Download the Applications
Get it on Google PlayDownload on the App Store
لاگ آؤٹ
Privacy Policy Terms and Condition
NewsHunt
زبیر بسرا
language
یکساں تعلیمی نظام کی اہمیت

انگریز کی آمد سے پہلے برصغیر میں جو تعلیمی نظام رائج تھا اس میں فارسی زبان کو یہی حیثیت حاصل تھی،جو آج کل انگریزی کو حاصل ہے فارسی زبان دنیا کی قدیم زبانوں میں شمار کی جاتی ہے،جو ایران کے علاوہ وسط ایشیائی ممالک میں بھی بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ سہل پند و نصاحء شعر و شاعری قصے کہانیوں اور قدیم داستانوں پر مبنی زبان ہے۔ انگریزوں نے برصغیر پر قابض ہوتے ہی انگریزی زبان کو ہندوستان کی سرکاری ذبان قرار دیا اور ایک ایسا تعلیمی نظام نافذ کیا، جس کے ذریعے مغربی تہذیب و تمدن عام ہو جائے خصوصاً مسلمان اپنی ثقافت رسم و رواج کو ترک کر دیں۔ انگریز کی اس پالیسی کو غیر مسلم قوموں اور رہنماؤں نے فوراً اپنا لیا اور انگریز کے ساتھ حکومتی امور میں تعاون کرنا شروع کر دیا۔ ان کا مقصد مسلمان کو پستی اور جہالت میں مبتلا کرنا تھا جس میں وہ بڑی حد تک کامیاب رہے۔

سر سید احمد خاں نے ان کے مقاصد کو بھانپ لیا اور مسلمان قوم کے لئے علی گڑھ میں تعلیمی ادارے قائم کیے۔ قوم سر سید احمد خاں کی ممنون ہے کہ ان کی بصیرت، کوشش اور جذبے کی وجہ سے آزادی سے فیض یاب ہوئی۔ 

قیام پاکستان کے بعد اردو کو قائداعظمؒ نے پاکستان کی سرکاری زبان قرار دیا جو نہایت موزوں فیصلہ تھا لیکن صد افسوس کہ اردو کو آج تک وہ مقام حاصل نہ ہو سکا جو انگریزی کو ہے۔ تاحال انگریزی ہی سرکاری زبان چلی آ رہی ہے۔

اِس وقت ملک میں متعدد تعلیمی نظام نافض ہیں جس کی وجہ سے قومی یکجہتی معاشی پستی اور معاشرتی بگاڑ کی صورتحال کا سامنا ہے۔ انگریز کے قائم کردہ تعلیمی ادارے ایچ ای سن کالج لاہورکالج کے نام سے ہی ظاہر ہے کہ اس میں عام آدمی کے بچے تعلیم حاصل نہیں کر سکتے۔ یہ کالج نوابوں سرداروں اور جاگیرداروں کے بچوں کی تعلیم و تربیت کے لئے بنایا گیا تھا اس کالج کے تعلیم یافتہ کسی نہ کسی صورت میں ہر حکومت میں شامل رہے ہیں اور اپنے اپنے علاقوں میں انگریزوں کے بلواسطہ نمائندے سمجھے جاتے ہیں۔ انگلستان میں ابھی تک ایسے لوگوں کی سرکاری طور پر پذیرائی رہی ہے۔ وطن عزیز کی ترقی میں یہ طبقہ بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔

سرکاری تعلیمی نظام آزادی کے بعد ملک بھر میں نافذ کیا گیا جو قوم کے لئے مفید ثابت ہوا عام آدمی بھی اس نظام کے تحت تعلیم حاصل کر سکتا ہے۔ سرکاری سکولوں اور کالجوں سے تعلیم حاصل کر کے بے شمار لوگ انجینئر  ڈاکٹر اعلیٰ افسر قانون دان بن گئے۔ زمین پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے والے خوش اخلاقی اور خدمت گزاری کا نمونہ ہوتے ہیں۔

افسوس کہ یہ نظام بھی بدانتظامی کی نذر ہو گیا۔سرکاری سکولوں کا معیار گرتا چلا گیا جس کا فائدہ اُٹھا کر علم کے تاجروں نے پرائیویٹ سکول قائم کرنا شروع کر دیئے جو امر بیل کی طرح ملک کے کونے کونے میں پھیل گئے بظاہر یہ سکول انگلش میڈیم ہیں لیکن ان کے اساتذہ میں سے شاید ہی کوئی کسی انگلش میڈیم ادارے کا تعلیم یافتہ ہو۔ سرکاری سکولوں سے تنگ آئے عوام بھاری اخراجات برداشت کر کے اپنے بچے پرائیویٹ سکولوں میں داخل کرواتے ہیں۔ 

ملک کے بیشتر شہروں میں مسیحی تعلیمی ادارے بھی موجود ہیں۔ کچھ لوگ اچھی تعلیم کی غرض سے اپنے بچے ان سکولوں میں داخل کرواتے ہیں جو کہ بچے کو اسلامی تہذیب و تمدن سے گمراہ کر دیتا ہے۔ مثلا جان صبح سویرے اٹھتا ہے، ہاتھ منہ دھوتا ہے اور چرچ جاتا ہے۔معاشرتی ملک میں قائم بیشتر تعلیمی اداروں میں مخلوط تعلیمی نظام نافذ ہے جس کی وجہ سے کئی مسائل کا سامنا ہے۔ آئے دن ان اداروں کے متعلق افسوسناک واقعات کی خبریں آتی رہتی ہیں۔ ان کی وجہ سے بے پردگی، بے حیائی فروغ پا رہی ہے۔ جو ہماری معاشرتی زندگی کے لئے نقصان دے ہے۔مذہبی مدارس کا اپنا الگ تعلیمی نظام ہے جو زیادہ تر عربی اور فارسی زبان میں ہے۔ مذہبی تعلیم ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے لیکن اب ان مدارس میں وہ روح باقی نہیں رہی جو قدیم مدارس میں تھی۔ 

رہ گئی رسمِ اذاں روحِ بلالی نہ رہی

فلسفہ رہ گیا تلقینِ غزالی نہ رہی

ہر مسلک کے الگ مدارس ہیں اور مساجد بھی علیحدہ ہیں جس کی وجہ سے ملت فرقوں میں بٹ گئی ہے۔ 

جب تک ملک میں یکساں تعلیمی نظام نافذ نہ ہوا قومی یکجہتی معاشی ترقی اور تہذیب و تمدن میں بہتری محض خواب ہی رہے گی۔ 

٭٭٭٭٭

مزید :

رائے -کالم -

شیئر کرنا
آرکائیو
پسند

view_more_opinions_from زبیر بسرا

(0)تبصرے