Download the Applications
Get it on Google PlayDownload on the App Store
لاگ آؤٹ
Privacy Policy Terms and Condition
NewsHunt
نسیم شاہد
language
تیرا مکہ رہے آباد مولا           (2)

میرا تجربہ تو یہ رہا ہے جہاں کہیں ہجوم اکٹھا ہوا، ذرا سی دھکم پیل ہوئی تو گھونسے اور مکے چل گئے۔ کسی نے ذرا سی بات کر دی، غصے میں آ گئے اور پھر بات بڑھتے بڑھتے نجانے کہاں تک چلی گئی، مگر مکہ میں ہر منظر بدلا ہوا تھا۔ خانہ کعبہ کے طواف کا روح پرور منظر اس لئے بھی سکون دیتا ہے کہ چلتے ہوئے دھکے بھی لگتے ہیں اور لوگ ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش بھی کرتے ہیں مگر مجال ہے کسی کے چہرے پر کوئی غصہ یا کوئی نفرت نظر آتی ہو۔سب اللہ اکبر کا ورد کرتے، لبیک لبیک کی صدائیں بلند کرتے آگے بڑھتے رہتے ہیں۔ صرف یہیں نہیں بلکہ صفا و مروا کی سعی کے دوران بھی کوئی کسی کی طرف اس لئے غصے سے نہیں دیکھتا کہ وہ کہنی مار کر یا دھکا دے کر اپنی جگہ بناتے ہوئے آگے نکل گیا ہے۔سب کے دلوں میں بس ایک ہی لگن ہوتی ہے اللہ کے حضور آگے بڑھتے جائیں۔ حرم کی حدود سے نکل کر جب آپ ابراہیم خلیل روڈ پر آتے ہیں تو وہاں بھی ایک جم غفیر حرم کی طرف آ اور جا رہا ہوتا ہے۔ سامنے سے آنے والوں کو راستہ دیتے ہیں، عورتیں، مرد ایک ہی صف میں شامل ہوتے ہیں۔ کیا یہ ڈسپلن کہیں اور نظر آتا ہے، نہیں کیونکہ مکہ تو خالق ارض و سما کا گھر ہے۔یہاں اسی کی کبریائی اپنا حصار رکھتی ہے۔ سب یہ سوچ کر اس شہرمیں داخل ہوتے ہیں کہ تکبر، انا، غصہ، نفرت اور جاہ و جلال رب کعبہ کو پسند نہیں، یہاں آکر ہر مسلمان اس حقیقت کو پا لیتا ہے کہ وہ ایک ذرے سے بھی کمتر حیثیت رکھتا ہے۔ مالک ارض و سما کا جلال و جمال اس کے وجود کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے یہاں ہر رنگ، ہر نسل اور ہر ملک کے زائرین آتے ہیں مگر یہاں آکر وہ سب کچھ بھول کر صرف مسلمان بن کر سوچتے ہیں۔ اس کوشش میں رہتے ہیں کہ کسی کو ان کی وجہ سے کوئی تکلیف نہ پہنچے، گزند نہ پہنچے۔ میں یہ سارے مناظر دیکھ کر سوچتا ہوں، دنیا بھر سے مسلمان یہاں آکر نفرت، تعصب اور نسل پرستی سے دور ہو جاتے ہیں لیکن یہاں سے واپس جا کر وہ پھر سوچ کی وہی راہ اپناتے ہیں، جو ایک دوسرے کے خلاف نفرت کو اُبھارتی ہے، یہاں آکر بڑے سے بڑا آدمی بھی عاجز و مسکین بن جاتا ہے، لیکن اپنے ملک اور علاقوں میں جا کر ان کی وہی اکڑ فوں، وہی تکبر اور وہی دوسروں کے خلاف متعصب سوچ پیدا ہو جاتی ہے۔ ایسا کیوں ہوتا ہے۔ یہ مانا کہ مکہ میں خدا کا گھر ہے لیکن اللہ تو ہر جگہ موجود ہےّ وہ سب دیکھ رہا ہے اور اس کے سامنے ہر شخص کے اعمال کھلے پڑے ہیں۔

مکے میں گزرے ان تین دنوں کے دوران بہت سے روح پرور مناظر دیکھے۔ جب کسی نماز کی اذان ہوتی ہے تو وہ خانہ کعبہ سے پورے مکہ میں سنائی دیتی ہے۔ لوگ نماز کے وقت اپنے گھروں، ہوٹلوں اور دکانوں سے باہر نکل آتے ہیں۔ سڑک پر ہی صف باندھ لیتے ہیں۔ گویا وہ براہ راست خانہ کعبہ کی نماز میں شامل ہوجاتے ہیں۔ ابراہیم خلیل روڈ پر جہاں میں ٹھہرا ہوا ہوں، پانچ وقت کی نماز اسی طرح ہوتی ہے۔ ہزاروں لوگ اذان ہوتے ہی نماز کے لئے تیار ہوجاتے ہیں۔ فجر کی نماز کے وقت ایک روح پرور سماں ہوتا ہے۔ عورتیں، مرد  ایک ہی صف میں کھڑے ہو کر نماز ادا کرتے ہیں۔ نماز کے بعد امام صاحب کوئی دعا نہیں کراتے۔ البتہ لوگ صفوں پر موجود رہتے ہیں کیونکہ ہر نماز کے بعد مسجدالحرام میں آئے ہوئے جنازوں کی اجتماعی نماز پڑھائی جاتی ہے۔ یہ ایک معمول ہے اور میں نے ابھی تک جتنی نمازیں پڑھیں ان کے ساتھ وفات پا جانے والوں کی نماز جنازہ بھی پڑھی ہےّ یہاں ویسے تو پولیس کی طرف سے کوئی خوف و ہراس نہیں محسوس ہوتا۔ تاہم اگر پولیس والا کوئی اشارہ کر دے تو یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ کوئی اس کی حکم عدولی کرے۔ ہم نے آج صبح حرم پاک جانے کے لئے فلسطین ہوٹل والے چوک سے ٹیکسی لی۔ اس کا ڈرائیور عبداللہ پاکستانی تھا وہ ہمیں لے کر آگے بڑھا تو کچھ دور جا کر اس نے کہا آگے راستہ بند کر دیا ہے۔اب میری تو مجال نہیں میں اس سے کچھ کہوں۔ آپ ہی نیچے اتر کر سامنے کھڑے سارجنٹ سے درخواست کریں کہ آگے جانے دے۔ میں نے کہا کیا وہ میری بات مان جائے گا، عبداللہ مسکرا کر بولا سر جی اگے تہاڈی قسمت۔ خیر میں اس کے پاس گیا انگریزی میں اسے کہا کہ اتنی دور پیدل نہیں جا سکتا، آگے جانے دو، اس نے سپاٹ چہرے سے میری طرف دیکھا اور مجھے جواب دینے کی بجائے ٹیکسی ڈرائیور کو اشارہ کیا، آگے لے جائے، میں نے شکریہ کیا مگر وہ میری طرف سے بے نیاز ہو چکا تھا۔ اس روڈ پر مجھے یہ گمان بھی ہوا کہ شاید یہاں بھی پنجاب کی طرز پر پیرا فورس کام کررہی ہے۔ اچانک ایک شور  اٹھتا تھا اور سڑک کنارے اشیاء بیچنے والے سامان اٹھا کر بھاگ کھڑے ہوتے تھے کیونکہ پولیس والے انہیں پکڑتے نظر آ رہے تھے۔

پاکستانی یہاں بہت ہیں اور دکانیں، ہوٹلز چلا رہے ہیں۔ پاکستانی کھانے اسی ذائقے کے ساتھ مل جاتے ہیں جو پیارے پاکستان میں کھاتے ہیں۔ اردو آپ کو آتی ہے تو سمجھیں آپ کسی مشکل میں نہیں پڑیں گے۔ میں نے دیکھاکہ ازبکستان، روس، چین، افریقہ اور ایسے ممالک سے آنے والے جہاں انگریزی نہیں بولی جاتی، خاصی مشکل کا شکار ہوتے ہیں، وہ جگہ پوچھیں تو بتانے والا کوئی نہیں ملتا، البتہ یہ بات بہت اہم ہے کہ ان ممالک کے لوگ گروپوں کی شکل میں آتے ہیں اور گروپ بنا کر ہی طواف کرتے ہیں، کئی ممالک کے زائرین نے ایک ہی قسم کا لباس پہنا ہوتا ہے۔ وہ ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر چلتے ہیں، راستہ بناتے چلے جاتے ہیں بعض گروپ صرف خواتین پر مشتمل ہوتے ہیں، مرد تو پھر بھی خواتین سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں تاہم خواتین کے یہ گروپ مردوں کی صفیں چیرتے ہوئے آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ سب کی تڑپ اور لگن یہ بھی ہوتی ہے کہ کسی طرح غلاف کعبہ کو چھو لیں یا پھر حجر اسود کا بوسہ لے لیں، مگر یہ موقع قسمت والوں کو ملتا ہے۔ وہاں اس قدر رش ہوتا ہے کہ خود کو سنبھالنا مشکل ہو جاتا ہے۔ توقیر احمد شریفی مہربان دوست ہیں، لاہور کی ادبی سرگرمیوں کے روحِ رواں ہیں، نعت بہت اچھی کہتے ہیں، ان کا فون آیاکہ مکہ میں میرے لئے دعا کریں اور بتائیں زیارات کے لئے کوئی بندوبست کیا ہوا ہے۔ میں نے کہا رب کے شہر میں آئے ہوئے ہیں وہ خود ہی بندوسبت کر دے گا۔ انہوں نے کہا یوں لگتا ہے یہ سعادت خدا نے مجھے سونپ دی ہے۔ میں آپ کے لئے ڈرائیور اور سواری کا بندوبست کرتا ہوں، بتائیں آپ نے کب جانا ہے۔ میں نے اگلے دن کا کہا تو انہوں نے کہا انشاء اللہ یہ ہو جائے گا،صبح ایک پاکستانی ڈرائیور مشتاق کی کال آئی کہ مجھے شریفی صاحب نے نمبر دیا ہے، بتائیں کب آ جاؤں، یوں آج زیارات کا بندوبست بھی ہو گیا۔ اللہ کارساز ہے۔

مزید :

رائے -کالم -

شیئر کرنا
آرکائیو
پسند

view_more_opinions_from نسیم شاہد

(0)تبصرے