اکثر لوگ لنڈے کے پرانے کپڑے پہننے کو برا سمجھتے ہیں۔ اگر کسی کو پتہ چل جائے کہ دوسرے نے لنڈے کے کپڑے پہنے ہیں تو اس کو تضحیک کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ایسا نہ بھی ہو تو اس کو عجیب نظروں سے ضرور دیکھا جاتا ہے۔
سوشل میڈیا پر ایک صاحب کی ویڈیو دیکھی فرما رہے تھے عوام لنڈے کے کپڑے پہنیں اور سیاستدانوں کے بچے یورپ، امریکہ اور برطانیہ میں عیش کریں۔ سمجھ نہیں آیا اعتراض کس چیز پر ہے عیش پر یا امریکہ برطانیہ میں عیش پر۔ وہ صاحب شائید نہیں جانتے ہوں گے کہ کچھ لوگوں کے لیئے لنڈے کے کپڑے پہننا بھی عیاشی ہو سکتا ہے۔ لہذا ایسی سوچ رکھنے والوں سے التماس ہے وہ ایسی شاندار ویڈیوز بنا کر خود ہی دیکھا اور انجوائے کیا کریں۔ دوسروں کو اپنی شاندار سوچ سے محروم ہی رکھیں۔
عموماً لنڈے سے کی گئی شاپنگ کو غربت کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔ جبکہ وہاں تو بڑے بڑے صاحب حیثیت لوگ شاپنگ کرتے پکڑے گئے ہیں۔ کچھ معززین تو ایسے ہیں جو لنڈے کے کپڑوں کو امپورٹڈ کہہ کر خوشی خوشی پہنتے اور دوست احباب کو گفٹ بھی کرتے ہیں۔
اللہ جانتا ہے ان گنہگار اور کئی بے گناہ آنکھوں نے بڑے بڑے رئیسوں کو بھی اسی بازار میں خجل ہوتے دیکھا ہے۔ میرے ایک عزیز تھے جو کاروبار کے سلسلے میں جرمن اور ہالینڈ جاتے رہتے تھے لیکن جب شاپنگ کرنا ہوتی تو وہ اسی بازار کا رخ یہ کہہ کر کرتے کہ جو مال یہاں ملتا وہ جرمن میں بھی میسر نہیں۔
لنڈے کے مال کو غریبوں سے منسوب تو کر دیا گیا ہے لیکن واقفان لنڈا کے مطابق اصل مال امیر لے اڑتے ہیں کہ ہیرے کی پہچان جوہری ہی جانتا ہے۔ اس لیئے اگر کہا جائے کہ غریبوں کا سب سے زیادہ استحصال اسی بازار میں ہوتا ہے تو جھوٹ نہیں۔ اگر کوئی امیر رشتے دار آپ کو لنڈا بازار میں نظر آجائے تو اسے دیکھ کر چھپنے کی کوشش مت کریں۔ وہ آپ کو ڈھونڈنے نہیں اسی مقصد کے لئے ادھر آیا ہے جس کے لئے آپ یہاں آئے ہیں۔
لنڈے کی چیز پہن کر شرمندہ ہوں نہ احساس کمتری میں مبتلا۔ اس لئے کہ یہ آپ نے اپنے حق حلال کے پیسوں سے خریدا ہے۔ اور جس چیز کے دام چکائے ہوں وہ قیمتی ہی ہوتی ہے۔ ہم میں سے اکثر لوگ سیکنڈ ہینڈ گاڑی خریدتے ہیں، فریج ٹی وی و دیگر اشیاء بھی سیکنڈ ہینڈ خرید کر خوش ہوتے ہیں تو پھر کپڑے سیکنڈ ہینڈ پہن کر چہرے پہ تاریکی کیوں؟
جن لوگوں کو لنڈے کے کپڑے پہننے پر شرم محسوس ہوتی ہے وہ جان لیں کہ لنڈا پہننے والی ہم پہلی قوم ہیں نہ آخری۔ امریکہ کینیڈا سمیت دنیا کے تمام ممالک میں لنڈا لگتا ہے۔ یہاں ہم اسے لنڈا کہتے جبکہ وہاں کسی اور نام سے یہ دوکانیں موجود ہیں۔
وہ لوگ جو لنڈا بازار جانے سے ہچکچاتے ہیں وہ اگر پر اعتماد ہوکر لنڈے سے خریداری کرنا چاہتے تو انہیں چاہئے ایک چکر برینڈڈ دوکانوں پر لگا آئیں۔ وہ جان لیں گے لنڈے میں رش زیادہ ہوتا ہے۔ لنڈا کسی خزانے سے کم نہیں اس لئے کہ یہاں اکثر بہت اچھے کپڑے انتہائی سستے داموں مل جاتے ہیں۔ نئے یا پرانے کے جھگڑے میں مت پڑیئے جو بھی نئی چیز خریدی جائے وہ استعمال کے بعد پرانی ہو جانی ہے۔
(0)تبصرے