Download the Applications
Get it on Google PlayDownload on the App Store
لاگ آؤٹ
Privacy Policy Terms and Condition
NewsHunt
شاہد محمود
language
پاکستان میں جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں

جب ہم سکول اور کالج کے زمانے میں تھے تو یہی پڑھتے تھے کہ انگریزوں نے ہندوستان کو جی بھر کے لوٹا اور بڑے بڑے بحری جہاز سونے چاندی، قیمتی نوادرات اور اجناس سے بھر کر اپنے ملک لے جاتے رہے۔ ایسٹ انڈیا کمپنی ہندوستان کو سونے کی چڑیا سمجھتی تھی اس لئے تو اس نے اپنی دوراندیشی کی صلاحیت سے اس ملک پر قبضہ کیا اور سچ تو یہ ہے کہ وہ قبضہ آج بھی قائم ہے اور عالمی سیاست کے حوالے سے حالات یہی بتا رہے ہیں کہ یہ قبضہ ہمیشہ قائم رہے گا کیونکہ تقسیم ہند کے بعد بھی بھارت اور پاکستان انگریزوں کو خوش کرنے میں ہی مصروف ہیں اور جو بھی حکمران ان دونوں ممالک میں آتا ہے وہ اول تو انگریزوں کی مدد سے ہی آتا ہے یا پھر حکمران کسی بھی طریقے سے آنے کے بعد ہر معاملے میں انہی کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ ہمارا ملک پاکستان اسلامی جمہوریت کے نام پر قائم ہوا تھا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہاں نہ تو صحیح معنوں میں اسلام رہا اور نہ جمہوریت لیکن اس کے باوجود پاکستان کو ابھی تک اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نام سے ہی پکارا جاتا ہے اور حقیقت یہ لوگ اس نظام سے بڑے خوش ہیں اس کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ اس ملک میں رائج جمہوری نظام کو ہر شخص اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے میں مکمل طور پر آزاد ہے۔ وہ الگ بات ہے کہ بنگلہ دیش، سری لنکا اور نیپال میں جو کچھ ہوا، اس کے بعد بعض افراد یہ کہہ رہے ہیں کہ ان حالات میں پاکستان میں بھی جمہوریت پر خطرات منڈلانے لگے ہیں جبکہ میں ذاتی طور پر یہ سمجھتا ہوں کہ پاکستان میں موجودجمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں ہے کیونکہ اس کا سرا مضبوط ہاتھوں میں ہے اور ابھی نئے مالی سال میں افسروں کی تنخواہوں میں 50فیصد اور جوانوں کی تنخواہ میں 20فیصد اضافہ کرکے ان ہاتھوں کو مزید مضبوط کر دیا گیا ہے۔ بوڑھے، بیمار اور زندگی بھر قوم کی خدمت کرنے والے پنشنرز کی پنشن میں حکومت پنجاب نے پانچ فیصداضافہ کرکے ان کو اس قدر نہال کر دیا کہ وہ اس اعلان کے بعد بینکوں کے باہر لڈیاں ڈال رہے ہیں اور پنجاب کی خوبصورت وزیراعلیٰ پنجاب کی شان میں قصیدے پڑھنے سے نہیں تھکتے۔ اصل میں جو پاکستان میں جمہوریت کو خطرات لاحق ہونے کی افواہیں پھیلا رہے ہیں یہ سب بھارت کے ایجنٹ ہیں جو پیارے پاکستان میں امن و استحکام اور خوشحالی برداشت نہیں کر سکتے، ایسے لوگوں کے خلاف مرکزی اور صوبائی حکومتوں کو سخت ایکشن لیناچاہیے۔ پنجاب کا دانشور طبقہ یہاں کی وزیراعلیٰ مریم نواز کے عوام دوست اقدامات پر بڑا خوش ہے جب سے اس نے عوام کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے پولیس میں اصلاحات شروع کی ہیں ان کا وزیراعلیٰ پر اعتماد مزید بڑھ گیا ہے ان افراد میں سے بعض نے وزیراعلیٰ پنجاب کو مشورہ دیا ہے کہ پولیس فورس میں مزید ایسے یونٹ بنائے جائیں جس سے عوام کو خطرناک جرائم پیشہ افراد سے مکمل تحفظ فراہم ہو سکے۔ ایک دانشور نے تجویز دی ہے کہ پولیس کی نفری میں اس قدر اضافہ کیا جائے کہ ہر ایک قوم کے فرد کے ساتھ ایک پولیس والا تعینات ہو جو صبح سے لے کر رات گئے تک اس قیمتی انسان کو ہر قسم کے مکمل تحفظ کا احساس دلائے اس صورت میں کوئی بڑا سے بڑاجرائم پیشہ بھی قوم کے اس قیمتی شخص پر ہاتھ نہیں ڈال سکے گا۔ اس اقدام سے قوم کے ان ہزاروں بیروزگاروں کو نہ صرف ایک بہتر روزگار میسر آئے گا بلکہ وہ حکومت پر کوئی مشکل وقت آنے پر اس کے لئے ایک مضبوط بازو بھی ثابت ہوں گے۔ اس کے علاوہ کتنے خاندان جو غربت کی چکی میں پس رہے ہیں ان کو مالی سہارا ملے گا اور ملک میں انفرادی اور اجتماعی طور پر خوشحالی کا ایک نیا دور شروع ہوگا اور جمہوریت تو ایسی مضبوط ہو گی کہ کوئی بھی اس کو اپنی جگہ سے ہلانے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکے گا کیونکہ ہر فرد کو خوشحالی کی ضرورت ہے۔ جمہوریت کی نہیں،اگر ہم اپنے پاکستانیوں بھائیوں کی بات کریں تو وہ کسی طرح کے نظام کو بھی جمہوریت کا نام دینے کو بُرا محسوس نہیں کرتے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ نظام درست ہونا چاہیے اس کا کوئی بھی نام کیوں نہ ہو، نیپال میں جو کچھ ہوا وہ قومی سرمائے کی بندربانٹ پر ہوا ہے وہاں کا نوجوان طبقہ اگر مشتعل ہوا ہے تو اس کی بنیاد یہی ہے یا تھی کہ وہاں کا برسراقتدار اور اختیارات کا حامل طبقہ اور ان کی اولادیں عیش کی زندگی گزار رہے تھے جبکہ اس کے برعکس نوجوان طبقہ ہر قسم کی محرومیوں کا شکار تھا۔ مشتعل نوجوانوں نے نیپال کے وزیر خزانہ کے جسم سے آخری لباس تک اتارنے کی جو جسارت کی وہ ان کے غم و غصے کی انتہا تھی لیکن پاکستان میں اس قسم کی صورت حال بالکل نہیں ہے اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ یہاں جب تک کسی کرپٹ شخص کی اربوں کی کرپشن سامنے آتی ہے اس وقت تک وہ ملک سے باہر جا چکا ہوتا ہے اور وہاں منتقل ہونے سے پہلے اپنی شاہانہ زندگی کے انتظامات بھی کر چکا ہوتا ہے ایسی صورت حال میں کرپٹ شخص کو یا اس کی طرف سے لوٹی ہوئی ملکی دولت کو واپس لانا قطعی طور پر ناممکن ہوجاتا ہے کیونکہ قانونی طور پر اتنی پیچیدگیاں ہوتی ہیں کہ حکومت اور اس کے تمام ادارے بے بس ہو کر اس کو آخر کار داخل دفتر کرنے میں ہی اپنی خیریت سمجھتے ہیں اس طرح کے ہزاروں معاملات اب تک سامنے آکر اپنے اختتام کو پہنچ چکے ہیں اس لئے قومی اسمبلی میں کسی معاملے میں کوئی نئی آئینی ترمیم لانے کی ضرورت نہیں ہے جبکہ ہر کام بغیر کسی آئینی ترمیم کے ہی پورا ہو رہا ہو تو بلاوجہ کسی سیاسی لیڈر یا کسی جماعت کے سربراہ کی خوشامد کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ ویسے بھی ہمارے ملک میں رائج جمہوریت کو اتنے پیوندلگ چکے ہیں کہ اب مزید پیوند کی گنجائش نہیں ہے۔ 

مزید :

رائے -کالم -

شیئر کرنا
آرکائیو
پسند

view_more_opinions_from شاہد محمود

(0)تبصرے