Download the Applications
Get it on Google PlayDownload on the App Store
لاگ آؤٹ
Privacy Policy Terms and Condition
NewsHunt
نسیم شاہد
language
مدینہ خاص تھا خاص رہے گا

مکے کے مقابلے میں مدینہ ایک کھلا اور زیادہ ترقی یافتہ شہر ہے۔تاہم جب میں مکہ میں تھا تو دوست کہتے تھے جب مدینہ جاؤ گے تو تمہیں لوگوں کے رویوں اور عادتوں میں بھی بہت زیادہ فرض نظر آئے گا۔وہ کہتے تھے مدینہ میں تمہیں نرمی ہی نرمی نظر آئے گی، حتیٰ کہ وہ سعودی پولیس والے بھی جو مکہ میں خاصے سخت نظر آتے ہیں مدینہ میں بہت نرم اور شائستہ نظر آئیں گے۔کئی باتیں مجھے مدینہ میں پہنچتے ہی محسوس ہونے لگیں، یہاں کسی کو غصہ کرتے یا لڑتے نہیں دیکھا۔ راستہ دیں گے اور بڑھ کر دیں گے، حتیٰ کہ جو پاکستانی مدینہ میں ہوٹل چلاتے ہیں وہ بھی مکہ والوں کے برعکس بہت نرم ہیں۔مثلاً مکہ میں حلوے کی پلیٹ پانچ ریال میں دی جاتی ہے لیکن مدینہ میں ایک پاکستانی ریسٹورنٹ جس کا نام وسیب تھا ناشتے کے لئے گئے تو مالک نے کہا حلوہ آپ جتنا مرضی کھائیں مفت ہے۔اس طرح کھانوں کے ریٹ بھی مکہ کے مقابلے میں کم تھے۔ آپ مسجد نبویؐ میں جائیں تو اُس کی فضاء خاموش اور پُرادب نظر آئے گی، زائرین با ادب چل رہے ہوں گے اور عام طور پر کسی دوسرے کا راستہ نہیں کاٹیں گے جبکہ اس کے مقابلے میں مسجد الحرام میں ایک ایسی گہما گہمی نظر آئے گی جس میں ایک دوسرے سے زیادہ اپنا خیال رکھنے کی روش موجود ہو گی، سامنے سے آنے والا اس بات کا قطعی خیال نہیں رکھے گا کہ پہلے آپ گذر جائیں۔ کئی تو ٹولیوں کی صورت میں راستہ کاٹتے دکھائی دیں گے۔مدینہ میں مسجد نبویؐ ہر وقت آباد رہتی ہے، اس کے پُرشکوہ دالان، اسلامی آرکیٹکچر کے خوبصورت نمونے اور سب سے بڑھ کر یہاں روضہئ رسولؐ اور ریاض الجنہ کی موجودگی اس کی خوبصورتی اور اہمیت کو دوچند کر دیتی ہے۔ یہاں میوزیم بھی ہے اور لائبریری بھی۔مسجد نبویؐ کے ساتھ آپ کو بازار بھی نظر آئیں گے۔ایک اہم ترین فرق یہ بھی ہے کہ پورے خانہ کعبہ میں کسی بھی جگہ بیٹھنے کے لئے کوئی بنچ نظر نہیں آئیں گے تاہم مسجد نبویؐ میں ایسے بنچ کئی جگہ دیکھے جہاں لوگ بیٹھ کر سستا لیتے تھے۔ مدینہ واقعی شہر اَمن و سلامتی محسوس ہوتا ہے۔اس کے درو بام سے ایک سکون اور طمانیت نکلتی محسوس ہوتی  ہے۔مجھے اکثر دوستوں نے یہ مشورہ بھی دیا کہ خریداری کرنی ہو تو مکہ کی بجائے مدینہ سے کریں جہاں قیمتیں بھی مناسب ہوتی ہیں اور چیزیں بھی اچھی مل جاتی ہیں۔حاجی ہوں یا عمرہ زائر اُن کی سب سے بڑی خریداری کھجوریں ہوتی ہیں۔ پاکستان واپسی اُن سے یہی توقع رکھی جاتی ہے کہ وہ آب زم زم اور کھجوریں لے کرآئیں گے۔مدینہ میں تو کھجوروں کی باقاعدہ منڈی لگتی ہے۔مجھے مدینے میں مقیم شہریار بتاتے تھے کہ منڈی اور بازار کی قیمتوں میں بہت زیادہ فرق ہوتا ہے۔

ایک اور فرق یہ بھی ہے کہ مکے کی نسبت مدینے میں تاریخی مقامات اور زیارتیں بہت زیادہ ہیں۔ان زیارتوں کو دیکھنے کے لئے بہت زیادہ وقت درکار ہوتا ہے۔مدینہ میں مسجد قباء بھی ہے،جس کے بارے میں کہا جاتا ہے وہاں دو نفل پڑھنے کا ثواب عمرہ کے برابر ہے۔مدینہ کی سڑکیں بھی مکہ کی نسبت بہت کشادہ ہیں،عمارتوں کے حوالے سے بھی مدینہ کی ہر بڑی سڑک پر فلک بوس پلازے موجود ہیں۔ کہیں بھی ایسا محسوس نہیں ہوتا کہ کسی نے تجاوزات کی ہوئی ہیں ایسا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا کہ قانون بہت سخت ہے۔ مدینہ میں آ کر یہ احساس تو خیر ناقابل بیان ہوتا ہی ہے کہ ہم محبوبِ کبریاؐ کے شہر میں کھڑے ہیں تاہم جو فضاء میں سکون اور راحت کی خوشبو نظر آتی ہے،اس کا تو کوئی مقابلہ ہو ہی نہیں سکتا۔مدینے کی ترقی پر یہاں کے رہنے والے بہت شکر گزار ہیں، اس وقت بھی شہر میں کئی جگہ ترقیاتی منصوبے جاری ہیں۔ مدینہ کو وسعت دی جا رہی ہے تاکہ آنے والے دِنوں زائرین کو مزید سہولتیں دی جا سکیں۔ مدینہ دنیا کے جدید اور ماڈرن شہروں سے پیچھے نہیں۔شہر کو تین چیزیں خوبصورت بناتی ہیں۔اُس کی کشادگی۔ سڑکیں اور ٹریفک۔ یہ تینوں چیزیں مدینہ میں موجود ہیں ایک اور اہم بات یہاں کے ڈرائیوروں کا رویہ ہے۔آپ نے اگر سڑک کراس کرنا شروع کر دی  ہے تو دور سے آنے والی کاریں اپنی رفتار کم کر لیں گی اور آپ کے گذرنے تک رُک جائیں گے۔یہاں کے لوگ زائرین کو رسولؐ کے مہمان قرار دیتے ہیں وہ اُن کی خدمت کرنے کو سعادت سمجھتے ہیں۔ پاکستانیوں کی تعداد یہاں بھی مکہ کی طرح بہت ہے تاہم پاکستانی ٹیکسی ڈرائیور مکہ میں کچھ اور مدینہ میں اُس سے مختلف ہوتے ہیں۔میرے سامنے مسجد نبویؐ سے نکلتے ہوئے دو گاڑیوں میں ایکسیڈنٹ ہوا، زیادہ شدید نہیں تھا مگر اس کے باوجود فوراً ایک ٹریفک کانسٹیبل آ گیا اور اُس نے دونوں گاڑیوں کے ڈرائیوروں سے پوچھا آپ کیا چاہتے ہیں، معاملے کی تفتیش کی جائے یا آپ اپنے طور پر صلح کر لیں گے،دونوں نے کہا ہم کوئی کارروائی نہیں چاہتے اور گاڑیاں چلا کے خاموشی سے چلے گئے۔صلح جوئی کا یہ رویہ کئی جگہوں پر دیکھا اور یہی محسوس کیا کہ اس شہر محبت میں کوئی دوسرے سے لڑنا نہیں چاہتا۔ایک جگہ ملائیشیا کے مرد و زن زائرین گروپ فوٹو بنا رہے تھے۔ اُن کی جونہی مجھ پر اور عاطف کمال پر نظر پڑی تو انہوں نے زور زور سے کہنا شروع کر دیا، پاکستانی، پاکستانی اور اپنے گروپ فوٹو میں شامل ہونے کو کہاں، ہم دونوں جب پیچھے کھڑے ہوئے تو سب نے تالیاں بجائیں۔

میرا خیال ہے مدینہ پر حضور اکرمؐ کی ذات بابرکات کا جو سایہ ہے اُس نے اِس شہر کو گداز اور محبت کی آماج گاہ بنا دیا ہے۔مکہ میں کچھ دکانداروں کو درشت لہجے میں جواب دیتے بھی دیکھا لیکن مدینہ میں ہر دکاندار مجسم محبت و شائستگی تھا۔آپ جتنی مرضی اشیاء کے ریٹ پوچھیں، وہ جواب دیں گے اور ماتھے پر کوئی شکن نہیں لائیں گے۔ مسجد نبویؐ میں،میں نے کئی جگہ ایسے منظر بھی دیکھے کہ پولیس اہلکار کسی عورت یا مرد کو اپنے فون سے کال ملا کر اُس کے بچھڑے ہوئے لوگوں سے بات کرا رہے ہیں۔مدینے میں بوڑھی عورتوں اور معذوروں کو بہت اہمیت دی جاتی ہے۔اُن کے لئے علیحدہ راستے بنائے گئے ہیں اور اگر سہارے کی ضرورت ہو تو کوئی پولیس اہلکار یا انتظامیہ کا بندہ اُس کی مکمل مدد و رہنمائی کر کے اُسے منزل پر پہنچا کے آئے گا۔ہم عرصے سے سنتے آئے ہیں کہ سارے جگ کولوں لگدیاں چنگیاں مدینے دیاں پاک گلیاں،اور اب جب آنکھوں سے یہ گلیاں اور سڑکیں دیکھی ہیں توک واقعی یہ پاک گلیاں ہیں، کشادہ بھی اور پُرسکون بھی۔ مدینہ میں پوش بازار بھی ہیں اور چھوٹے بازار بھی،جو گلیوں میں موجود ہیں۔زیادہ خریداری ان بازاروں میں ہوتی ہے، کیونکہ یہاں قیمتیں بہت مناسب ہوتی ہیں۔امین موتی والا میرا ایک لنگوٹیا دوست ہے وہ جب دوحا،قطر میں ہوتا تھا تو وہاں  علمی ادبی سرگرمیوں کی جان تھا۔ اب وہ ایک عرصے سے سعودی عرب میں مقیم ہے جمعہ کو اُس نے میری خاطر دو سو میل دور سے ملنے آنا ہے۔ امین موتی والا کا کہنا ہے مدینہ ایک شہر طلسم ہے اور اِس کا سب سے بڑا طلسم یہ ہے کہ اس میں داخل ہوتے ہی انسان کی ساری کلفتیں، پریشانیاں اور مشکلیں دور ہو جاتی ہیں۔ یہ شہر ایک ایسی ڈھارس ہے جو ہر دِل کو نصیب ہوتی ہے۔ بات تو سچ کی ہے۔ ایک ایسا شہر جو خالق کائنات کی سب سے مقبول ہستی کا مسکن ہو بھلا عام شہر کیسے ہو سکتا ہے۔ مدینہ خاص ہے اور خاص رہے گا۔

٭٭٭٭٭

مزید :

رائے -کالم -

شیئر کرنا
آرکائیو
پسند

view_more_opinions_from نسیم شاہد

(0)تبصرے