معروف شاعر، ادیب زاہد مسعود میرے گھر تشریف لائے تو ڈاکٹر رضیہ اسماعیل کے افسانوں کا مجموعہ آدھی چادر میرے ہاتھ میں تھما کر کہنے لگے کہ اس پر آپ نے مضمون لکھنا ہے اور اس کتاب کی رونمائی پر پڑھنا بھی ہے۔ڈاکٹر رضیہ اسماعیل 2016ء میں پاکستان تشریف لائی تھیں اور ہمیں اپنی محبتوں کا اسیر کرکے پاکستان سے ایسی گئیں کہ پھر لوٹ کر نہ آئیں ایک دن میں نے اپنے پرانے وزیٹنگ کارڈ نکالے تو سامنے رضیہ اسماعیل کا کارڈ نظر آیا کچھ پریشانی ہوئی کہ نجانے ڈاکٹر رضیہ کیسی ہیں انہوں نے آخر پاکستان کا دورہ کیوں نہیں کیا میں نے فوراً وقت دیکھا اور ان کا نمبر ملا دیا۔ڈاکٹر رضیہ صاحبہ سے بات ہوئی شکر ہے سب خیر تھی انہوں نے کہاکہ جلد اپنی نئی کتاب کو شائع کروانے پاکستان آ رہی ہوں، جلد ملاقات ہو گی۔ پھر ستمبر گزرا نومبر آیا ایک دن اچانک شاعرہ شہناز مزمل صاحبہ کا فون آیا اور انہوں نے خوشخبری دی کہ ڈاکٹر رضیہ صاحبہ آپ سے بات کرنا چاہتی ہیں وہ کچھ دن پہلے ہی پاکستان پہنچی ہیں۔ پھر نہایت خوشگوار گفتگو ہوئی نئی کتاب ولایتِ گم گشتہ کی نوید سنائی اور یوں ہم ان کے آنے کا لاہور میں انتظار کرنے لگے۔ انہوں نے لاہور آتے ہی مجھے اپنی نئی کتاب ولایتِ گم گشتہ بھیج دی۔ پھر میں نے سوچا کہ کیوں نہ ڈاکٹر رضیہ کے ساتھ ایک خوبصورت شام منائی جائے۔ کچھ باتیں اور ملاقاتیں کریں اور اپنے کچھ قریبی دوستوں کو بھی مدعو کریں اور ان کے کچھ قیمتی لمحات میں سے کچھ خوبصورت لمحے چرا لیں اور اس طرح ڈاکٹر رضیہ اسماعیل کی نئی کتاب پر گفتگو بھی ہو جائے گی۔آج دوستوں کی اس بیٹھک میں یہ لمحات بہت قیمتی ہیں کیونکہ یہاں آنے والی تمام شخصیات اپنی ذات میں یکتا ہیں اور میں آپ سب کی شکر گزار ہوں کہ آپ نے قیمتی لمحات ہمارے نام کئے اور آپ سب ڈاکٹر رضیہ اسماعیل اور ان کی سرگزشت کتاب ولایت گم گشتہ کے لئے اپنا قیمتی وقت نکالا۔
ولایتِ گم گشتہ کتاب ان کی سرگزشت ہے یہ ڈاکٹر رضیہ اسماعیل کی زندگی کے 50سالوں پر پھیلے تجربات و حوادث اور مشاہدات پر مشتمل ہے۔ 793صفحوں پر محیط یہ کتاب ان کی ذاتی کہانی ہے اپنی یادداشتوں کو سمیٹنا اور ایک ایک کرکے گزرے ماہ و سال کے واقعات کو ترتیب دینا بہت ہی مشکل کام ہے۔ ڈاکٹر رضیہ اسماعیل نے یہ کام کس مشقت سے کیا ہوگا یہ تو مکمل کتاب پڑھنے کے بعد ہی پتا چلے گا یا وہ خود بتا سکیں گی۔ میں نے تو وقت کم اور مقابلہ سخت ہونے کی وجہ سے ان کی سرگزشت پر ایک طائرانہ نگاہ ہی ڈالی ہے مکمل کتاب پڑھنے کا اشتیاق بہرحال ابھی باقی ہے۔ بقول ڈاکٹر رضیہ اسماعیل کہ ولایتِ گم گشتہ سود و زیاں کی ایک داستان لئے ہوئے ہے وہ اس حوالے سے کئی کیفیتوں سے گزری ہیں۔ میں تو یوں کہوں گی کہ
جب خیال آتا ہے ذہن کے دریچوں سے
کشف کے سفرپر کیا
یوں اُڑان ہوتی ہے
لب پھڑکنے لگتے ہیں
زخم رِسنے لگتے ہیں
سائے دِکھنے لگتے ہیں
جن کے ہم تصور میں
روز جیتے مرتے ہیں
جسم کی کوئی جنبش
ہاتھ تک نہیں جاتی
آنکھ کے کٹوروں سے
پانی بہہ نکلتا ہے
انہوں نے لکھا ہے کہ ہر چیز ہر بات ہر کَشف کا ایک وقت مقرر ہوتا ہے جس کے آگے یا پیچھے کچھ بھی ہو نا ناممکن ہے یعنی ہم سب سمّے کی قید میں ہیں کبھی کبھی تخیل سوچ اور خیالات کو واقعی کسی کی نظر لگ جاتی ہے۔ ڈاکٹر رضیہ اسماعیل جب گریجوایشن کررہی تھیں تو ان کے ادبی ارتقاء کا آغاز ہو چکا تھا۔ انہوں نے کالج کے زمانے ہی میں پہلی غزل کہی اور افسانہ بھی لکھا اس افسانے کا شمار بہترین افسانوں میں ہونے لگا اس موقع پر انہیں علامہ اقبال کی کتابوں کا مکمل سیٹ تحفہ میں دیا گیا جس کی وجہ سے انہیں ان کتابوں کا ملک سے باہر بہت فائدہ ہوا وہ ان سے بہت مستفید ہوئیں۔ پھر حسن ریاض کی کتاب پڑھ کر بھی ادبی طور پر ادبی Evolutionہوا۔ ڈاکٹر رضیہ اسماعیل نے شادی کے بعد انگلینڈ یں رہائش اختیار کی۔ وہ ایک ممتاز ادیبہ ہی نہیں بلکہ معروف شاعرہ، سماجی کارکن، حقوقِ نسواں کی علمبردار اور ادبی ثقافتی تنظیم آگہی کی بانی اور صدر بھی ہیں۔انہوں نے 1973ء میں پنجاب یونیورسٹی سے گریجوایشن کیا مگر برطانیہ میں بھی مزید اعلیٰ تعلیم لندن، برمنگھم واردک اور آکسفورڈ سے حاصل کرتی رہیں۔
ڈاکٹر رضیہ نے سوشل ورک کی اعلیٰ تعلیم برمنگھم اور واردک کی جامعات سے امتیازی حیثیت سے مکمل کرنے کے ساتھ بہترین طالبہ کا اعزاز بھی حاصل کیا۔ انہوں نے سوشل ورک اور سماجی خدمت کو اپنا پروفیشن بنایا۔ ڈاکٹر رضیہ پر ایک وقت ایسا بھی آیا جب وہ چاہتے ہوئے بھی نہ تو کچھ لکھ پائیں اور نہ تو کچھ پڑھنے کو جی چاہا۔کبھی ایسا وقت بھی تھا کہ انہوں نے دس برسوں میں تین افسانوں کے مجموعے لکھ لئے جن میں آدھی چادر، مٹی کی آواز اور افسانچے دائروں کا سفر شامل ہیں مگر ایک ایسا وقت بھی آیا جب دل لکھنے لکھانے سے بالکل اچاٹ ہو گیا۔پھر ایسا بھی ہوا کہ بے چین روح اور مضطرب دل و ذہین کتابوں کی بجائے یادِ اللہ میں سکون محسوس کرنے لگا۔ حج بیت اللہ کے بعد روح کو طمانیت ملی، دعاؤں نے اپنا اثر دِکھایا اور ایک معجزہ رونما ہوا جو پڑھنے کے لائق ہے۔ ڈاکٹر رضیہ اسماعیل آخر ان تمام کیفیات سے نکل گئیں اور یوں اللہ نے ان پر اپنی مہربانیوں کے در کھول دیئے۔ ان پر عنایتوں کی بارش ہونے لگی۔ یوں انہوں نے جنوری 2025ء میں ولایت گم گشتہ کا پہلا ڈرافٹ مکمل کیا، کتاب کو چار حصوں میں ترتیب دیا گیا ہے۔ چار کتابوں کو انہوں نے ایک ہی کتاب میں ضم کر دیا ہے۔ پہلا حصہ ولایت میں ان کی تاریخ ہے پچاس برس کے طویل سفر کے بعد انہیں احساس ہوا کہ میں اپنا وطن اپنی سرزمین کہیں کھوچکی ہوں جس تک رسائی اب باقی نہ رہی ہے۔ دوسرا حصہ آگہی در آگہی ولایت میں ان کے تخلیقی اور ادبی سفر کے علاوہ یہاں خواتین، ادبی،ثقافتی تنظیم آگہی کے قیام اور ارتقاء سے متعلق ہے۔ کتاب کا تیسرا حصہ دہلیز پر بیٹھے لمحے ہے جو ان کے بابا۔اماں، بھائی بہنوں بیٹیوں اور شریکِ سفر کے خاکے ان کی باتیں اور یادیں شامل ہیں۔ اس کتاب کا چوتھا حصہ اسفارِ ماہ و سال پر مشتمل ہے۔ یعنی ان کی زندگی کے گزرے ہوئے وقت کے سفر کی داستان ہے۔ ڈاکٹر رضیہ اسماعیل طویل سفر میں گزرے مراحل تجربات و واقعات اور حالات ان کی مجموعی کہانی ہے انہوں نے ولایتِ گم گشتہ میں اپنی تمام سرگزشت آپ کے سامنے رکھ دی ہے اب آپ اسے پڑھ کر مزید لطف اندوز ہو سکتے ہیں اور یقینا آپ ان کے تجربات سے مستفید بھی ہوں گے،پڑھنا شرط ہے۔
(0)تبصرے