہ منزل ہے جہاں انسان اگر جیتے جی پہنچ جائے تو اُس کے نصیب جاگ جاتے ہیں۔میں نے تو اس پر کروڑوں بار شکر ادا کیا کہ اپنی ٹانگوں پر طواف کر رہا ہوں، وہاں ہزاروں ایسے تھے،جنہیں وہیل چیئر یا دوسرے سہاروں کے ذریعے طواف کرایا جا رہا تھا۔مکہ ایک روحانیت  کا بحرِ بیکراں ہے اُس کی صبح و شام کے نظارے اور محسوسات لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے۔ میں جب سے یہاں آیا ہوں دوستوں اور عزیز و اقارب کی طرف سے دُعا مانگنے کو کہا جا رہا ہے،میں دعائیں مانگ بھی رہا ہوں، تاہم اِس وقت    میری سب سے اہم دُعا ہے کہ مولا سب کو اپنے گھر کی حاضری نصیب فرما۔

٭٭٭٭٭

مزید :

رائے -کالم -

شیئر کرنا
آرکائیو
پسند

view_more_opinions_from نسیم شاہد

(0)تبصرے