Download the Applications
Get it on Google PlayDownload on the App Store
لاگ آؤٹ
Privacy Policy Terms and Condition
NewsHunt
نسیم شاہد
language
مدینے کا سفر ہے اور میں نم دیدہ نم دیدہ

آج مدینہ شریف کی طرف عازم سفر ہونا ہے، دل کی دھڑکنیں ہیں کہ قابو میں نہیں۔ میں نے بہت سال پہلے ایک نعت لکھی تھی جس کا مطلع یہ تھا:

مدینے جاؤ تو میرا سلام بھی کہنا

تڑپ رہا ہے تمہارا غلام بھی کہنا

اب جب میں مدینے کی طرف جاؤں گا تو یہی سوچ کے آنکھیں نم ہو جائیں گی کہ بالآخر پیارے نبیؐ نے اپنے تڑپتے ہوئے غلام پر کرم کی نظر ڈال دی ہے۔ مکہ اللہ کا گھر ہے تو مدینہ اس کے محبوب کا شہر ہے، گویا مدینہ اللہ کو بھی بہت پیارا ہے۔ پچھلے کئی دنوں سے دوست اپنے واٹس اپ پیغامات کے ذریعے یہی پوچھ رہے ہیں، مدینہ کب جانا ہے؟ جاؤ تو ہمارا سلام ضرور دینا۔ خود میرے اندر لاکھوں درود و سلام مچل رہے ہیں جو میں نے بارگاہ اقدس میں پیش کرنے ہیں۔ سب پیش کروں گا اور دست بستہ التجا بھی کروں گا کہ ہم گناہ گاروں کی بخشش کے لئے بارگاہِ ایزدی میں سفارش کر دیجئے۔ میں یہاں اپنے ہوٹل سے جب بھی فجر کی نماز کے لئے جاتا ہوں تو واپسی پر مجھے بسوں کی قطار نظر آتی ہے جو زائرین کو مکہ سے لے کر مدینہ جاتی ہیں۔ جب زائرین کا بسوں میں سامان رکھا جا رہا ہوتا ہے اور وہ بسوں میں سوار ہوتے ہیں تو ان کے چہروں پر ایک سرخوشی، ایک سرشاری اور ایک طمانیت ہوتی ہے جیسے کوئی اپنی سب سے پیاری ہستی سے ملنے کا سوچ کر خوشی سے نہال ہو جاتا ہے، اسی طرح کی حالت ان زائرین کی ہوتی ہے جو مکے سے مدینے کا سفر کرتے ہیں۔بذریعہ بس پانچ ساڑھے پانچ گھنٹے لگ جاتے ہیں۔یہ وقت کیسے گزرتا ہوگا اس کا فی الحال تو اندازہ نہیں لیکن آج جب یہ سفر شروع ہوگا تو دل کی دھڑکن ایک ایک لمحے کو بڑی بے تابی سے گزارے گی۔ مدینہ محبت، عقیدت اور ایثار کا استعارہ ہے۔ یہاں روضہء رسول اکرمؐ ہے اور یہی بات اسے پوری دنیا میں ایک متبرک اور مقدس شہر کا درجہ دیتی ہے۔ میں نے جب بھی کوئی چیز مکہ سے خریدنے کا ارادہ کیا تو یہاں میزبانوں نے یہی کہا مدینے سے لیں وہاں اچھی اور سستی ملے گی۔ میں نے جب بھی پوچھا ایسا کیوں ہے؟ تو انہوں نے صرف اتنا کہا آپ وہاں جائیں تو بات سمجھ آ جائے گی، مدینہ ایک شہرِ محبت ہے جس شہر میں محبوب کبریاؐ موجود ہوں۔ اس شہر کی عظمت اور مقام کا اندازہ بھی مشکل ہی سے لگایا جا سکتا ہے۔

مکہ سے مدینے جانے کے لئے تین ذرائع استعمال کئے جاتے ہیں۔ ایک بلٹ ٹرین، دوسرا بسوں کے ذریعے اور تیسرا ٹیکسی سے،عام طورپر بسیں سب سے زیادہ زائرین کو مدینہ لے جاتی ہیں۔ ٹیکسی والے ساڑھے تین سو ریال مانگتے ہیں تاہم تھوڑی سی حیل و محبت کے بعد اڑھائی سو ریال پر تین سے چار سواریاں لے جاتے ہیں، دو دن پہلے ہم ایک ٹیکسی پر حرم شریف گئے، اسے ایک پاکستانی جس کا تعلق گجرات سے تھا، ڈرائیو کررہا تھا، باتوں باتوں میں اس  نے پوچھاآپ نے مدینہ کب جانا ہے؟میں نے کہا بدھ کو، کہنے لگا مجھے موقع دیں، میں نبی کریمؐ کے مہمانوں کو چھوڑ کر آنا چاہتا ہوں۔ میں نے کہا جس ٹور ایجنٹ نے ہمارے عمرے کا اہتمام کیا ہے، اس نے مدینہ لے جانے کا بھی بندوبست کیا ہوا ہے اس نے کہا آپ شاید پیسوں کی وجہ سے میرے ساتھ نہیں جانا چاہتے، میں نے کہا ارے نہیں لیکن جس گروپ کے ساتھ ہیں، اس کے ہمراہ جائیں تو بہتر ہوگا۔ وہ چلا گیا اس کے چہرے سے مایوسی نمایاں تھی۔ پھر مجھے وہ ملتان کا ٹیکسی ڈرائیور مصور عباس یاد آیا جو بوسن روڈ ملتان کا رہائشی تھا اور اب کئی برسوں سے مکہ میں ٹیکسی چلا رہا ہے۔طواف کے لئے جب پہلے دن ہم حرم پاک گئے تو واپسی پر باب شاہ عبدالعزیز سے نکلنے کی بجائے کلاک ٹاور کے دوسری سمت چلے گئے۔ جب کافی پیدل چل چکے تو میں نے عاطف کمال سے کہا، گڑ بڑ ہو گئی ہے یہ وہ راستہ نہیں جو ابراہیم خلیل روڈ کو جاتا ہے۔ہم ایک ٹیکسی والے کو روک کر پتہ بتایا تو اس نے انکار کر دیا کہ میں اتنے قریب کی سواری نہیں اٹھاتا۔ اتنے میں مصور عباس گاڑی لے کر آ گیا۔ اس نے پوچھا سر آپ ملتان سے ہیں، میں نے سرائیکی میں ہاں کہا تو اس نے کہا کہاں جانا ہے۔ ہم نے ہوٹل کا نام بتایا، اس نے کہابیس ریال میں پہنچا دوں گا۔ ہم حیران ہوئے کیونکہ گئے تو ہم پانچ ریال میں تھے۔ خیر تھکن سے بہت زیادہ چور ہو چکے تھے اور کھڑا بھی نہیں ہوا جا رہا تھا، اس لئے ٹیکسی میں بیٹھ گئے۔ تھوڑی دیر بعد اس نے کہا ہوٹل فون کرکے پوچھیں صحیح لوکیشن کیا ہے۔ عاطف کمال نے فون کیا اور ٹیکسی ڈرائیور مصور عباس کی ہوٹل منیجر سے بات کرائی۔ اس نے اپنا پتہ سمجھایا توٹیکسی ڈرائیور نے فون بند کر دیا اور کہنے لگا وہ تو بہت دور ہے، ہم بہت آگے نکل آئے ہیں، اب تو کرایہ بیس کی بجائے تیس ریال ہوگا۔ اس وقت رات کے دو بج چکے تھے اور ٹیکسی بھی اب ویران سڑک پر چل رہی تھی۔ اس لئے مجبوراً مان گئے۔ تھوڑی دیر اِدھر اُدھر گھمانے کے بعد وہ ہمیں فلسطین ہوٹل والے چوک پر لے آیا، ہم نے تیس ریال دیئے اور ہوٹل آکریہ واقعہ سنایا تو منیجر نے کہا،یہ ٹیکسی والے بہت فراڈ کرتے ہیں۔ وہ آپ کو صرف دو کلومیٹر سفر کراکے تیس ریال لے گیا ہے۔ باقی اس نے صرف آپ کو چکر دینے کے لئے اِدھر اُدھر کی سڑکوں پر گھمایا ہے۔

مجھے اس پر اس لئے بھی حیرت ہوئی کہ دنیا بھر سے مسلمان اپنے گناہ بخشوانے مکہ آتے ہیں۔ اللہ کے مہمان ہوتے ہیں مگر یہ ٹیکسی والے انہیں بھی نہیں بخشتے، لیکن پھر مجھے ٹیکسی ڈرائیور عبداللہ کا خیال آیا جو ہمیں مدینہ لے جانا چاہتا تھا اور یہ اصرار بھی کررہا تھا آپ مجھے ایک پیسہ نہ دیں بس میں پیارے نبیؐ کے مہمان پہنچانا چاہتا ہوں۔  خیر پردیس میں ہر رنگ کے تجربے ہوتے ہیں۔ سعودی عرب تو ایسی جگہ ہے جہاں سارا سال لاکھوں مسلمان آتے ہیں زیادہ تر بغیر کسی تلخ تجربے سے ہمکنار ہوئے اپنا دورہ مکمل کرکے چلے جاتے ہیں۔ خیر ان باتوں کا ذکر تو برسبیل تذکرہ آ گیا۔ اس وقت تو ہم ہوٹل میں سمان باندھ کر بیٹھے ہوئے ہیں،کب بس آتی ہے اور کب ہم مدینہ کی طرف سفر کرتے ہیں۔ مدینے میں بہت سے دوستوں نے ملنے کا کہا ہے، جن میں امین موتی والا، شہریار خالد اور رفیق خان خاص طور پرقابل ذکر ہیں تاہم دیدار کی خواہش تو صرف روضہ رسولؐ کی ہے اور جالیوں کو چومنا زندگی کا سب سے بڑا خواب ہے۔

مزید :

رائے -کالم -

شیئر کرنا
آرکائیو
پسند

view_more_opinions_from نسیم شاہد

(0)تبصرے